102
نگاہوں سے ترے دل میں اتر جانے کی خواہش ہے
کہ چاہت میں تری جاں سے گزر جانے کی خواہش ہے
کئی دن سے بھٹکتی پھر رہی ہوں دشت و صحرا میں
بس اب میں تھک چکی ہوں، مجھ کو گھر جانے کی خواہش ہے
کہاں ہے گھر مرا جانے، کہاں ہے اب مری منزل
نہیں معلوم ہے کچھ بھی، مگر جانے کی خواہش ہے
جو کہتے تھے نبھائیں گے وفا اب زندگی بھر ہم
انہیں اپنے ہی وعدوں سے مکر جانے کی خواہش ہے
قیامت تک بھلا پائیں نہ جس کو یہ جہاں والے
کچھ اپنی زندگی میں ایسا کر جانے کی خواہش ہے
گزشتہ عمر میں جو ہو چکا، سو ہو چکا لیکن
الہی اب روبینہؔ کو، سدھر جانے کی خواہش ہے
روبینہ شاد
