100
نصف سے دیکھ ذرا کم نہ زیادہ آدھا
بانٹ لیتے ہیں محبت تجھے آدھا آدھا
مہرباں عشق مجھے کاٹ دیا جائے گا
ہونے والا ہے مرا دست کشادہ آدھا
چوک میں دیکھنے والے تھے تماشہ اس کا
جس کو غربت میں میسر تھا لبادہ آدھا
میرے بے حس میں تجھے ملنے نہیں آؤں گی
آج تقسیم ہوا میرا ارادہ آدھا
کوزہ گر مجھ کو بکھرنا ہے بکھر جانے دے
میری تجسیم میں شامل ہے برادہ آدھا
تیری دنیا بھی مری طرح اجڑ جائے گی
رہ گیا مجھ میں اگر صبر کا مادہ آدھا
باقی آدھی تو کسی اور کی مٹھی میں دبی
پشت پر میں نے تجھے زیست ہے لادا آدھا
کومل جوئیہ
