105
وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ
کہاں میں کہاں یہ مقام، اللہ اللہ
یہ رُوئے درخشاں، یہ زلفوں کے سائے
یہ ہنگامۂ صبح و شام، اللہ اللہ
یہ جلووں کی تابانیوں کا تسلسل
یہ ذوقِ نظر کا دوام، اللہ اللہ
وہ سہما ہوا آنسوؤں کا تلاطُم
وہ آبِ رواں بے خرام، اللہ اللہ
شبِ وصل کی ساعتیں مختصر سی
تمناؤں کا اژدحام، اللہ اللہ
وہ ضبطِ سُخن میں لبوں کی خموشی
نظر کا وہ لطفِ کلام اللہ اللہ
غلام مصطفٰی تبسم
