109
دن گزارا ہے ترے ساتھ قیامت کی طرح
رات رکھ دو مرے قدموں میں عبادت کی طرح
میں بھی کیا شخص ہوں پھرتا ہوں تری گلیوں میں
منھ چھپائے ہوئے برسوں کی ملامت کی طرح
میں اکیلا نہیں راتوں کے سَروں پر خطرہ
چاند نکلا ہے مرے ساتھ حمایت کی طرح
جب سے اُس سر پہ محبت کی ہُما بیٹھی ہے
راج کرتا ہے مرے دل پہ حکومت کی طرح
رنگ ڈالی ہے لہُو سے تری چادر میں نے
آ گری تھی مری چھت پر وہ شکایت کی طرح
ہاتھ لگنے سے تُو میلا نہ کہیں ہو جائے
پاس رکھوں گا تجھے اپنی امانت کی طرح
حافظؔ زین العٰابدین
