خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیپٹن۔عباس خان شہید
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

کیپٹن۔عباس خان شہید

از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2026 0 تبصرے 82 مناظر
83

shahid naseem chaudhry

کیپٹن۔عباس خان شہید کی وردی باپ کے سپرد — ایک منظر، قوم کے لیے سبق

یہ صرف ایک منظر نہیں، ایک عہد ہے
ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں آپریشنل ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے کیپٹن عباس خان شہید ہو گئے۔ پشاور میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ خبر چند سطروں پر مشتمل تھی، مگر اس خبر کے اندر ایک باپ کی پوری زندگی، ایک ماں کی ساری دعائیں، اور ایک قوم کی خاموش نیند دفن تھی۔
وہ لمحہ…
جب ایک اعزازی تقریب میں شہید بیٹے کی وردی اس کے باپ کے ہاتھوں میں دی گئی۔
وہ مضبوط باپ…
وہ جس نے بیٹے کو سینے سے لگا کر کہا تھا: “بیٹا، وطن تمہیں بلائے تو پیچھے مت دیکھنا۔”
وہی باپ…
وردی دیکھتے ہی بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔
کیونکہ وہ وردی صرف کپڑا نہیں تھی۔
وہ اس کے جگر کے ٹکڑے کی آخری نشانی تھی۔
وہ اس بیٹے کی خوشبو تھی جو اب لوٹ کر نہیں آئے گا۔
وہ وہ لمس تھا جسے باپ اب کبھی محسوس نہیں کر سکے گا۔
یہ وہ منظر ہے جس پر پتھر دل بھی پگھل جائیں۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا سب کے دل پتھر کے نہیں ہو چکے؟
آج اس ملک میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ان مناظر پر رو نہیں پاتا، بلکہ بھونکنے لگتا ہے۔
جی ہاں! بھونکنے لگتا ہے۔
اپنی پاک فوج پر، اپنے شہیدوں پر، اپنے محافظوں پر۔
ذرا بتاؤ!
کیا تم نے کبھی وہ رات دیکھی ہے جو بارڈر پر گزرتی ہے؟
کیا تم نے کبھی برفانی ہواؤں میں بندوق تھام کر، موت کی آہٹ سنتے ہوئے، ماں کی دعا کو سینے سے لگا کر کھڑا رہنا سیکھا ہے؟
کیا تم نے کبھی اپنے بیٹے کو یہ کہتے سنا ہے:
“ابا دعا کرنا، اگلی کال شاید نہ آ سکے”؟
نہیں!
تم نے نہیں دیکھا۔
تم نے صرف ٹوئٹ کی ہے۔
تم نے صرف فیس بک اسٹیٹس لگایا ہے۔
تم نے صرف اے سی کمروں میں بیٹھ کر سوال اٹھائے ہیں۔
یاد رکھو!
پاک فوج کے جوان تنخواہ کے لیے نہیں، وطن کے لیے مرتے ہیں۔
وہ اپنی جوانی، اپنی نیندیں، اپنی عیدیں، اپنی خوشیاں
تمہاری محفوظ راتوں پر قربان کر دیتے ہیں۔
تم آرام سے سو سکو،
اس لیے وہ جاگتے ہیں۔
تم سکون سے بول سکو،
اس لیے وہ خاموشی سے جان دے دیتے ہیں۔
اور تم؟
تم ان ہی کے لہو پر سوال اٹھاتے ہو؟
جن ماؤں کی گود اجڑ گئی،
جن باپوں کے سہارے قبروں میں سو گئے،
جن بہنوں کے خواب سبز ہلالی پرچم میں لپٹ گئے—
تم ان قربانیوں پر کیچڑ اچھالتے ہو؟
شرم نام کی کوئی چیز باقی ہے تم میں؟
سنو!
جس دن یہ وردی نہ رہی خدانخواسطہ ،
جس دن یہ سپاہی نہ رہے خدانخواسطہ،
اس دن تمہارے زہریلے لفظ بھی تمہیں بچا نہ سکیں گے۔
یہ پاک فوج ہے
جو اپنے جوانوں کی شہادت دے کر
قوم کو محفوظ اور سرخرو رکھتی ہے۔
اور جو اس پر انگلی اٹھاتے ہیں،
تاریخ ان کے نام شرمندگی کے ساتھ لکھتی ہے۔
ان کے لفظ مٹ جاتے ہیں،
ان کی آوازیں شہادت کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں،
اور وہ خود اپنے انجام کا مذاق بن جاتے ہیں۔
اے بھونکنے والو!
تم سے بہتر تو وہ جانور ہیں جو اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔
کم از کم وہ وفادار تو ہوتے ہیں۔
اگر ذرا سی بھی ہمت ہے
تو ایک دن بارڈر پر آ کر دیکھو۔
چند گھنٹے نہیں،
چند منٹ ہی سہی—
گولی کی سیٹیوں کے درمیان
کھڑے رہ کر دیکھو۔
اگر خود نہیں آ سکتے
تو اپنے بیٹے کو بھیج کر دیکھو!
ماں کی دعا سینے میں،
باپ کی تصویر جیب میں،
اور وطن کا نام ہونٹوں پر رکھ کر
کھڑے رہنے کا حوصلہ پیدا کرو—
پھر زبان چلانا۔
یہاں ٹوئٹ نہیں چلتے،
یہاں فیس بک اسٹیٹس نہیں بچاتے،
یہاں صرف غیرت، حوصلہ اور جان کام آتی ہے۔
تم گندے لفظوں کے بیوپاری ہو،
اور وہ نیک لہو کے سپاہی۔
فرق اتنا ہے کہ
تم محفوظ ہو ان کی وجہ سے،
اور وہ شہید ہوتے ہیں
تمہاری وجہ سے بھی!
لہٰذا لعنت ہے ایسی زبانوں پر،
لعنت ہے ایسی سوچ پر،
اور شرم ہونی چاہیے ان چہروں کو
جو باپ کی بے ہوشی،
ماں کے بین،
اور شہید کی وردی پر بھی
زہر اگلنے سے باز نہیں آتے۔
یاد رکھو!
پاک فوج کے جوان مرتے نہیں،
قوم کی رگوں میں زندہ ہو جاتے ہیں۔
اور تم؟
تم صرف وہ بے ہنگم شور ہو—
جو قربانی اور شہادت کی گونج میں
ہمیشہ دب جاتا ہے۔
کیپٹن عباس خان شہید
صرف ایک نام نہیں،
وہ ایک عہد ہیں،
وہ ایک پیغام ہیں،
وہ ایک سوال ہیں
جو ہر ضمیر سے پوچھ رہے ہیں:
“کیا تم اس وردی کے قابل ہو؟”
آخر میں بس اتنا ہی کہنا ہے کہ
یہ جو سوشل میڈیا کے مورچوں میں بیٹھے
لفظوں سے جنگ لڑنے والے خود ساختہ انقلابی ہیں نا،
یہ کبھی اس وردی کا وزن نہیں سمجھ پائیں گے
جو باپ کے ہاتھ میں آئی تو وہ بے ہوش ہو گیا۔
انہیں لگتا ہے ملک ٹوئٹس سے بچتا ہے،
ریاست فیس بک اسٹیٹس سے چلتی ہے،
اور سرحدیں زبان درازی سے محفوظ رہتی ہیں۔
یہ بھول جاتے ہیں کہ
گندے الفاظ صرف بے ہنگم شورہی مچا سکتے ہیں،
مگر وطن صرف وہی بچاتے ہیں
جو خاموشی سے وطن پر قربان ہو جاتے ہیں۔
کیپٹن۔عباس خان شہید کی وردی
باپ کے سپردگی کا
—ایک منظر، قوم کے لیے ایک سبق ہے۔
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ

شاہد نسیم

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وہ جو قرض اک تھا زبان پر
  • میرا رونا بھی عبث ہے میرا ہنسنا ہے عبث
  • جنرل (ر) فیض حمید کی سزا
  • بجلی کے بلوں میں ریلیف
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خواب سے حقیقت تک
پچھلی پوسٹ
پاکستان ایک نازک موڑ پر

متعلقہ پوسٹس

کشمیریوں کی منفرد ثقافت اور روایات!

فروری 5, 2023

مندمل کردو ہر اک گھاؤ، پیام عید ہے

مئی 23, 2020

کھلنے لگے اس دل میں گلاب اور زیادہ

مئی 1, 2026

بے حیائی پھیلانے میں میڈیاکا کردار

دسمبر 28, 2021

تصنیف وتالیف کی اہمیت

نومبر 15, 2025

سورۃ الملک: مالک ہونے کا وہم

فروری 13, 2026

”غزل کروٹ بدلتی ہے” ایک تنقیدی جاج

مارچ 3, 2026

فیصل آباد کرونا کا گڑھ بن چکا ہے

جون 7, 2020

نادان ادھاری

دسمبر 6, 2025

موسموں کی بہار – انشا پردازی پر اثر

جنوری 16, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایران – امریکہ تعلقات کا تاریخی...

اپریل 26, 2026

نپولین کی محبوبہ

مئی 20, 2020

گل مصلوب

مارچ 25, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں