101
وصل میں ہم نے جو گزاری ہے
وہ گھڑی آج ہم پہ بھاری ہے
اُس سے ملنے کا شوق ہے دل کو
جس کی آنکھوں کی ضرب کاری ہے
دل بھی وقفِ سراب ہے میرا
اور چہرے پہ یاس طاری ہے
موج میں یا عذاب میں گزرے
زندگی موت کی سواری ہے
مسئلوں نے جھکا دیے کاندھے
وقت کا بوجھ کتنا بھاری ہے
رہزنوں کو ہی رہنما جانا
یہ تماشا ازل سے جاری ہے
لوگ مردہ پرست ہوتے ہیں
جن کا لہجہ اَنا سے عاری ہے
الجھنیں عمر چاٹ جاتی ہیں
مفلسی ایک بے قراری ہے
دیکھ ناصر فضائے مقتل کا
پھر وہی رنگ کاروباری ہے
ناصر ملک
