خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانے‫‫خمیازہ
اردو افسانےاردو تحاریرکرشن چندر

‫‫خمیازہ

کرشن چندر کا ایک افسانہ

از سائیٹ ایڈمن جنوری 27, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 27, 2020 0 تبصرے 358 مناظر
359

‫‫خمیازہ

آپ مجھے پہچان گئے جی ہاں میں ہی ا کرام علی شاہ بین الاقوامی شہرت یافتہ فوٹو گرافر ہوں ، کلب کے باہر شربتی رنگ کی جو ٹویوٹا گاڑی کھڑی ہے، وہ مجھے پچھلے سال جاپان کی ایک فوٹو گرافک نمائش میں اول آنے پر انعام میں ملی تھی اور یہ پولو رائیڈ کیمرہ اور آئی کن زیوس کیمرہ دونوں مجھے نیویارک میں نمائش میں دوسرے نمبر پر آنے پر ملے تھے، جی ہاں ، آپ نے مجھے جس فاران لڑکی کے ساتھ میرین ڈرائیور پر اکثر گھومتے دیکھا ہے، بمبیی میں وہ ماریسا تھی، میری ماڈل، میں نے سمندر کی کنارے اس کی بہت سے تصویریں لی ہیں ، مجھے عورت اور سمندر میں زیادہ فرق نظر نہیں آتا ہے، دونوں کی شخصیت پر اسرار ہے، دونوں بلا وجہ طوفانی ہو جاتے ہیں ، کبھی بلاوجہ شانت، ابھی سمندر کی لہریں پیار کرنے والی عورت کی طرح ساجل کو اپنی انگلیوں سے گد گداتی ہیں ، چند لمحوں بعد یہی کمزور لہر مہیب اچھال بن کر ساجل کو کاٹنے لگتی ہے، نہ سمندر سمجھ میں آتا ہے نہ عورت، شاید اسی لئے ان دونوں میں بے جد کشش محسوس کرتا ہوں ۔ آپ نے ابھی عورت کے مجہول اور بے وقوف ہونے کی وجوہات کہی تو اس سلسلے میں ایک قصہ سناتا ہوں ، قصہ کیا ہے، واقعہ ہے، ذرا وہسکی اور لے لوں ، جام خالی ہے، بیرہ، ادھر گلاس میں ایک ڈبل ڈمپل مارو۔ ہم سب پہلگام کلب کی بار کے اونچے اونچے اسٹولوں پر بیٹھے ہوئے عورتوں کی معصومیت، انجان پن اور حماقتوں کے قصے بیان کر رہے تھے، کیونکہ ہم میں کوئی عورت نہیں تھی اور تین تین پیگ اندر جا چکے تھے، ا کرام علی کا البتہ یہ پانچواں ہو گا، اس کا چہرہ انار کی طرح سرخ تھا، اس نے پولو نیک کا گلابی رنگ کا موٹا سوئیٹر پہن رکھا تھا اور گہری بزکارڈ مخمل کی بیل باٹ، دونوں گھنی بھویں ماتھے کے بیچ آ کر مل گئی تھیں ، اس کی آنکھوں میں ایک تیز عیار چمک تھی، جب ہنستا تھا تو اس کے چہرے پر ایک کامیاب اور کھڑے ہوئے لفنگے کی مطمئن بے فکری چھا جاتی، مگر ایسی بے فکری جس میں ایک رنگ ذہانت کا بھی تھا اور وہ ذہانت اس کی آنکھوں میں تھی۔

ا کرام علی وہسکی کے دو گھونٹ لئے، گلاس اٹھا کر اسے دو تین بار مختلف زاویوں سے ابر کی سنگ مر مر سطج پر دائرے بنائے، غالباً وہ سوچ رہا تھا، کہاں سے شروع کرے، پھر جیسے اس کی سمجھ میں پورا واقعہ آگیا۔ یہ چار دن پہلے کا واقعہ ہے اور اب اسے سنانے میں کوئی اندیشہ بھی نہیں ہے کیونکہ وہ لڑکی یہاں سے جا چکی ہے، آج سے چار دن پہلے میں نے اس لڑکی کو غلام بٹ کے جنرل اسٹور میں خریداری کرتے ہوئے دیکھا تھا، کندھے سے لٹکے ہوئے جھولے میں لنچ باکس تھی اور وہ غلام بٹ کے پھلوں کے ڈبے، خرید Tinned Foods‬مکھن کا ڈبہ، سامن مچھلی کا ڈبہ اور دوسری بہت سی رہی تھی، میں اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا، کیونکہ میں نے پہلی نظر میں اسے ‫‫پہچان لیا تھا، جیسے آپ نے پہلی نگاہ میں مجھے پہچان لیا، یہ سجاتا تھی۔ سجاتا کو آپ نہیں جاتے ؟ حیرت ہے، سجاتا کا شمار بمبئی کی جیسن ترین لڑکیوں میں ہوتا تھا، ایک زمانے میں اس کا بڑا غلبہ تھا کچھ عرصے تک اس نے فلموں میں بھی کام کیا، مگر چلی نہیں ، فلم میں چلنے کیلئے مشکل کے علاوہ تھوڑی سی عقل بھی چاہئیے، خوب صورت عورت کو زیادہ عقل کی ضرورت نہیں ، لیکن پھر بھی تھوڑی سی تو چاہئیے، یعنی آٹے میں نمک کے برابر، میں نہیں کہہ سکتا ہوں فلموں میں کیوں نہیں چلی کیونکہ میرا تعلق کسی فلم نہیں ہے، اس کے بعد سنا ہے، وہ لندن جا کر ماڈلنگ کرنے لگی، مگر وہاں بھی زیادہ نہیں چلی، کیونکہ ہندوستانی لڑکی تھی اور یورپین لوگ زیادہ تر یورپین لڑکیوں کے خد و خال ہی پسند کرتے ہیں ، پھر وہ واپس ہندوستان آگ اور کرمان اینڈ سنن بک سیلز اینڈ پبلشر کے ہاں کتابیں بیچنے لگے، مگر وہاں بھی اس کا دل نہیں لگا، کیونکہ خوب صورت عورت خود ایک کتاب ہوتی ہے، کئی باب میں تقسیم کے بعد اس نے توبہ کر لی اور اپنے لئے ایک شوہر ڈھونڈنے لگی۔ یہ سب باتیں میں اس لئے جانتا ہوں کہ میں ایڈورڈ ایوی نیو میں رہتا ہوں اور سجاتا آرام ایوی نیو میں رہتی ہے، جو ایڈورڈ ایوی نیو سے ملحق ہے، ایڈورڈ ایو نیو کے نکڑ پر جی وائین کا جنرل اسٹور ہے، یہاں پر کبھی کبھار میری اور اس کی ملاقات ہو جاتی ہے، گو گفتگو کی کبھی نوبت نہیں آئی، اس جنرل اسٹور میں وہ تصویر کشی کے کاغذ خریدنے آتی تھی اور میں اپنی فوٹو گرافی کا سامان، کئی بار ہم کاؤنٹر پر ساتھ ساتھ کھڑے دیکھے گئے، ایک دو بار میری اور اس کی کہنی کے درمیان ایک دو انچ کا فاصلہ رہ گیا، مگر اس بات چیت کی نوبت نہیں آئی کیونکہ، سجاتا اپنے جسن پر اپنے سنہری بالوں پر اپنے کٹیلے سرخ لبوں پر اپنی بھوری بھوری آنکھوں پر بے جد مغرور نظر آتی ہے، شاید وہ چاہتی تھی کہ میں پہل کرو اور میں چاہتا تھا کہ وہ پھل کرے اور میں نے دیکھ لیا ہے جس معاشقے میں مرد پہل کرتا ہے، اسے اس کا ضرورت سے زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، پھر کچھ یہ بات بھی ہے، کہ میں اپنی ٹویوٹا پر بے جد نازاں تھا، اور سوچتا تھا کہ جس مرد کے پاس ایسی خوبصورت گاڑی ہو گی اس کا دروازہ کھول کر لڑکی کو خود بخود بیٹھ جانا چاہئے۔

چنانچہ یہ دلچس کشمکش دیر تک چلتی رہی۔ میں اسے اکثر مختلف مردوں کے ساتھ دیکھنے لگا، وہ لوگ بھی گاڑی والے تھے اور خوش پوش اور کھاتے پیتے چہرے والے، جب وہ بار بار جلدی جلدی اپنے بواۓ فرینڈز بدلنے لگی تو مجھے اس کے اخلاق پر شبہ ہونے لگا، حالانکہ جلدی جلدی بوائے فرینڈز بدلنا آج کل ہر شریف لڑکی کا شیوہ بن گیا ہے، کیونکہ یہی فیشن ہے۔ جو لڑکی اس فیشن کو اختیار کرتی ہے وہ ہائی سوسائٹی کی نظروں سے گر جاتی ہے، مگر بار بار اور نئے نئے چہروں کے بیچ میں ایک چہرہ بار بار ‫دیکھتا تھا، وہ درمیانے قد کا مضبوط بدن کا ٹھوڑی پر مخروطی داڑھی لئے ہوئے ایک نوجوان تھا، ہرے رنگ کی فیاٹ میں آتا تھا اور دھیرے دھیرے مجھے اس سے نفرت ہوتی جاتی، مگر یہ جان کر تسلی ہوئی تھی کہ، سجاتا دوسرے مردوں کے ساتھ بھی جاتی ہے، اور کسی دن دوسرے مردوں میں میرا نمبر بھی آ سکتا ہے، زندگی اور عشق امید پر قائم ہیں ، اسی لئے تو میں آج چار دن پہلے سجاتا کو پہلگام کے بازار میں غلام بٹ کی دکان پر دیکھ کر چونک اٹھا، وہ اکیلی تھی، جگہ بھی نئی تھی اور مارسیا مجھے غچا دے کر لندن چلی گئی اور میں اکیلا تھا اور پہاڑوں پر سرگوشیاں کرتے ہوئے اشجار سب عورتوں کی یاد دلاتے ہیں ٹورازم کے محکمے کواس طرف دھیان دینا چاہئیے، کال گرل کا نام تو بہت بدنام ہو چکا ہے اس کی جگہ اگر ٹورسٹ ہوسٹس کا نام رکھ دیا جائے تو اپنا کام بھی بن جائے اور حکومت پر بد اخلاقی کا الزام بھی نہ آئے، کیوں کیسی رہی یہ تجویز؟ خیر صاحب میں دکان کے اندر چلا گیا اور بڑی بے اخلاقی بے خوفی بلکہ گہری اپنائیت سے اسے کہا ہیلو۔ وہ میری طرف مڑی، آنکھوں میں حیرت لئے ہوئے، پھر مجھے پہچان لیا اور جب پہچان لیا تو اس کا چہرہ ماتھے سے ٹھوڑی تک ایک روشن مسکراہٹ سے چمک چمک گیا، دراصل اجنبی پہاڑوں پر اگر کوئی اپنا پہچان والا مل جائے تو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ ہیلو وہ بولی آپ ایڈورڈ ایوی نیو میں رہتے ہیں نا؟ ہاں میں نے سر ہلایا اور آپ آرام ایوی نیو میں ۔ گویا ہم دونوں ہمسائے ہیں ، وہ خوشی سے ہنسی۔ میں پوچھا آپ اکیلی آئی ہیں ؟ بھئی اس امر کا اطمینان کر لیا ضروری ہے۔ بالکل شہری زندگی کی گہماگہمی سے بہت دب گئی تھی۔ وہ بولی سوچا پہلگام جا کر کچھ دن اکیلے رہوں گی، قدرتی مناظر کی مصوری کروں گی۔ میں بھی اکیلا ہوں ، میں نے اسے بتایا، پہلگام کی فوٹو ڈاکومنڑی تیار کرنے کیلئے آگیا، مگر اس ڈاکو منٹری کیلئے آپ کی مدد درکار ہو گی۔ وہ کیسے ؟میں نے کہا خالی قدرتی مناظر کی تصاویر لینا میری ڈاکومنٹری کو گھس پٹی بنا دے گا، ان خوبصورت مناظر میں جان ڈالنے کیلئے ایک خوبصورت لڑکی بھی چاہئے، تم ان مناظر میں معنی پیدا کر دو گی۔ آپ تعریف کرنا جانتے ہیں ، وہ پہلے تو شرمائی پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔ عجیب بات ہے میں نے اسے کہا اتنے دنوں سے ہم دونوں اک دوسرے کے ہمسائے ہیں مگر ملاقات آج ہوئی۔ میں بھی آپ کو مادام ڈاینس کی دکان پر فوٹو گرافری کا سامان خریدتے دیکھتی تھی اکثر مگر نہ جانے بات چیت کیوں نہیں ہوئی۔ قصور دراصل میرا ہے، اتنی جسین و جمیل لڑکی سے مرعوب ہو جانا قدرتی امر ہے۔
‫‫مگر میں تو معمولی لڑکی ہوں اور مغرور بھی نہیں ہوں ۔ خیر جو وقت وہاں ممبئی میں ضائع کیا اس کی تلافی ہو سکتی ہے، میں نے گہری نظروں سے اسے تاکتے ہوئے کہا۔ آپ نے اپنا نام، تو بتایا ہی نہیں ، وہ بولی۔ مجھے ا کرام کہتے ہیں ، اور آپ کا نام تو میں جانتا ہوں سجاتا، آپ کہاں ٹھہری ہیں ۔ منور ہوٹل کے قریب کاٹج بی چالیس اس کا نمبر ہے اور آپ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ میں روز ویو ہوٹل میں ٹھہرا ہوں ، کمرہ نمبر اٹھارہ۔ اچھا میں چلتی ہوں ، اس نے کاؤنٹر سے مڑ کر ایک قدم دکان کے باہر کی جانب بڑھایا۔ میرا ہاتھ بے اختیار اس کی کلائی پر گیا، ایسی بھی کیا جلدی ہے، چلئے روز ویو ہوٹل میں آپ کو بہت بڑھیا کافی پلاؤں ، اتنی اچھی کافی پہلگام میں اور کہیں نہیں ملتی۔ وہ تھوڑی دیر تو مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی رہی، پھر اس نے جیسے کوئی فیصلہ کر لیا ہو، مسکرا بولی، اچھا چلئیے۔ میں نے سوچا یہ پہلا قدم ہے لاونج میں بیٹھیں گے، نرگسی پھولوں کے گلدان کی اوٹ میں اس کی آنکھوں کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھتا رہوں گا اور اس کے پیارے چہرے کی دلچس ادائیں ، باتیں ہوں گی، کتابوں کی، مصوری کی، ماڈلنگ کی، جدید فیشن کی، پھر میں اسے اپنے تازہ ترین فوٹو البم دکھانے کیلئے اپنے کمرے میں جانے کی دعوت دوں گا، یونہی زینہ بہ زینہ عشق کا جذبہ بلند ہوتا ہے۔ وہ بولی ا کرام کہنے میں جبڑا دکھنے لگا ہے، اگر تمہیں برا نہ لگے تو میں اکی کہا کروں ؟ اکی میں دل ہی دل میں خوشی سے اچھل پڑا، ایسا نام میری کسی بھی گرل فرینڈ کو آج تک کیوں نہیں سوجا۔ تمہارے منہ سے اکی بہت اچھا لگتا ہے، مگر خدا کیلے کبھی مجھے اکا نہ کہنا۔ وہ زور سے ہنسی دیر تک ہنستی رہی، میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں رہنے دیا، میں اس کی انگلیوں سے کھیلنے لگا وہ دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے گلدان کے نرگسی پھولوں کو سجانے لگی۔
میں نے پوچھا سجاتا تمہیں عقل رکھنے والی کتابوں سے نفرت کیوں ہے ؟ اس نے کہا میں اکثر دیکھتی ہوں کہ تمام کتابوں پر جتی کہ فلسفے کی کتابوں پر بھی کسی خوبصورت عورت کی تصویر ہوتی ہے، اب اگر کسی کتاب کو عورت کے سہارے کے بغیر بیچا نہیں جا سکتا تو یہ عقل کی بہت بڑی توہین ہے۔ عقل کی توہین نہیں ہے، عورت کی توصیف ہے، دراصل خود ایک طرح کا فلسفہ ہے، اس کتاب کو کھول کر ورق ورق پڑہنا چاہئیے۔ میں نے پوچھا فلموں میں تمہیں کیسی فلمیں پسند ہیں ؟
‫‫وہ بولی ایک ایسی فلمیں جن میں مرد بے وفا ہوتے ہیں اور عورتیں ان کے لئے رو رو کر جان دے دیتی ہیں ، یعنی بالکل روایتی فلمیں ۔ اور ماڈلنگ کیوں چھوڑ دی؟ وہ لوگ اسٹوڈیوں کو بیڈ روم میں بدلنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور میں دونوں جگہوں کو الگ الگ سمجھتی ہوں ۔ کافی جلدی ختم ہو گئی میں نے اس سے کہا تمہارے لئے کافی اور منگاؤں ؟ نہیں اب میں جاؤں گی، وہ گھڑی دیکھ کر بولی۔ میں نے کہا اوپر چلو میرا تازہ فوٹو البم دیکھو میرے کمرے میں ۔ یہ تو مجھے کہا ہی تھا، اس بات کو تو کہا ہی جاتا ہے، ایک نہ ایک وقت اور جواب سننے کیلئے دل دھڑکتا ہے۔ وہ رکی سنجیدہ ہوئی، مسکرائی، پھر میری طرف دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسی۔ میں نے اداس ہو کر کہا، شاید تمہارے پاس وقت نہیں ہے۔ میرے پاس وقت ہی وقت ہے، وہ لاپرواہی کے انداز میں ہاتھ جھلا کر بولی۔ مگر کمرے میں کیوں چلیں ، کیا ہم لوگ پہاڑوں پر کمروں میں بند ہونے آئے ہیں ۔ پھر تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے پوچھا۔ اس نے پوچھا، تمہارے پاس گاڑی ہے۔ ہاں ، کچھ امید بندھنے لگی، میں نے جلدی سے کہا، اپنی ٹویوٹا ساتھ لایا ہوں ۔ تو پہلگام سے دور کہیں چلتے ہیں ، وہ بولی میرے ذہن میں ایک جگہ ہے، چندن واڑی کے راستے پر بائیں جانب ایک وادی کے دامن میں پہاڑی جھرنا ہے دیودار کے پیڑوں کا ایک خوبصورت کنج ہے، سامنے پھولوں کی جھاڑیوں سے بھرا ہوا ایک میدان ہے وہاں چلیں گے، وہاں دن بھر رہیں گے، شام کو لوٹ آئیں گے، تم اپنا کیمرہ لے چلو، میں اپنا مصوری کا سامان لے چلتی ہوں ، یعنی اگر ہم ایک دوسرے سے اکتا گئے ہیں تو۔ ۔ ۔ ۔ وہ عجیب طریقے سے ہنسی۔ میرے ذہن میں وہ وادی گھوم گئی اور دونوں بچوں کی طرح پھولوں کے قطعوں پر لوٹتے ہوئے، ہاتھ میں ہاتھ ڈالے دوڑتے ناچتے ہوئے، پھولوں میں گھر کر ایک دوسرے سے لپٹ کر پیار کرتی ہوئی نگاہوں میں گرم گرم سانسوں میں ننھی ننھی سرگوشیاں جو محبت کے چشمے پر بلوریں حباب کی طرح ناچتی رہتی ہیں ، وہ سب کچھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے اپنی گاڑی نکالی اور پن چکی کے پل سے ہو کر چندن واڑی کی طرف بڑھ گیا، ہوا تیز تھی، سجاتا کے بال گہرے گلابی ہو چکے تھے، اس نے اپنے اڑتے ہوئے بالوں پر ایک کشمیری رومال باندھ لیا تھا جس سے وہ بے جد پر اسرار معلوم ہونے لگی تھی، میں جلد سے جلد اس کنج میں پہنچ جاتا چاہتا تھا، مبادا کہیں سجاتا اپنا ارادہ تبدیل نہ کر دے۔ آدھے گھنٹے سے بھی کم عرصے میں وہ وادی سامنے آ گئی، یہاں سڑک اوجھل ہو گئی، میں نے انجن کٹ کر دیا، اور پٹ کھول دیا، سجاتا اپنا سامان لے کر باہر ‫‫نکل اور میں اپنا سامان لے کر ہم دونوں جھرنے کی طرف بڑھ گئے۔ بڑی خوبصورت جگہ تھی، جیسا کہ سجاتا نے بیان کیا تھا صاف شفاف پانی گنگناتا ہوا، اور جنگلی پھولوں کے قطعے قطار اندر قطار ڈھلانوں پر دیوار کے پیڑا اور بادل سفید بطخوں کی طرح آسمان پر تیرتے ہوئے، یکا یک ایک آدمی جھرنے کے قریب سے اٹھا، میں نے اسے دیکھا جہاں سے وہ اٹھا تھا، اس کے قریب ایک ایزال بھی اپنے لکڑی کے چوکھٹے کو لئے کھڑا تھا، میں نے اس آدمی کو پہچان لیا تھا، یہ وہی آدمی تھا جو اپنی ہری فیاٹ میں سجاتا سے ملنے سجاتا کے گھر آتا تھا۔ وہ آدمی مسکراتے ہوئے سجاتا کی طرف بڑھا بڑی دیر کر دی، اس کے منہ سے نکلا۔ سجاتا اس کا ہاتھ پکڑ کر بڑی لجاجت سے بولی کیا کرتی ڈارلنگ کوئی گاڑی ہی نہیں ملی، بڑی مشکل سے ان کو میری طرف اشارہ کر کے تیار یہاں تک آئی ہوں ، یہ ہیں مسٹر ا کرام، اور مسٹر ا کرام یہ ہیں میرے شوہر نور شاہ۔ نور شاہ نے زبردستی میرا ہاتھ کھینچ کر مجھے سے مصافحہ کیا اور بولا آپ لنچ تک تو ٹھیریں گے نا؟ میں نے اس کی آواز سنی اور پھر چند لمحوں کیلئے ساری وادی میری نگاہوں میں گھوم گئی۔ شکریہ ایک پھنسی ہوئی آواز میرے گلے سے نکلی، پھر میں وادی میں سے مڑا اور اپنا ٹویوٹا میں بیٹھ کر واپس چلا گیا۔ چلے چلتے دیر تک سجاتا فاتحانہ قہقہہ میرے کانوں میں گونجتا رہا۔ ا کرام نے اتنا کہہ کر قصہ ختم اور گلاس ختم کر دیا، پھر بار میں بیٹھے ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر بولا۔ تو صاحب یہ ہے کل کی داستان، آئیے عورت کی بے وقوفی اور حماقت کو ٹوسٹ کرتے ہوئے ایک جام پئیں ، بیرہ ایک ڈبل ڈمپل اور مارو۔

کرشن چندر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ
  • غالب اور سرکاری ملازمت
  • دنیا کی آخری رات
  • اردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اے قافلۂ شوق
پچھلی پوسٹ
‫ایرانی پلاؤ

متعلقہ پوسٹس

جب شرمندگی، فرسٹریشن میں بدل جائے

ستمبر 30, 2017

حسینیت کا پیغام – انسانیت کے نام!

ستمبر 7, 2021

نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے

دسمبر 16, 2020

مالکن

فروری 15, 2022

یہ جنگ فیصلہ کن موڑ پر ہے اس سے کہو

ستمبر 17, 2025

انسانیت اور برداشت کا زوال

مارچ 8, 2026

کچھ طبیعت ہی ایسی پائی ہے

جنوری 27, 2020

چور

جنوری 28, 2020

جوتا مارو سالوں کو

دسمبر 20, 2019

ہماری تہذیب اور مرحوم عامر

جولائی 13, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خالد میاں

اکتوبر 24, 2020

ہم دیکھیں گے

جنوری 24, 2020

اردو: قومی زبان اور ہماری ذمہ...

اگست 17, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں