503
ستارے سے ستارا مل رہا ہے
ترا آنا ضروری ہو گیا ہے
طلسمی شہر ہے یہ تیری دنیا
جو آیا ہے یہیں پر رہ گیا ہے
بدلنا چاہتے ہو مجھ کو تم لوگ!؟
بتاؤ مجھ میں ایسا کیا بُرا ہے!؟
زرا سی دیر کا رستہ ہے تم تک
اسی امید پر دل چل رہا ہے
گلی میں تاش کھیلی جا رہی ہے
خدا بادل پہ بیٹھا دیکھتا ہے
سبھی پھولوں کو مشکل پڑ گئی ہے
وہ جب سے باغ میں آیا ہوا ہے
کوئی سایہ ہے جو صبح سویرے
ہماری سیڑھیوں میں بیٹھتا ہے
کہاں سنتا ہے کوئی گھر میں اُس کی
وہ پاگل ہے مسلسل بولتا ہے
نظر آتا نہیں تجدید لیکن
کوئی میرے برابر میں کھڑا ہے
تجدید قیصر
