471
آہ جو دل سے نکالی جائے گی
کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی
اس نزاکت پر یہ شمشیر جفا
آپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی
کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کو
اور اک بوتل چڑھا لی جائے گی
شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا
احتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی
یاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوں
کب تری یہ کج خیالی جائے گی
اکبر الہ آبادی
