472
سکوت شام میں گونجی صدا اداسی کی
کہ ہے مزید اداسی دوا اداسی کی
بہت شریر تھا میں اور ہنستا پھرتا تھا
پھر اک فقیر نے دے دی دعا اداسی کی
امور دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں
یہاں فقط تری چلتی ہے یا اداسی کی
چراغ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا
کہ آج رات چلے گی ہوا اداسی کی
وہ امتزاج تھا ایسا کہ دنگ تھی ہر آنکھ
جمال یار نے پہنی قبا اداسی کی
اسی امید پہ آنکھیں برستی رہتی ہیں
کہ ایک دن تو سنے گا خدا اداسی کی
شجر نے پوچھا کہ تجھ میں یہ کس کی خوشبو ہے
ہوائے شام الم نے کہا اداسی کی
دل فسردہ کو میں نے تو مار ہی ڈالا
سو میں تو ٹھیک ہوں اب تو سنا اداسی کی
ذرا سا چھو لیں تو گھنٹوں دہکتی رہتی ہے
ہمیں تو مار گئی یہ ادا اداسی کی
بہت دنوں سے میں اس سے نہیں ملا فارسؔ
کہیں سے خیر خبر لے کے آ اداسی کی
رحمان فارس
