388
دامن گل میں کہیں خار چھپا دیکھتے ہیں
آپ اچھا نہیں کرتے کہ برا دیکھتے ہیں
ہم سے وہ پوچھ رہے ہیں کہ کہاں ہے اور ہم
جس طرف آنکھ اٹھاتے ہیں خدا دیکھتے ہیں
کچھ نہیں ہے کہ جو ہے وہ بھی نہیں ہے موجود
ہم جو یوں محو تماشا ہیں تو کیا دیکھتے ہیں
لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص ہے خوشبو جیسا
ساتھ شاید اسے لے آئے ہوا دیکھتے ہیں
زاویہ دھوپ نے کچھ ایسا بنایا ہے کہ ہم
سائے کو جسم کی جنبش سے جدا دیکھتے ہیں
اس قدر تازگی رکھی ہے نظر میں ہم نے
کوئی منظر ہو پرانا تو نیا دیکھتے ہیں
اب کہیں شہر میں عاصمؔ ہے نہ غالبؔ کوئی
کس کے گھر جائے یہ سیلاب بلا دیکھتے ہیں
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
