111
اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو
ہم لوگ جب ملیں تو کوئی دوسرا بھ ہو
تو جانتا نہیں مری چاہت عجیب ہے
مجھ کو منا رہا ہے کبھی کود خفا بھی ہو
تو بے وفا نہیں ہے مگر بے وفائی کر
اس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو
پت جھڑ کے ٹوٹتے ہوئے پتوں کے ساتھ ساتھ
موسم کبھی تو بدلے گا یہ آسرا بھی ہو
چپ چاپ اس کو بیٹھ کے دیکھوں تمام رات
جاگا ہوا بھی ہو کوئی سویا ہوا بھی ہو
اس کے لیے تو میں نے یہاں تک دعائیں کیں
میری طرح سے کوئی اسے چاہتا بھی ہو
بشیر بدر
