100
نم ہوا خود نہ کوئی موج نتھاری تو نے
عمر کس دجلۂ حیرت میں گزاری تو نے
رحم ہر شخص کی آنکھوں میں نظر آتا ہے
دیکھ حالت جو بنا دی ہے ہماری تو نے
دوسری بار محبت میں بڑی عجلت کی
مجھ سے سیکھی ہی نہیں صبر شعاری تو نے
ایک تو اپنے تماشے سے ہی شرمندہ ہوں
اس پہ یہ دکھ ہے کہ تالی نہیں ماری تو نے
آج بھی اس میں ہیں خوش باش ترے چھوڑے ہوئے
کل جو دیوار سے تصویر اتاری تو نے
کام جنگل میں مرا ختم ہوا اور اب سے
ہر پرندے کو بچانا ہے شکاری تو نے
میں جو اجڑا تو نہیں کوئی دعا بھی ، ھا ھا
اپنی اوقات دکھا دی ہے بھکاری تو نے
ہم وہ سف٘اک جو پھر ہارنے سب کچھ اپنا
آ کے کہتے ہیں کہ پہچانا جواری تو نے
ڈوبنے والے سے یہ طنزیہ پوچھوں گا ضمیر
میں نے تو ناؤ کو سمجھا تھا سواری ،،، تو نے ؟
ضمیر قیس
