103
اگرچہ بہت در بدر ہو گیا ہوں
مگر کچھ نہ کچھ با خبر ہو گیا ہوں
خدا ہونا مجھ کو گوارا نہیں تھا
بشر سے دوبارہ بشر ہو گیا ہوں
مِری قدر بڑھ کر مقدم ہوئی ہے
جو ہستی مٹا کر صفر ہو گیا ہوں
سرنگوں سے مجھ کو گزرنا پڑا تھا
سمٹ کر ذرا مختصر ہو گیا ہوں
حجالت مِری ہے مِرے کام آئی
میں مٹی میں مِل کر گہر ہو گیا ہوں
بہت وار میری بقا پر ہوئے ہیں
میں یونہی نہیں معتبر ہو گیا ہوں
مذاہب کی تفریق سے میں نکل کر
بفضلِ خدا بے ضرر ہو گیا ہوں
زمانہ سمجھتا ہے گمراہ مجھ کو
حقیقت میں اہلِ نظر ہو گیا ہوں
خدا جانے کیا میرا انجام ہو گا
ہواؤں میں سینہ سپر ہو گیا ہوں
مِری ٹوٹی شاخوں پہ پھل آ گیا ہے
کہ میں آخرش با ثمر ہو گیا ہوں
مذاہب کا اتنا مخالف نہیں تھا
کھلی آنکھ جب سے مگر ہو گیا ہوں
بہت دیر بے کار سوچا ہے فائز
سو اس کام میں با ہنر ہو گیا ہوں
سلیم فائز
