103
آخری الوداعی خدشے میں
کچھ دعائیں بھی رکھنا بستے میں
ایک لمحے میں حادثہ ہوگا
عمر لگ جائے گی سنبھلنے میں
پھر ہوس ناچتی پھرے گی اور
مردہ بچے ملیں گے کچرے میں
انکی تعبیر مہنگی پڑتی ہے
خواب بکنے لگے ہیں سستے میں
ذات کی قید سے نہیں نکلی
میں اکیلی تھی اتنے مجمعے میں
مجھ کو جلدی تھی گھر پہنچنے کی
رہ گیا انتظار رستے میں
ایک ہی اعتبار کافی تھا
پھر نہیں آئی اسکے دھوکے میں
شہلا اسکو بہت ستاؤں گی
اچھا لگتا ہے مجھ کو، غصے میں
شہلا خان
