خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشامِ تنہا کس طرح سحر ہوتی ہے!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

شامِ تنہا کس طرح سحر ہوتی ہے!

از سائیٹ ایڈمن مارچ 5, 2023
از سائیٹ ایڈمن مارچ 5, 2023 0 تبصرے 30 مناظر
31

آج ہم مسائل کی دلدل میں بری طرح پھنس گئے ، معاشی حالات ہوں یا معاشرتی مسائل نے ہمیں آن گھیرا۔ یہ کسی کا نہیں ، اپنا بویا بیج ہے۔ انسان جب طاقت میں ہوتا سب بھول جاتا ۔ اس کی عکاسی شگوفۂ محبت میں مصنف نے یوں کی ہے:ْْمحبت میں ایک عدل و داد کہ ملک جس سے آباد ہوتا ہے، رعایا کا دل شاد ہوتا ہے، اس میں بے مثل لاثانی تھا۔ فی الحقیقت زینت بخش سریر سلطانی تھا۔ گردن کشانِ دہر غاشیۂ اطاعت بر دوش رہتے تھے۔ سطوت و صولت سے باختہ سب کے ہوش رہتے تھے۔ فوج ظفر موج عدد اور شمار سے افزوں، ہزراہا گنج رشک خزانۂ قارون، وزیر امیر عقیل امانت دار دیانت شعار، پسینے پر لہو بہانے والے جان نثار ندیم فہیم ادیب غریب فہمیدہ، طبیب عجیب سنجیدہ، زمانے کے چیدہ، امورات جہان نیرنگی گردونِ گردان سے فارغ البال، لاولدی کے غم چھٹ، رنج نہ ملال، اکثر سلطنت کی ضرورت سے فرصت پا کے تخلیہ میں وہ ندیم تجربہ رسیدہ سیاہ روزگار اور وہ حکیم جہاں دیدہ فلاطون شعار جو تھے سب کو بلا کے ان سے گفتگو رہتی تھی کہ دنیا مقام گذران ہے، ہر شخص یہاں رواں دواں ہے۔ بجز ذاتِ پروردگار یہاں کے لیل و نہار کو ایک ڈھنگ پر دم بھر ثبات و قرار نہیں۔ یہاں کی ہر شے سے پیدا ہے کہ پائدار نہیں۔ خدا نے ساز و سامانِ سلطنت، اسبابِ شوکت و حشمت سب کچھ عطا کیا مگر وارث اس کا جو پیدا نہ ہوا تو ہم نے یہ سب جمع کر کے کیا کیا۔ جو کچھ ہے، ہم تو اس کے چھوڑنے کی حسرت قبر میں لے جائیں گے، ہر شے کے واسطے ایک وقت معین مقرر ہے، غیب کی کس کو خبر ہے۔ کسی کو وقت سے پیش اور مقدر سے بیش کچھ ملا نہیں، حاکم کا گِلا نہیں۔ یہ سن کے چپ ہو رہتا۔ گو دل کا نہ ملال جاتا، کج بحثی نہ کرتا، ٹال جاتا۔
ایک روز نصف شب گذری، اس کی آنکھ کھل گئی، وہی خیال بہرحال رہتا تھا، صدمے سہتا تھا۔ الجھن میں نیند نہ آئی، دفعۃً زیادہ جو گھبرایا، سلطنت سے منہ کو موڑا، سرد آہ بھر کر گرم رفتار ہوا، شہر کو خالی چھوڑا، بے توشہ و زادِ راہ وہ بادشاہ جنگل کی طرف چل نکلا۔ شب تیرہ و تار، رفیق نہ غمگسار۔ اندھیری رات، میدان کی سائیساں، عقل گم، ہوش حواس پرّاں، نہ سواری کا اہتمام، نہ لوگوں کی دھوم دھام، نہ صدائے نقارہ، نہ ندائے بوق و کوس، پیادہ پا یکہ و تنہا بصد حسرت و افسوس بُری نوبت سے کئی کوس طے کیے کہ فلک جفا پسند پُر گزند نے وہ خراب حال دکھانے کو شمع مومی و کافوری کے فراق میں جلانے کو مشعلِ ماہ آسمان اول پر روشن کی۔ اب جو کوئی ٹھوکر کھائے تو پستی و بلندی نظر آئے۔ پہاڑ دیکھا سر بفلک کشیدہ، چوٹی اُس کی آسمان سے ملی، ہر قسم کا درخت خود رو پھولا پھلا تھا۔ جنگل تک پھولوں کی بو باس سے مہک رہا تھا، جس کو جینے سے یاس ہو، اس کو مرنے کا کب وسواس ہو۔ بادشاہ کو نہ درندے کا ڈر تھا نہ گزندہ سے خوف و خطر تھا۔ مردانہ وار قدم ہمت بڑھاتا تھا، بے تکلف اُس نشیب و فراز میں چڑھا جاتا تھا۔ جب تھکتا تو کسی پتھر پر بیٹھ جاتا، دم لے کے آگے قدم اٹھاتا۔ القصہ بہزار خرابی راہ طے کی، اوپر پہنچا۔ اس عرصے میں صبح کا سپیدا چمکا۔ جانوران خوش الحان بذکر یزدان زمزمہ سنج اور نغمہ پرداز ہوئے، درِ اجابت حاجت مندوں پر باز ہوئے اور سجادہ نشینِ چرخ اول نے جانمازِ انجم لپیٹی۔ و الفجر کی صدا آئی۔ زاہد فلک چارم چونکا، اپنی چمک دمک دکھائی، جہاں تک نگاہ گئی گلہائے رنگا رنگ نظر آئے، چشمہ ہائے سرد و شیریں جا بجا جاری پائے۔ اس نے وضو کر کے نماز صبح پڑھی پھر دستِ دعا بدرگاہ خالقِ ارض و سما بلند کر کےبہت رویا، کہا “اے پروردگار! کل تو وہ شان و شوکت تھی، آج عالم تنہائی اور یہ سامان ہے۔ تو قادر و توانا علیم و دانا ہے، اگر مژدۂ تمنا پاؤں گا تو مُنہ لوگوں کو دکھاؤں گا، وگرنہ اس پہاڑ سے نیچے گر کے جان دوں گا، دربدر بہکتا نہ پھروں گا”۔
یہ تو اس شغل میں تھا، دفعۃً ایک مرد بزرگ سن رسیدہ گرم سردِ زمانہ دیدہ نظر آئے۔ عمامہ سر پر، عبا زیب دوش و بر، داہنے ہاتھ میں کنٹھا بائیں میں عصا، زیتون کا وظیفہ پڑھتا قریب آیا۔ بادشاہ اٹھ کر کھڑا ہوا، سلام کیا۔ اس نے جواب دے کر کہا “اے شہر یار باوقار! اتنے سے امتحان میں اُس کی رحمت کی وسعت کو بھول گئے، ہاتھ پاؤں پھول گئے”۔ آذر شاہ سمجھا کہ گو اس کا مسکن کوہ وجبال ہے مگر یہ برگزیدہ مقرر صاحب کمال ہے۔ لجاجت اور سماجت سے اپنی گذشتہ داستان مشروحاً بیان کی۔ اس مقبول ذو الجلال شیریں مقال نے فرمایا کہ یہ امور تقدیر ہیں، اضطراب اس میں بیجا ہے۔ بابا دنیا کا معاملہ بہت ٹیڑھا ہے۔ حکومت، تدبیر، عقل، مال و زر، فوج لشکر یہاں سب کچھ بیکار ہے۔ حاکم احکم الحاکمین ہے، اس کا اختیار ہے؛ بہر حال اسی سے التجا کرو۔ محتاجوں کی حاجت بر لاؤ، بھوکے کو کھانا، ننگے کو کپڑے پہناؤ۔ سوال کسی کا نہ رد کرو۔ دعا مانگنے میں کد کرو، وہ ارحم الراحمین مشہور ہے۔
اس کلام سے بادشاہ کی یاس امید سے بدل گئی، طبیعت سنبھل گئی۔ پوچھا کہ آپ کون ہیں، جگہ یہ کیا ہے، بود و باش کیونکر ہے، معاش کیونکر ہے، تنہا ہو یا شریک اور کوئی بندہ خدا ہے۔ دن رات کس شغل میں بسر ہوتی ہے، شامِ تنہا کس طرح سحر ہوتی ہے۔ وہ مرد پیر با دل دلگیر بیٹھ گیا، کہا “اے سلطان ذی شان! یہ بڑی داستان ہے مگر عبرت کرنے کا بیان ہے۔ اور تو مضطر ہے، تجھ سے کہنا بہتر ہے۔ بگوش ہوش سُن اے والا نژاد! بندہ بھی آدم زاد ہے۔ یہ جو موسم جوانی عالم شباب ہوتا ہے بہت خراب ہوتا ہے۔ انسان بے خوف و خطر ہوتا ہے۔ نہ خدا سے شرم نہ حاکم کا ڈر ہوتا ہے۔ اُن دنوں میرا پیشہ قزّاقی کا تھا، انکار خدا کی رزّاقی کا تھا۔ ہاتھ پاؤں میں یہ طاقت تھی کہ ہزار جوان جرّار کا یکہ و تنہا مقابلہ کرتا تھا۔ قتل اور غارت پر اوقات تھی۔ بہ تمنائے زر و مال بہرحال دن رات کشت و خون میں اوقات بسر ہوتی تھی۔ نفع دنیا میں عقبیٰ کا ضرر تھا۔ مجھ کو کچھ خبر نہ ہوتی تھی۔ اتفاقاتِ زمانہ ایک پری پیکر نوجوان با لباس پُر زر، سترہ اٹھارہ برس کا سن، شباب کے دن، برق دم گھوڑا، طلائی مرصع کار ساز ویراق، ہتھیار کی قسم سے فقط قرولی کمر میں، خود غرقِ دریائے جواہر مگر اُس غزال چشم کے شیر سے بُرے تیور۔ میں تو ہزار خونخوار کا تنہا شکار کرتا تھا، وہ جو نمود ہوا تو نظر میں حلوائے بے دود ہوا۔ نرم آواز سے مَیں نے کہا یہ سب ساز و سامان اے نادان یہاں رکھ دے اور گھر کو سیدھا پھر جا۔ تیرے حال پر رحم آتا ہے، اس صورت کے انسان کو کون ستاتا ہے۔ اسے نہ خوف ہوا نہ ہراس ہوا، نہ مجھ سے ایذا پہنچنے کا وسواس ہوا۔ بکشادہ پیشانی میرے پاس آ کے جواب دیا کہ اے شخص تو بھی بشر ہے، بندۂ خدا ہے مگر یہ کام جو تو نے اختیار کیا ہے اس میں شر ہے، بہت بُرا ہے۔ درِ توبہ باز ہے، آقا بندہ نواز ہے۔ اس فعل لغو سے منفعل ہو، توبہ کر۔ میرے خیال سے درگذر کہ میں ستم رسیدہ یکہ و تنہا جریدہ ہوں، مُورِدِ رنج و محن غریب الوطن، یار و دیار سے جدا، اللہ اعلم ہے کس مصیبت میں مبتلا ہوں۔ا ور جو تجھ کو اپنے زور و طاقت کا گھمنڈ ہے تو بیجا ہے کہ ہر فرعون کے واسطے ایک موسیٰ خلق میں خلق ہوا ہے.

عابدضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مرے چاند رک مری بات سن
  • ایسی پستی ایسی بلندی
  • کورونا کے ساتھ انگلینڈکرکٹ سیریز!
  • اردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
غیر آئینی بندوبست اور عوامی احتجاج
پچھلی پوسٹ
دن گزارا ہے ترے ساتھ قیامت کی طرح

متعلقہ پوسٹس

جان لیوا وبائیں اور مسلمان سائنسدان!

اپریل 11, 2021

توبۃ النصوح – فصل یازدہم

اکتوبر 30, 2020

اپنی اپنی الگ زبان میں شور

نومبر 18, 2020

کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ

نومبر 12, 2019

تبدیلئ مزاج کو آب و ہوا ملے

اپریل 23, 2022

خواہش ہے آئینے پہ تجھے آئینہ کروں

جنوری 13, 2020

میرے لفظوں میں جہاں لطف و معانی آئے

مئی 8, 2020

جو نہ کارِ خیر میں گزرے کیا ہے زندگی

جولائی 13, 2022

ہوا کے ساتھ کوئی حرفِ چشمِ تر جائے

فروری 5, 2020

خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ کا طرز خلافت

جولائی 20, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کسک

نومبر 7, 2021

شیخوپورہ: کون جیت سکتا ہے اور...

جنوری 29, 2024

انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں...

جنوری 29, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں