خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانظام عدل
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

نظام عدل

از سائیٹ ایڈمن جولائی 19, 2020
از سائیٹ ایڈمن جولائی 19, 2020 0 تبصرے 103 مناظر
104

نظام عدل

سب سے پہلے تو اپنی قومی زبان میں SOP اور JIT کا مطلب سمجھانا اپنافرض سمجھتا ہوں۔ کسی کام کو سرانجام دینے کا ایک میعاری طریقہ کارمرتب کرنے کو انگریزی زبان میں Standard Operating Procedure یعنی SOP کہتے ہیں، اسی طرح سے کسی رونما ہونے والے واقع یا حادثے کی منصفانہ اور شفاف جانچ پڑتال کیلئے مختلف اداروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جاتی ہے جسے انگریزی میں Joint Investigation Team یعنی کہ JIT کہا جاتا ہے۔ ہم پاکستانیوں کی سہل پسندعادت کی بدولت باآسانی کسی بھی زبان کے الفاظ کو اردو کے رنگ میں ڈھال کے اسکا حصہ ہی بنا کر چھوڑدیتے ہیں یہ جانے بغیر کے کیا ہماری قومی زبان میں ان الفاظ کر ترجمہ موجود ہے کہ نہیں۔ سونے پر سوہاگا ہمارے ارباب اختیارجو قومی زبان کو اہمیت دینے سے قاصر رہے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ ہم پاکستانی ان ناموں کو اصطلاحی طور پر تو سمجھ گئے ہوں لیکن قومی زبان میں آگہی پہنچانا ہم نے اپنا فرض سمجھا ہے۔ جیسا کہ کورونا کی وجہ سے لفظ SOP بہت زیادہ استعمال کیا جارہا ہے جس میں سب سے اہم ترین SOP اور سب سے کارگر احتیاطیں ایک دوسرے سے مصافہ نا کرنا،بار بار ہاتھ دھونا یا سینیٹائزر کا استعمال کرنا، چھینک آئے تو منہ کو ڈھانپنا، ماسک پہننا یعنی جب باہر نکلیں یا ایک سے زیادہ افراد کی موجودگی ہو تو ناک اور منہ کو ڈھنپیں رکھیں، ایک دوسرے سے تقریباً تین فٹ کا فاصلہ رکھیں اور غیر ضروری طور پر باہر نا نکلیں۔ اس بنیادی SOP پر عمل درآمد کیلئے مخصوص اوقات کار طے کئے گئے کہ کتنے بجے سے کتنے بجے تک گھر سے ضرورت کے مطابق باہر نکلا جاسکتا ہے۔ SOP کو نافذ العمل بنانے کیلئے قانون کو بھی بھرپور حرکت میں لایا گیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک بار پھر عوام میں آگہی پہنچانے اور ساتھ ساتھ دیگر کاموں میں بھی ہر اول دستے کے طور پر سامنے آئے۔موجودہ حالات میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے د طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں، یہ وہ مجاہدین ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبہاتے ہوئے اگر اپنی زندگی ہار بیٹھیں تو انہیں شھید کا درجہ دیا جائے گا۔ کورونا کی مرہون منت تقریباً ہر شعبہ ہائے زندگی کیلئے SOP تیار کی گئیں ہیں (یہ اور بات ہے کہ ان پر کہاں تک عمل کیا جارہا ہے)، ان SOP کی بدولت سنگین حالات کو کسی حد تک عام کیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ SOP جوکہ آنے والے وقتوں میں بھی مختلف معاملات سے نبرد آزما ہونے کیلئے بھی ترتیب پاتے رہیں گے اور امید کی جاتی ہے اس طریقے SOP سے عوام میں معاشرتی شعور بھی اجاگر ہوگا۔

آئیں JIT کو جتنا سمجھتے ہیں اس میں کچھ اضافہ کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں اورہم صرف ان تین الفا ظ کے مرکب پر بات کرینگے۔ جیسا مذکورہ بالا سطور میں یہ تو واضح کردیا گیا ہے کہ کسی رونما ہونے والے واقع یا حادثے پر منصفانہ اور شفاف جانچ پڑتال کرنے کی JIT تشکیل دی جاتی ہے۔ JITکی تشکیل واقع یا حادثے کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔پچھلے زمانوں میں جب تکنیکی صلاحتیں محدود تھیں اور لوگ جیب میں موبائل کی صورت مکمل تحقیقاتی آلہ لئے نہیں گھومتے تھے اور نا ہی جگہ جگہ حفاظتی کیمرے نصب ہوتے تھے اور لوگوں کے پاس کرنے کیلئے اور بہت سارے کام بھی ہوتے تھے، تب کچھ مخصوص لوگ کسی بڑے حادثے یا سانحے کے کچھ عرصے کے بعد انکشافات کیا کرتے تھے، یہ انکشافات کتابی صورت میں ہوتے تھے یا پھر کسی ادارے کو دئے گئے انٹرویو کی بدولت عام ہوتے تھے لیکن تب تک سارا معاملہ ٹھنڈا ترین ہوچکا ہوتا تھا اور لوگ صرف جان کاری کیلئے پڑھ یا دیکھ لیتے تھے اور بہت ہی قلیل وقت میں یہ سب تاریخ کا حصہ بن جاتا تھا۔ JITملک کے نامی گرامی شخصیات سے تحقیقات کیلئے بنتی رہی ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ JIT تو غائب ہوجاتی ہے(تحریر بھی اور تحریر کرنے والے بھی) لیکن وہ قابل قد ر شخصیات اور بااثر ہوکر منظر عام پر ہی رہتے ہیں۔گو کہ JIT ایک اچھا اقدام ہے لیکن کیا ابتک کسی JIT پر عمل درآمد ہوا ہے؟کیا آجتک بننے والی JITبغیر کسی تنقید کے من و عن تسلیم کر لی گئی ہے؟ کیا JIT میں شامل لوگوں پر سوال نہیں اٹھائے گئے؟اور بھلا کیا JIT کی اہمیت سے قانون کی بالادستی کو تقویت میلی ہے؟کیا JIT ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالیہ نشان نہیں ہے؟یہ وہ سوالات جو جب کبھی بھی JIT کاکے الفاظ پڑھے جاتے ہیں تو ہم پاکستانیوکے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہیں۔ نا چاہتے ہوئے بھی JIT کی ادھیڑ بن میں چلے گئے۔ ہماری سیاست کا یہ ایک جدید جز ہے کہ پاکستانیوں کو کسی نا کسی اصطلاح میں الجھائے رکھا جائے۔حالات کی سنگینی دیکھئے کہ ملک کے مختلف شہروں سے راایجنسی کے ہر کارے بھی پکڑے جا رہے ہیں لیکن ہمارے سیاست دان وہ کام سرانجام دینے پر تلے ہوئے ہیں کہ جو ان ہرکاروں کے بس میں نہیں ہوتا۔ کوئی ان سیاسی بازیگروں سے یہ سوال کیوں نہیں کرتا کہ آپ جس چیز پر تنقید کر رہے ہیں بھلا کیا آپکے دور میں اللہ واسطے مل جایا کرتی تھی یا عوام نے آپ کے دور میں کبھی سکھ کا سانس لیا تھا۔ ہمیشہ ہی تین ماہ یا چھ ماہ میں حکومت کے خاتمے کی باتیں ہوتی رہی ہیں لیکن جیسے تیسے وقت پورا ہو ہی جاتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ موجودہ ٹوٹی پھوٹی مخالف جماعتوں پر مبنی اپوزیشن کسی خوف میں مبتلاء ہو اور اپنے ڈر سے باہر نکلنے کی کوششوں میں موجودہ حکومت پر بس تنقید کے نشتر پھینکے جا رہی ہے اور حکومت کی دفاعی لکیر اتنی مضبوط ہے کہ ایوان مراد سعید کے کھڑے ہوتے ہی تقریباً مخالفت کا زہر اگلنے والے الٹے پیر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی ہمیشہ تلخ سے تلخ ہی ہوتی رہی ہے، جسکی وجہ سے اونٹ کو کسی کروٹ بیٹھنے ہی نہیں دیا گیالیکن اب کی بار اونٹ نے بیٹھنے کی ٹھان لی ہے جس کیلئے غالب گمان ہے کہ تمام طرح سے غیی امداد بھی کی جارہی ہے، یہ غیبی امداد کی بدولت ہی ممکن ہے کہ بڑے بڑے زور آور اپنے ہاتھ پاؤں پکڑے بیٹھے ہیں اور کچھ اس امید پر ہیں کہ شائد ہواؤں کا رخ بدل جائے جوکہ اب ممکن نہیں دیکھائی دے رہا کیوں کہ ہر کھلاڑی اگلے قدم پر کھیلتا دیکھائی دے رہا ہے (یعنی جارحانہ اندازسے)۔حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنا مکمل دھیان ملک کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں مبذول کر رکھا ہے، جسکا ایک اور منہ بولتا ثبوت ایک دیرینہ ڈیم کا افتتاح ہے۔ اپنے مضمون کے عنوان کے تیسرے حصے پر مختصراً یہ لکھنا چاہونگا کہ اگر ہمارے ملک کا نظام عدل صحیح معنوں میں کام کرنا شروع کردے تو مذکورہ اور پوشیدہ تمام مسائل بغیر دیکھے ہی حل ہوجائینگے اور ہم جیسے لکھنے والوں کیلئے سوائے چین کی بانسری بجانے کہ اور کچھ نہیں بچے گا۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خوشبو سے وادیوں کو مہک جانا چاہیے
  • مولانا
  • ستارہ نُما
  • ذرا سا زخم کو جونہی قرار آتا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کامیابی دراصل آپ کی ”سوچ ”ہے !
پچھلی پوسٹ
جنسی صلاحیت! ختم شد

متعلقہ پوسٹس

احساس خود گرفتہ سے جاں پر بنی رہی

نومبر 20, 2019

جو رنگ ہاے رُخِ دوستاں سمجھتے تھے

مئی 9, 2020

قوال پارٹی

نومبر 27, 2019

سفر آسان تھوڑی ہوتے ہیں

نومبر 1, 2025

مذاق کرنا یا مذاق اڑانا

ستمبر 8, 2023

جن دنوں مجھ کو بہت پیار ہوا کرتا تھا

مارچ 19, 2022

شاید درِ یقین پہ رسائی کا وقت ہے

جنوری 9, 2020

قدرت کے امتحان سے لگتا ہے ڈر مجھے

مارچ 4, 2020

خلوص و پیار کے سانچے میں

نومبر 14, 2025

ان پرندوں کے گھر نہیں رہتے

جنوری 30, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

محبت قرض ہوتی ہے

دسمبر 12, 2021

یہی تو بات … گوارا نہیں...

مئی 28, 2020

میں تیرے ساتھ چل نہیں سکتا

مئی 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں