خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباآخر کورونا چاہتا کیا ہے؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

آخر کورونا چاہتا کیا ہے؟

از سائیٹ ایڈمن جون 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن جون 10, 2020 0 تبصرے 55 مناظر
56

آخر کورونا چاہتا کیا ہے؟

کورونا نے دنیا کو انگریزی میں پاوز (pause)اور اردو میں توقف یعنی روک دیا ہے ، جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ پاوز یا توقف کرنے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں اور قدرت نے ایسا کیوں کیا یا کروایا ہے ۔ یعنی ،آخر کورونا چاہتا کیا ہے;238;مجھے یقین ہے کہ دنیا کہ ماہرین (تھنک ٹینک ) ضرور اس بات پر سر جوڑ کر نا صحیح لیکن جہاں کہیں بھی ہونگے ضرور سوچ بچار کر رہے ہونگے، اور جلد ہی اسکے جواب یہ ہوسکتا ہے وہ ہوسکتا ہے کی صورت میں آنا شروع ہوجائینگے ۔ کورونا سے نجات کیلئے لگائے جانے والے اندازے اس وقت تک غلط ثابت ہوتے رہینگے اور انسانی جانیں اس مرض کی وجہ سے ضائع ہوتی رہینگی، جب تک پاکستان کی عوام کورونا کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرلیتی اور اسکے سد باب کیلئے سو فیصد احتیاط کرنا شروع نہیں کردیتی ۔

کورونا کی وجہ سے ساری دنیا میں خوف ہو ہراس پھیلا ہوا ہے اسی طرح سے پاکستان میں بھی ایک خوف دندناتا پھر رہا ہے اور یہ خوف ان آنکھوں کو نمایاں دیکھائی دے رہاہے جوکرونا کے پھیلاءو پر دھیان رکھے ہوئے ہیں ۔ اس خوف کی بھینٹ انسانی زندگیوں کے بعد سب سے زیادہ معیشت کو نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ کرونا کی ابتداء اور انتہاء صدیوں پر مہیت علم کی تحقیق میں موجود نہیں ہے یہ بھی موجود نہیں کہ اس سے بچا کیسے جاسکتا ہے ، غور طلب بات ہے کہ سیاروں کو دریافت کرنے والا انسان ان سیاروں پر زندگی کے آثار تلاش کرنے والا انسان ایک کرونا نامی وائرس سے چھپتا پھر رہا ہے ۔ قران اور حدیثوں کی مدد سے کچھ ایسے علاج منظر عام پر آچکے ہیں کہ جن کی مدد سے لوگ مستفید ہورہے ہیں ۔ جدت کی بلندیوں پر پہنچنے والی دنیا کے جدید ترین لوگ ایک اندیکھے ۔ یہ ایک الگ معمہ ہے کہ کتنے لوگ کرونا سے مر رہے ہیں اور کتنے اسکے خوف سے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں ۔ ہر چیز سمٹتی محسوس ہورہی ہے ۔ انہیں کہتے ہیں تھنک ٹینک کہ جن کی بصیرت کی بدولت موجودہ حالات میں استعمال ہونے والے وہ تمام آلات جن میں خصوصی طور پر ایسی خصوصیات رکھی گئیں تھیں کہ سماجی فاصلہ کا خیال رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے رابطہ کیا جاسکے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں سوچا گیا کیا سوچنے والے لوگوں نے کورونا جیسی وباء کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسی مصنوعات متعارف کروائیں یا پھر کچھ اور(کچھ اور سے مراد کہ کیا آنے وقت میں کوئی اس کورونا سے بھی زیادہ کوئی مہلک ہتھیار ہوسکتا ہے) ۔

تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں ، محدودتعلیمی ادارے ایسے ہیں جو ان حالات سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں (سوائے سرکاری تعلیمی اداروں کہ) اوریہی وہ ادارے ہیں جوکہ موجودہ حالات میں درس و تدریس کہ عمل کو جاری رکھنے کی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ،جیسا کہ آن لائن کلاسوں کا سلسلہ ہے ۔ پاکستان میں بچوں کی اکثریت تو گلی محلوں میں کھلے ہوئے اسکولوں میں پڑھتی ہے جو صر ف انگریزی میڈیم ہونے کا جھانسا دے کر معصوم لوگوں سے پیسے بٹور تے رہتے ہیں اور یقینا اب مشکلات کا شکار ہوکر تقریباً بند ہونے والے ہونگے ۔ ہم نے ایسے اسکولوں کے حوالے سے کئی برس قبل اس موضوع پر ایک بحث اٹھائی تھی کہ تعلیمی نظام کی پائیدار ی اور ایک بہترین نسل کیلئے بہت ضروری ہے کہ ایسے اسکولوں یا تعلیمی اداروں کو ایک مخصوص(تعداد کا تعین) آبادی پر مشترک کر کے کھولنے کی اجازت دی جائے ۔ یہاں جو تلخ بات ہے وہ یہ کہ درس و تدریس سے کہیں زیادہ ایسے اسکول کاروبار کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں تھے ۔ اب اس حوالے سے کورونا کا یہ چاہنا بہت حد تک سمجھ آرہا ہے کہ ارباب اختیار خصوصی طور پر جہاں سے ان تدریسی اداروں کی رجسٹریشن کی جاتی ہے اپنے کار ہائے نمایاں پر خصوصی نگاہ ڈالیں اور ملک کے سب بچوں کو اپنے بچوں کی جگہ رکھ کر سوچیں ۔ اس طرح سے تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھنے کا ایک انتہائی اہم وقت کورونا کی بدولت میسر آچکا ہے ۔ یوں تو حکومت وقت بھی تعلیمی اصطلاحات پر کام کر رہی ہے جیسا کہ یکساں تعلیمی نظام کا نفاذ ہے اس طرح سے طبقاتی تقسیم کو ختم کرنے میں بھی بہت مدد ملنے کی امید کی جاسکتی ہے ۔ یہ تو کورونا تعلیم کے شعبے سے وابسطہ اسر و رسوخ رکھنے والوں سے چاہتا ہے ۔ ایک قابل ذکر نقطے پر بھی نظر ڈال لیجئے کہ ہمارے تدریسی اداروں (دینی و دنیاوی) میں دیگر ایسی سرگرمیاں شروع ہوچکی تھیں کہ جن کی وجہ سے انکا تقدس بھرپور طرح سے پامال ہورہا تھا جسکی وجہ سے انکا بند ہونا بنتا ہی تھا ۔

کورونا نے عبادت گاہیں بھی بند کروادیں ، مسلمانوں کو اسوقت اتنہائی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جب خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کو بند کیا گیا اور دنیا جہان سے آنے والے زائیرین کی آمد پر مکمل طور پر پابندی لگا دی ۔ اسی طرح سے ویٹیکن سٹی پر بھی اسی طرح کی پابندیاں لگا دی گئیں اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔ رمضان کے ماہ مبارک میں ایک مسلمان کیلئے اس بڑی اور کیا تکلیف کی بات ہوسکتی ہے کہ اسے مسجد جانے سے روک دیا جائے کیونکہ اس ماہ مبارک میں وہ مسجد کا رخ کرلیتے ہیں جنھیں باقی سارے سال مسجد کی شکل دیکھنے کی توفیق نہیں ہوتی ۔ ان عبادت گاہو ں کہ بند ہونے سے تعلق کو توڑنے یا یہ سمجھانے کیلئے کہ جن کی عبادت کرنے ان عمارتوں میں آتے ہو اب وہ کسی کو ان میں آنے کی اجازت نہیں دینا چاہتا ۔

تقسیم کانظام دنیا نے اپنے طور سے کر رکھا ہے اور جس کے پاس مال و دولت ہے چاہے وہ انفرادی ہو یا پھر اجتماعی اس کی صحیح تقسیم سے ناواقف ہے یا پھر تقسیم کرنا ہی نہیں چاہتا ۔ دنیا میں بھول افلاس یعنی غربت کا بول بالا ہوچکا ہے لوگ بھوک کی وجہ سے خود کشیاں کررہے ہیں لوگ اس بھوک کی وجہ سے اپنے پورے پورے خاندان کو موت کی نیند سلا رہے ہیں ، یہ بھوک چور ڈاکو بنا رہی ہے ، یہ بھوک اپنی عزتوں کو بیچنے پر مجبور کر رہی ہے غرض یہ کہ اس بھوک کی وجہ سے آج دنیا میں کیا کچھ نہیں ہورہا ، جو اس بھوک کو قدرت کی دی گئی دولت سے ختم کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں وہ کسی خاموش تماشائی کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں اور اسے قدرت کی منشاء کہہ کر آگے بڑھتے جا رہے ہیں ۔ کورونا نے ایسے لوگوں کی راتوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کب تک اپنے دولت کیساتھ اس دنیا میں رہ سکتے ہیں ، اس خوف نے انہیں دولت خرچ کرنے پر اکسایا ہوا ہے در حقیقت یہ دنیا کوآخیر تک دیکھنے کے خواہشمند ہیں ۔ کورونا چاہتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں بھوک اور افلاس کی جھلک پیدا کرے کہ یہ اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کریں معاشرے میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔

موبائل کی دریافت نے انسانوں کے درمیان طبعی فاصلے بڑھا دیئے اور لوگ ملنے جلنے سے زیادہ چلتے پھرتے فون پر اپنے پیاروں اور اپنے دوستوں سے باتیں کرنے کو ترجیح دینے لگے اس سے جو دیرینہ نقصان ہوا وہ یہ کہ ہم بھول گئے کہ ملنے جلنے کیلئے دیکھ بھال کیلئے اور سب سے بڑھ کر بیماروں کی عیادت کیلئے گھر بھی جایا سکتا ہے (یہ میل جول بچوں کی تربیت میں بھی کار آمد ثابت ہوا کرتے تھے، آج ہمارے بچے میل جول کے طور طریقوں سے بہت حد تک دور ہوچکے ہیں انہیں یہ تو پتہ ہے کہ بڑوں کا ادب کرنا ہے لیکن ادب کیسے کیا جاتا ہے شائد وہ اس میل جول کے خاتمے کی وجہ سے بھول چکے ہیں )ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا بھی کیا جاسکتا ہے گھر کے حالات کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے اور زندگی کا گزربسر کیسے ہورہا ہے اس طرح سے کوئی مدد کرنے میں آسانی ہوسکتی تھی ۔ کورونا نے سب کچھ جیسا ہم کرتے تھے اسے حتمی کرکے رکھ دیا ایسے اسباب بنا دئیے کہ اب چاہتے ہوئے بھی مل نہیں سکتے ۔ کورونا چاہتا ہے کہ اب جب وہ ختم ہوجائے تو اپنے پیاروں سے بل مشافہ ملیں انکے دکھ درد میں باقاعدہ شریک ہوں ۔ کوروناہ میں اپنے رب سے قریب کرنا چاہتا ہے کورونا ہ میں نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل کروانا چاہتا ہے درحقیقت دنیا کو اسکی اصل حالت میں واپس لانا چاہتا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت قدرتی ماحول میں بتدریج بہتری دیکھی جا رہی ہے ۔ مندرجہ بالا امور کے علاوہ اور بہت کچھ ہے جو کورونا دنیا میں رہتے ہوئے کرنا چاہتا ہے ، آپ لوگ بھی سوچیں اور اگر ممکن ہو تو ہمارے بھی ارسال کریں ۔ اللہ تعالی دنیا و آخرت میں آسانی کا معاملہ فرمائیں اور ایک سچے امتی ہونے کی توفیق عطاء فرمائیں ، آمین یا رب العالمین ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  •  کنور سنگھ​
  • پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی
  • زمینی فیصلوں کو آسمانوں میں نہیں کرتے
  • محبت کا راز
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جمغورہ الفریم
پچھلی پوسٹ
اور شیر آ گیا

متعلقہ پوسٹس

جو رہ گئے ہیں وہ سارے نقاب اُتریں گے

مارچ 5, 2023

میں اور تم

ستمبر 24, 2021

کنارے دوست ہیں

اکتوبر 12, 2025

منزل بے نشاں

دسمبر 1, 2019

وصل میں ہم نے جو گزاری ہے

مئی 19, 2020

اندمالی میں یہ احساسِ زیاں تھا پہلے

جون 8, 2020

سید علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

دسمبر 6, 2025

لو ہوں مگر چراغ کے اندر نہیں ہوں میں

فروری 5, 2020

تمہیں اظہار کی جرات نہیں ہے

جولائی 3, 2025

فیوڈل فینٹسی

دسمبر 16, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چکوترا ۔ بیماریوں کے خلاف موثر...

نومبر 14, 2021

سوارہ

مئی 2, 2020

کیسے بتائیں حسن اسکا بس اسی...

جون 8, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں