102
سچ کہوں خواب خواب ہے دنیا
خواہشوں کا سراب ہے دنیا
مطمئن ہوں خوشی سے جیتا ہوں
جب کے خاصی عذاب ہے دنیا
اشک آنکھوں میں تھے کہ مجھ کو لگا
جانے کیوں آب آب ہے دنیا
جس میں تلخی سکھائی جاتی ہو
ایک ایسا ہی باب ہے دنیا
میں نے لکھ دی کتاب دردوں پر
جس کا یہ انتساب ہے دنیا
احمد ابصار
