خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیپٹن۔عباس خان شہید
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

کیپٹن۔عباس خان شہید

از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2026 0 تبصرے 62 مناظر
63

shahid naseem chaudhry

کیپٹن۔عباس خان شہید کی وردی باپ کے سپرد — ایک منظر، قوم کے لیے سبق

یہ صرف ایک منظر نہیں، ایک عہد ہے
ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں آپریشنل ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے کیپٹن عباس خان شہید ہو گئے۔ پشاور میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ خبر چند سطروں پر مشتمل تھی، مگر اس خبر کے اندر ایک باپ کی پوری زندگی، ایک ماں کی ساری دعائیں، اور ایک قوم کی خاموش نیند دفن تھی۔
وہ لمحہ…
جب ایک اعزازی تقریب میں شہید بیٹے کی وردی اس کے باپ کے ہاتھوں میں دی گئی۔
وہ مضبوط باپ…
وہ جس نے بیٹے کو سینے سے لگا کر کہا تھا: “بیٹا، وطن تمہیں بلائے تو پیچھے مت دیکھنا۔”
وہی باپ…
وردی دیکھتے ہی بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔
کیونکہ وہ وردی صرف کپڑا نہیں تھی۔
وہ اس کے جگر کے ٹکڑے کی آخری نشانی تھی۔
وہ اس بیٹے کی خوشبو تھی جو اب لوٹ کر نہیں آئے گا۔
وہ وہ لمس تھا جسے باپ اب کبھی محسوس نہیں کر سکے گا۔
یہ وہ منظر ہے جس پر پتھر دل بھی پگھل جائیں۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا سب کے دل پتھر کے نہیں ہو چکے؟
آج اس ملک میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ان مناظر پر رو نہیں پاتا، بلکہ بھونکنے لگتا ہے۔
جی ہاں! بھونکنے لگتا ہے۔
اپنی پاک فوج پر، اپنے شہیدوں پر، اپنے محافظوں پر۔
ذرا بتاؤ!
کیا تم نے کبھی وہ رات دیکھی ہے جو بارڈر پر گزرتی ہے؟
کیا تم نے کبھی برفانی ہواؤں میں بندوق تھام کر، موت کی آہٹ سنتے ہوئے، ماں کی دعا کو سینے سے لگا کر کھڑا رہنا سیکھا ہے؟
کیا تم نے کبھی اپنے بیٹے کو یہ کہتے سنا ہے:
“ابا دعا کرنا، اگلی کال شاید نہ آ سکے”؟
نہیں!
تم نے نہیں دیکھا۔
تم نے صرف ٹوئٹ کی ہے۔
تم نے صرف فیس بک اسٹیٹس لگایا ہے۔
تم نے صرف اے سی کمروں میں بیٹھ کر سوال اٹھائے ہیں۔
یاد رکھو!
پاک فوج کے جوان تنخواہ کے لیے نہیں، وطن کے لیے مرتے ہیں۔
وہ اپنی جوانی، اپنی نیندیں، اپنی عیدیں، اپنی خوشیاں
تمہاری محفوظ راتوں پر قربان کر دیتے ہیں۔
تم آرام سے سو سکو،
اس لیے وہ جاگتے ہیں۔
تم سکون سے بول سکو،
اس لیے وہ خاموشی سے جان دے دیتے ہیں۔
اور تم؟
تم ان ہی کے لہو پر سوال اٹھاتے ہو؟
جن ماؤں کی گود اجڑ گئی،
جن باپوں کے سہارے قبروں میں سو گئے،
جن بہنوں کے خواب سبز ہلالی پرچم میں لپٹ گئے—
تم ان قربانیوں پر کیچڑ اچھالتے ہو؟
شرم نام کی کوئی چیز باقی ہے تم میں؟
سنو!
جس دن یہ وردی نہ رہی خدانخواسطہ ،
جس دن یہ سپاہی نہ رہے خدانخواسطہ،
اس دن تمہارے زہریلے لفظ بھی تمہیں بچا نہ سکیں گے۔
یہ پاک فوج ہے
جو اپنے جوانوں کی شہادت دے کر
قوم کو محفوظ اور سرخرو رکھتی ہے۔
اور جو اس پر انگلی اٹھاتے ہیں،
تاریخ ان کے نام شرمندگی کے ساتھ لکھتی ہے۔
ان کے لفظ مٹ جاتے ہیں،
ان کی آوازیں شہادت کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں،
اور وہ خود اپنے انجام کا مذاق بن جاتے ہیں۔
اے بھونکنے والو!
تم سے بہتر تو وہ جانور ہیں جو اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔
کم از کم وہ وفادار تو ہوتے ہیں۔
اگر ذرا سی بھی ہمت ہے
تو ایک دن بارڈر پر آ کر دیکھو۔
چند گھنٹے نہیں،
چند منٹ ہی سہی—
گولی کی سیٹیوں کے درمیان
کھڑے رہ کر دیکھو۔
اگر خود نہیں آ سکتے
تو اپنے بیٹے کو بھیج کر دیکھو!
ماں کی دعا سینے میں،
باپ کی تصویر جیب میں،
اور وطن کا نام ہونٹوں پر رکھ کر
کھڑے رہنے کا حوصلہ پیدا کرو—
پھر زبان چلانا۔
یہاں ٹوئٹ نہیں چلتے،
یہاں فیس بک اسٹیٹس نہیں بچاتے،
یہاں صرف غیرت، حوصلہ اور جان کام آتی ہے۔
تم گندے لفظوں کے بیوپاری ہو،
اور وہ نیک لہو کے سپاہی۔
فرق اتنا ہے کہ
تم محفوظ ہو ان کی وجہ سے،
اور وہ شہید ہوتے ہیں
تمہاری وجہ سے بھی!
لہٰذا لعنت ہے ایسی زبانوں پر،
لعنت ہے ایسی سوچ پر،
اور شرم ہونی چاہیے ان چہروں کو
جو باپ کی بے ہوشی،
ماں کے بین،
اور شہید کی وردی پر بھی
زہر اگلنے سے باز نہیں آتے۔
یاد رکھو!
پاک فوج کے جوان مرتے نہیں،
قوم کی رگوں میں زندہ ہو جاتے ہیں۔
اور تم؟
تم صرف وہ بے ہنگم شور ہو—
جو قربانی اور شہادت کی گونج میں
ہمیشہ دب جاتا ہے۔
کیپٹن عباس خان شہید
صرف ایک نام نہیں،
وہ ایک عہد ہیں،
وہ ایک پیغام ہیں،
وہ ایک سوال ہیں
جو ہر ضمیر سے پوچھ رہے ہیں:
“کیا تم اس وردی کے قابل ہو؟”
آخر میں بس اتنا ہی کہنا ہے کہ
یہ جو سوشل میڈیا کے مورچوں میں بیٹھے
لفظوں سے جنگ لڑنے والے خود ساختہ انقلابی ہیں نا،
یہ کبھی اس وردی کا وزن نہیں سمجھ پائیں گے
جو باپ کے ہاتھ میں آئی تو وہ بے ہوش ہو گیا۔
انہیں لگتا ہے ملک ٹوئٹس سے بچتا ہے،
ریاست فیس بک اسٹیٹس سے چلتی ہے،
اور سرحدیں زبان درازی سے محفوظ رہتی ہیں۔
یہ بھول جاتے ہیں کہ
گندے الفاظ صرف بے ہنگم شورہی مچا سکتے ہیں،
مگر وطن صرف وہی بچاتے ہیں
جو خاموشی سے وطن پر قربان ہو جاتے ہیں۔
کیپٹن۔عباس خان شہید کی وردی
باپ کے سپردگی کا
—ایک منظر، قوم کے لیے ایک سبق ہے۔
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ

شاہد نسیم

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیا مٹا دو گے نام پھولوں کا
  • توکل کیا ھے؟
  • فقیروں کی پہاڑی
  • اردو: قومی زبان اور ہماری ذمہ داری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خواب سے حقیقت تک
پچھلی پوسٹ
پاکستان ایک نازک موڑ پر

متعلقہ پوسٹس

حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت

جولائی 24, 2022

چربی

جنوری 28, 2026

روغنی پتلے

جنوری 12, 2020

کراچی کا جلتا ہوا سوال

جنوری 21, 2026

مفتی عبد الرزاق خاں صاحب ؒ: ایک ستارہ اور ٹوٹ...

جون 13, 2021

پاوں بھاجی

مئی 21, 2020

اُس روز مدینہ بھی

دسمبر 6, 2025

غیر جانبدار اسٹیبلشمنٹ؟

جنوری 24, 2022

میں صدا فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے

مارچ 18, 2026

کوکھ جلی

مارچ 29, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جن کا پی سنگ بیتے ساون

اگست 23, 2020

سمے کا بندھن

جنوری 11, 2020

جسم اور رُوح

جنوری 31, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں