108
کیسے بتائیں حسن اسکا بس اسی پر ختم ہے
اس داستاں کی ہر کہانی اس پری پر ختم ہے
دو کپ ہیں چائے سے بھرے اک میز پر رکھے ہوئے
دو کرسیاں خالی ہیں اور منظر اسی پر ختم ہے
ایسی خوشی جو عمر بھر ڈھونڈے سے بھی ملتی نہیں
اس گائوں کے اک شخص کی آنکھوں میں تھی پر ختم ہے
برجِ خلیفہ پر سے جھک کر شہرِ دل کو دیکھنا
اور یاد رکھنا وہ گلی جو جھونپڑی پر ختم ہے
اک شخص چلتا جا رہا ہے ریلوے لائن کے ساتھ
کرنے کوئی ایسا سفر جو روشنی پر ختم ہے
اک وہ محبت تھی جو کالج میں کیا کرتے تھے ہم
اک یہ محبت ہے جو یونیورسٹی پر ختم ہے
فیضان ہاشمی
