65
فقط اک پیر دروازے سے باہر
مگر نقصان اندازے سے باہر
خموشی مجھ سے چھپتی پھر رہی ہے
نکالو اس کو آوازے سے باہر
کوئی گیسو گھٹاؤں سے گھنیرا
لب و عارض کوئی غازے سے باہر ؟
بشر نے کس قدر افتاد جھیلی
نکل کر اپنے شیرازے سے باہر
فرح گوندل
