خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباآخر کورونا چاہتا کیا ہے؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

آخر کورونا چاہتا کیا ہے؟

از سائیٹ ایڈمن جون 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن جون 10, 2020 0 تبصرے 73 مناظر
74

آخر کورونا چاہتا کیا ہے؟

کورونا نے دنیا کو انگریزی میں پاوز (pause)اور اردو میں توقف یعنی روک دیا ہے ، جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ پاوز یا توقف کرنے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں اور قدرت نے ایسا کیوں کیا یا کروایا ہے ۔ یعنی ،آخر کورونا چاہتا کیا ہے;238;مجھے یقین ہے کہ دنیا کہ ماہرین (تھنک ٹینک ) ضرور اس بات پر سر جوڑ کر نا صحیح لیکن جہاں کہیں بھی ہونگے ضرور سوچ بچار کر رہے ہونگے، اور جلد ہی اسکے جواب یہ ہوسکتا ہے وہ ہوسکتا ہے کی صورت میں آنا شروع ہوجائینگے ۔ کورونا سے نجات کیلئے لگائے جانے والے اندازے اس وقت تک غلط ثابت ہوتے رہینگے اور انسانی جانیں اس مرض کی وجہ سے ضائع ہوتی رہینگی، جب تک پاکستان کی عوام کورونا کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرلیتی اور اسکے سد باب کیلئے سو فیصد احتیاط کرنا شروع نہیں کردیتی ۔

کورونا کی وجہ سے ساری دنیا میں خوف ہو ہراس پھیلا ہوا ہے اسی طرح سے پاکستان میں بھی ایک خوف دندناتا پھر رہا ہے اور یہ خوف ان آنکھوں کو نمایاں دیکھائی دے رہاہے جوکرونا کے پھیلاءو پر دھیان رکھے ہوئے ہیں ۔ اس خوف کی بھینٹ انسانی زندگیوں کے بعد سب سے زیادہ معیشت کو نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ کرونا کی ابتداء اور انتہاء صدیوں پر مہیت علم کی تحقیق میں موجود نہیں ہے یہ بھی موجود نہیں کہ اس سے بچا کیسے جاسکتا ہے ، غور طلب بات ہے کہ سیاروں کو دریافت کرنے والا انسان ان سیاروں پر زندگی کے آثار تلاش کرنے والا انسان ایک کرونا نامی وائرس سے چھپتا پھر رہا ہے ۔ قران اور حدیثوں کی مدد سے کچھ ایسے علاج منظر عام پر آچکے ہیں کہ جن کی مدد سے لوگ مستفید ہورہے ہیں ۔ جدت کی بلندیوں پر پہنچنے والی دنیا کے جدید ترین لوگ ایک اندیکھے ۔ یہ ایک الگ معمہ ہے کہ کتنے لوگ کرونا سے مر رہے ہیں اور کتنے اسکے خوف سے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں ۔ ہر چیز سمٹتی محسوس ہورہی ہے ۔ انہیں کہتے ہیں تھنک ٹینک کہ جن کی بصیرت کی بدولت موجودہ حالات میں استعمال ہونے والے وہ تمام آلات جن میں خصوصی طور پر ایسی خصوصیات رکھی گئیں تھیں کہ سماجی فاصلہ کا خیال رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے رابطہ کیا جاسکے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں سوچا گیا کیا سوچنے والے لوگوں نے کورونا جیسی وباء کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسی مصنوعات متعارف کروائیں یا پھر کچھ اور(کچھ اور سے مراد کہ کیا آنے وقت میں کوئی اس کورونا سے بھی زیادہ کوئی مہلک ہتھیار ہوسکتا ہے) ۔

تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں ، محدودتعلیمی ادارے ایسے ہیں جو ان حالات سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں (سوائے سرکاری تعلیمی اداروں کہ) اوریہی وہ ادارے ہیں جوکہ موجودہ حالات میں درس و تدریس کہ عمل کو جاری رکھنے کی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ،جیسا کہ آن لائن کلاسوں کا سلسلہ ہے ۔ پاکستان میں بچوں کی اکثریت تو گلی محلوں میں کھلے ہوئے اسکولوں میں پڑھتی ہے جو صر ف انگریزی میڈیم ہونے کا جھانسا دے کر معصوم لوگوں سے پیسے بٹور تے رہتے ہیں اور یقینا اب مشکلات کا شکار ہوکر تقریباً بند ہونے والے ہونگے ۔ ہم نے ایسے اسکولوں کے حوالے سے کئی برس قبل اس موضوع پر ایک بحث اٹھائی تھی کہ تعلیمی نظام کی پائیدار ی اور ایک بہترین نسل کیلئے بہت ضروری ہے کہ ایسے اسکولوں یا تعلیمی اداروں کو ایک مخصوص(تعداد کا تعین) آبادی پر مشترک کر کے کھولنے کی اجازت دی جائے ۔ یہاں جو تلخ بات ہے وہ یہ کہ درس و تدریس سے کہیں زیادہ ایسے اسکول کاروبار کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں تھے ۔ اب اس حوالے سے کورونا کا یہ چاہنا بہت حد تک سمجھ آرہا ہے کہ ارباب اختیار خصوصی طور پر جہاں سے ان تدریسی اداروں کی رجسٹریشن کی جاتی ہے اپنے کار ہائے نمایاں پر خصوصی نگاہ ڈالیں اور ملک کے سب بچوں کو اپنے بچوں کی جگہ رکھ کر سوچیں ۔ اس طرح سے تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھنے کا ایک انتہائی اہم وقت کورونا کی بدولت میسر آچکا ہے ۔ یوں تو حکومت وقت بھی تعلیمی اصطلاحات پر کام کر رہی ہے جیسا کہ یکساں تعلیمی نظام کا نفاذ ہے اس طرح سے طبقاتی تقسیم کو ختم کرنے میں بھی بہت مدد ملنے کی امید کی جاسکتی ہے ۔ یہ تو کورونا تعلیم کے شعبے سے وابسطہ اسر و رسوخ رکھنے والوں سے چاہتا ہے ۔ ایک قابل ذکر نقطے پر بھی نظر ڈال لیجئے کہ ہمارے تدریسی اداروں (دینی و دنیاوی) میں دیگر ایسی سرگرمیاں شروع ہوچکی تھیں کہ جن کی وجہ سے انکا تقدس بھرپور طرح سے پامال ہورہا تھا جسکی وجہ سے انکا بند ہونا بنتا ہی تھا ۔

کورونا نے عبادت گاہیں بھی بند کروادیں ، مسلمانوں کو اسوقت اتنہائی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جب خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کو بند کیا گیا اور دنیا جہان سے آنے والے زائیرین کی آمد پر مکمل طور پر پابندی لگا دی ۔ اسی طرح سے ویٹیکن سٹی پر بھی اسی طرح کی پابندیاں لگا دی گئیں اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔ رمضان کے ماہ مبارک میں ایک مسلمان کیلئے اس بڑی اور کیا تکلیف کی بات ہوسکتی ہے کہ اسے مسجد جانے سے روک دیا جائے کیونکہ اس ماہ مبارک میں وہ مسجد کا رخ کرلیتے ہیں جنھیں باقی سارے سال مسجد کی شکل دیکھنے کی توفیق نہیں ہوتی ۔ ان عبادت گاہو ں کہ بند ہونے سے تعلق کو توڑنے یا یہ سمجھانے کیلئے کہ جن کی عبادت کرنے ان عمارتوں میں آتے ہو اب وہ کسی کو ان میں آنے کی اجازت نہیں دینا چاہتا ۔

تقسیم کانظام دنیا نے اپنے طور سے کر رکھا ہے اور جس کے پاس مال و دولت ہے چاہے وہ انفرادی ہو یا پھر اجتماعی اس کی صحیح تقسیم سے ناواقف ہے یا پھر تقسیم کرنا ہی نہیں چاہتا ۔ دنیا میں بھول افلاس یعنی غربت کا بول بالا ہوچکا ہے لوگ بھوک کی وجہ سے خود کشیاں کررہے ہیں لوگ اس بھوک کی وجہ سے اپنے پورے پورے خاندان کو موت کی نیند سلا رہے ہیں ، یہ بھوک چور ڈاکو بنا رہی ہے ، یہ بھوک اپنی عزتوں کو بیچنے پر مجبور کر رہی ہے غرض یہ کہ اس بھوک کی وجہ سے آج دنیا میں کیا کچھ نہیں ہورہا ، جو اس بھوک کو قدرت کی دی گئی دولت سے ختم کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں وہ کسی خاموش تماشائی کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں اور اسے قدرت کی منشاء کہہ کر آگے بڑھتے جا رہے ہیں ۔ کورونا نے ایسے لوگوں کی راتوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کب تک اپنے دولت کیساتھ اس دنیا میں رہ سکتے ہیں ، اس خوف نے انہیں دولت خرچ کرنے پر اکسایا ہوا ہے در حقیقت یہ دنیا کوآخیر تک دیکھنے کے خواہشمند ہیں ۔ کورونا چاہتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں بھوک اور افلاس کی جھلک پیدا کرے کہ یہ اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کریں معاشرے میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔

موبائل کی دریافت نے انسانوں کے درمیان طبعی فاصلے بڑھا دیئے اور لوگ ملنے جلنے سے زیادہ چلتے پھرتے فون پر اپنے پیاروں اور اپنے دوستوں سے باتیں کرنے کو ترجیح دینے لگے اس سے جو دیرینہ نقصان ہوا وہ یہ کہ ہم بھول گئے کہ ملنے جلنے کیلئے دیکھ بھال کیلئے اور سب سے بڑھ کر بیماروں کی عیادت کیلئے گھر بھی جایا سکتا ہے (یہ میل جول بچوں کی تربیت میں بھی کار آمد ثابت ہوا کرتے تھے، آج ہمارے بچے میل جول کے طور طریقوں سے بہت حد تک دور ہوچکے ہیں انہیں یہ تو پتہ ہے کہ بڑوں کا ادب کرنا ہے لیکن ادب کیسے کیا جاتا ہے شائد وہ اس میل جول کے خاتمے کی وجہ سے بھول چکے ہیں )ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا بھی کیا جاسکتا ہے گھر کے حالات کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے اور زندگی کا گزربسر کیسے ہورہا ہے اس طرح سے کوئی مدد کرنے میں آسانی ہوسکتی تھی ۔ کورونا نے سب کچھ جیسا ہم کرتے تھے اسے حتمی کرکے رکھ دیا ایسے اسباب بنا دئیے کہ اب چاہتے ہوئے بھی مل نہیں سکتے ۔ کورونا چاہتا ہے کہ اب جب وہ ختم ہوجائے تو اپنے پیاروں سے بل مشافہ ملیں انکے دکھ درد میں باقاعدہ شریک ہوں ۔ کوروناہ میں اپنے رب سے قریب کرنا چاہتا ہے کورونا ہ میں نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل کروانا چاہتا ہے درحقیقت دنیا کو اسکی اصل حالت میں واپس لانا چاہتا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت قدرتی ماحول میں بتدریج بہتری دیکھی جا رہی ہے ۔ مندرجہ بالا امور کے علاوہ اور بہت کچھ ہے جو کورونا دنیا میں رہتے ہوئے کرنا چاہتا ہے ، آپ لوگ بھی سوچیں اور اگر ممکن ہو تو ہمارے بھی ارسال کریں ۔ اللہ تعالی دنیا و آخرت میں آسانی کا معاملہ فرمائیں اور ایک سچے امتی ہونے کی توفیق عطاء فرمائیں ، آمین یا رب العالمین ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • لاکھ دیکھے حسین چہرے تو
  • خاص تھا لیکن جہاں میں عام رہنا تھا مجھے
  • خوش یقیں خوش گمان یعنی تم
  • زمیں کا سانچہ ہے اور آسمان کا خاکہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جمغورہ الفریم
پچھلی پوسٹ
اور شیر آ گیا

متعلقہ پوسٹس

طمانچہ

نومبر 29, 2019

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

اُڑان

جنوری 24, 2020

کچھ باتیں ضروی ہیں

ستمبر 22, 2025

بڑے گھر کی بیٹی

دسمبر 10, 2019

قلم اور صفحہ کی گفتگو

جنوری 6, 2026

کافی وِد انڈر ٹیکر

دسمبر 23, 2021

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں

مئی 7, 2020

پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیا موڑ

ستمبر 19, 2025

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

روتی آنکھوں سے جو گُل باری...

فروری 1, 2020

کافی

دسمبر 7, 2019

تیراہ،عارضی قربانی اور مستقل امن

جنوری 15, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں