خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپاکستانی میڈیا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

پاکستانی میڈیا

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 27, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 27, 2025 0 تبصرے 87 مناظر
88

پاکستانی میڈیا: قومی بیانیہ، چیلنجز اور امکانات

پاکستان کا میڈیا آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے قومی بیانیے کی تشکیل اور ترویج میں بنیادی کردار ادا کرنے کا موقع بھی ہے اور یہ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ جدید دنیا میں ریاستوں کی پالیسیوں، عوامی شعور اور سماجی اقدار پر سب سے گہرا اثر میڈیا ہی ڈالتا ہے۔ میڈیا کو اکثر ریاست کا ”چوتھا ستون” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر معاشرتی ڈھانچے کو متوازن رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں یہ ستون خود زوال اور بحران کا شکار نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی میڈیا اس عظیم ذمہ داری کو صحیح معنوں میں ادا کر رہا ہے یا مختلف چیلنجز اور دباؤ کے باعث اپنی سمت کھو بیٹھا ہے؟

پاکستانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قومی بیانیہ ہمیشہ سے واضح اور متفقہ نہیں رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد میڈیا سے توقع تھی کہ وہ نئی ریاست میں اتحاد، یکجہتی اور تعمیرِ وطن کا بیانیہ تشکیل دے گا، لیکن ابتدا ہی سے میڈیا پر مختلف دباؤ حاوی رہے۔ کبھی ریاستی سنسر شپ نے صحافت کو محدود کیا، کبھی سرمایہ دارانہ مفادات نے اسے یرغمال بنایا، اور کبھی سیاسی جماعتوں نے اسے اپنے پروپیگنڈے کا ہتھیار بنایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کو ہمیشہ ایک بکھری ہوئی اور متضاد تصویر دکھائی گئی۔

آج بھی یہی صورت حال جاری ہے۔ میڈیا اگرچہ آزادیٔ اظہار کے نام پر سرگرم ہے مگر اس آزادی کی جڑیں کمزور ہیں۔ اکثر ادارے اس آزادی کو اپنی تجارتی بقا اور ریٹنگ کی دوڑ تک محدود رکھتے ہیں۔ سنسنی خیز خبریں، چیخ چیخ کر ہونے والے ٹاک شوز اور سطحی مباحثے اس بات کا ثبوت ہیں کہ میڈیا نے عوامی مسائل کے بجائے اپنے کاروباری مفاد کو ترجیح دی ہے۔

پاکستانی میڈیا کو سب سے بڑا چیلنج اس کا مالکانہ ڈھانچہ ہے۔ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہیں جو اپنی تجارت اور سیاست کے لیے میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طاقتور کاروباری شخصیت ٹیکس چوری یا ناجائز منافع خوری میں ملوث ہے تو اس کا میڈیا ادارہ ایسی خبریں نشر ہی نہیں ہونے دیتا جو عوام کو حقائق سے آگاہ کر سکیں۔ اس طرح میڈیا معاشرتی انصاف کے بجائے طاقتور طبقات کی ڈھال بن جاتا ہے۔

اشتہارات پر انحصار نے صحافت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ اشتہارات دینے والے ادارے یا حکومتیں میڈیا کے لیے ”مقدس گاہک” کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو ادارہ زیادہ اشتہار دے، اس کے خلاف کوئی منفی خبر شائع یا نشر نہیں ہوتی۔ اسی طرح جو اشتہار بند کرے، اس کے خلاف زبان سخت ہو جاتی ہے یا اس کے وجود کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یوں صحافت کی غیر جانبداری ایک تجارتی معاہدے کی قید میں آ جاتی ہے۔

چھوٹے شہروں اور قصبوں میں نمائندوں کی طرف سے ”سیکورٹی فیس” یا ”اخباری اخراجات” کے نام پر رقوم وصول کرنا بھی ایک افسوسناک رویہ ہے۔ یہ بلیک میلنگ کا ایسا طریقہ ہے جس نے صحافت کے وقار کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ عام لوگ صحافی کو ”سچ کا علمبردار” سمجھنے کے بجائے اسے کسی مصلحت یا ذاتی مفاد کے ساتھ جوڑنے لگے ہیں۔

یہی صورتحال سرکاری اشتہارات کے معاملے میں بھی ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے میڈیا کی تعریف اور حمایت خریدنا مشکل نہیں۔ زیادہ اشتہار دو، خبر تمہارے حق میں چھپے گی؛ اشتہار بند کرو، تو تمہیں تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یوں عوام کے سامنے جو تصویر آتی ہے وہ غیر جانبدار خبر نہیں بلکہ ”سرکاری پروپیگنڈا” بن جاتی ہے۔ یہ رویہ جمہوری اقدار کے بھی خلاف ہے اور قومی بیانیے کی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ۔

پیشہ ورانہ کمزوریاں بھی میڈیا کو کمزور کر رہی ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر رپورٹرز اور اینکرز صحافتی تربیت، زبان و بیان کی مہارت اور تحقیق کے بنیادی اوزاروں سے محروم ہیں۔ جب خبر ناقص زبان میں پیش ہو، جب تجزیہ سنجیدگی کے بجائے جذبات یا ذاتی مفادات کے گرد گھومے، تو عوام کے ذہنوں میں کنفیوژن بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا معاشرتی ہم آہنگی کو بڑھانے کے بجائے اکثر تقسیم اور نفرت کو ہوا دیتا ہے۔

ریٹنگ کی دوڑ اور سوشل میڈیا کا دباؤ صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ آج ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹی خبریں، بغیر تحقیق کے دعوے اور سنسنی خیز مباحثے میڈیا کے معمول میں شامل ہیں۔ ایک خبر میں اگر ”شور” زیادہ ہو تو وہ کامیاب سمجھی جاتی ہے، چاہے اس میں سچائی کم ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح صحافت کا اصل مقصد پس منظر میں چلا گیا ہے اور قومی بیانیہ مزید انتشار کا شکار ہو رہا ہے۔

ان تمام چیلنجز کے باوجود امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر میڈیا اپنی سمت درست کرے تو یہ ملک میں قومی یکجہتی اور ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ عوام اب بھی میڈیا پر اعتماد کرتے ہیں اور اسی کے ذریعے اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ تحقیق پر مبنی صحافت، مثبت موضوعات کی ترویج اور غیر جانبداری اگر میڈیا کا شعار بن جائے تو یہ قومی بیانیے کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا نے اس حوالے سے نئے دروازے کھولے ہیں۔ نوجوان نسل زیادہ تر خبریں آن لائن ذرائع سے لیتی ہے۔ اگر انہیں امید، محنت اور عملیت پسندی کا پیغام دیا جائے تو یہ نسل مایوسی اور انتشار کے بجائے مثبت سوچ کی طرف مائل ہوگی۔ یہی وہ موقع ہے جو میڈیا کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستانی میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر یہ ذاتی مفادات، سنسنی اور سرمایہ دارانہ دباؤ میں رہا تو قومی بیانیہ مزید بکھرتا جائے گا اور معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہوگا۔ لیکن اگر یہ اپنی طاقت کو مثبت سمت میں استعمال کرے تو یہ معاشرتی استحکام، قومی یکجہتی اور ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔ پاکستان کو آج ایک ایسے میڈیا کی ضرورت ہے جو عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے والا بیانیہ پیش کرے، جو سچائی کو ترجیح دے، اور جس کی پہچان خالص صحافت ہو نہ کہ تجارت۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کوئی مرے کوئی جیوے
  • نئی بیوی
  • نہ فکر انبساط کی
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نگاہوں سے ترے دل میں
پچھلی پوسٹ
چہرے کا رنگ، ہاتھ کی مہندی

متعلقہ پوسٹس

جنرل اسمبلی میں پاکستان کی آواز

ستمبر 28, 2025

بے چارہ دکھ

اکتوبر 12, 2025

فیصل آباد کرونا کا گڑھ بن چکا ہے

جون 7, 2020

وقت مرہم ہے

دسمبر 28, 2024

عریاں احتجاج

جنوری 21, 2025

جہاں پہ تو ہے

جون 21, 2020

میں نے لاکھوں کے بول سہے

جنوری 3, 2020

پہنا ہے اس نے شوق سے جو پیرہن سفید

مئی 9, 2020

عطر کافور

جون 15, 2020

المیہ 

فروری 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ابن انشاء’’اردو کی آخری کتاب‘‘

اپریل 13, 2025

مُجھ کو آیا نہ زمانے کو...

اپریل 9, 2023

بس ایک میں تھی کوئی

دسمبر 26, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں