خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریروہ جو قرض اک تھا زبان پر
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرمشتاق یوسفی

وہ جو قرض اک تھا زبان پر

مشتاق یوسفی کی ایک اردو مزاحیه تحریر

از سائیٹ ایڈمن فروری 20, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 20, 2020 0 تبصرے 467 مناظر
468

وہ جو قرض اک تھا زبان پر، وہ حساب آج چکا دیا

مولانا صبح تڑکے بلبن کو لینے آ گئے۔ گیارہ بجے اسے نارتھ ناظم آباد کی پہاڑیوں کی تلیٹی میں گولی ماری جانے والی تھی۔

بشارت ناشتے پر بیٹھے تو ایسا محسوس ہوا جیسے حلق میں پھندالگ گیا ہو۔ آج انھوں نے بلبن کی صورت نہیں دیکھی۔ "گولی تو ‌ظاہر ہے پیشانی پر مارتے ہوں گے۔ ” انھوں نے سوچا بائیں آنکھ کی بھونری واقعی منحوس نکلی۔ جان لے کر رہے گی۔ مولانا کو انھوں نے رات ہی کو ہدایت کر دی تھی کہ لاش کو اپنے سامنے ہی گڑھے میں دفن کرا دیں۔ جنگل میں چیل کوؤں کے لیے پڑی نہ چھوڑیں۔ انھیں جھرجھری آئی اور وہ کباب پراٹھا کھائے بغیر اپنی دکان روانہ ہو گئے۔ راستے میں انھوں نے اس کا ساز اور روہڑ کا وہ خون آلود پیڈ پڑا دیکھا جو اس کی زخمی گردن پر باندھا جاتا تھا۔ ایسا لگا جیسے انھیں کچھ ہو رہا ہے۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے نکل گئے۔

بزرگوار کو اصل صورتِ احوال سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ انھیں صرف یہ بتایا گیا کہ بلبن دو ڈھائی مہینے کے لیے چَرائی پر پنجاب جا رہا ہے۔ وہ کہنے لگے "گائے بھینسوں کو تو چرائی پر جاتے سنا تھا، مگر گھوڑے کو گھانس کھانے کے واسطے کرانچی سے صوبہ پنجاب جاتے آج ہی سنا! کرانچی سے تو صرف سیٹھ اور لکھ پتی سیزن کے سیزن چَرائی پر کوہ مری جاویں ہیں۔ ” یہ ان سے الجھنے کا موقع نہیں تھا۔ ان کا بلڈ پریشر پہلے ہی بہت بڑھا ہوا تھا۔ انھیں کسی زمانے میں اپنی طاقت اور کسرتئ بدن پر بڑا ناز تھا۔ اب بھی بڑے فخر سے کہتے تھے کہ میرا بلڈ پریشر دو آدمیوں کے برابر ہے۔ دو آدمیوں کے برابر والے دعوے کی ہم بھی تصدیق کریں گے کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ انھیں معمولی سا درد ہوتا تو دو آدمیوں کی طاقت سے چیختے تھے۔ لہٰزا بشارت اپنے دروغِ مصلحت آمیز پر ڈٹے رہے۔ اور ٹھیک ہی کیا۔ مرزا اکثر کہتے ہیں کہ اپنے چھوٹوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، کیوں کہ اس سے انھیں بھی تحریک ہوتی ہے۔ لیکن بزرگوں کی اور بات ہے۔ انھیں کسی خارجی تحریک کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مولانا راس پکڑے بلبن کو بزرگوار سے ملوانے لے گئے۔ ان کا آدھے سے زیادہ سامان ان کے اپنے کمرے میں منتقل ہو چکا تھا۔ ہارمونیم رحیم بخش کے لال کھیس میں لپیٹا جا رہا تھا۔ بلبن کا فوٹو ریس جیتنے کے بعد اخبار میں چھپا تھا، ابھی دیوار سے اتارنا باقی تھا۔ وہ رات سے بہت مغموم تھے۔ خلافِ معمول عشاء کے بعد دو مرتبہ حقّہ پیا۔ اب وہ صبح و شام کیسے کاٹیں گے ؟ اس وقت جب بلبن ان کے پاس لایا گیا تو وہ سرجھکائے دیر تک اپنے ایال میں کنگھی کراتا رہا۔ آج انھوں نے اس کے پاؤں پر دَم نہیں کیا۔ جب وہ اس کی پیشانی پر اللہ لکھنے لگے تو ان کی انگلی چابک کے اُپڑے ہوئے لمبے نشان پر پڑی اور وہ چونک پڑے۔ جہاں تک یہ درد کی لکیر جاتی تھی ہاں تک خود کو زخماتے رہے۔ پھر دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگے ” کس نے مارا ہے ہمارے بیٹے کو؟” مولانا اسے لے جانے لگے تو اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے ” اچھا ۔ بلبن بیٹے ! ہمارا تو چل چلاؤ ہے۔ خدا جانے واپسی پر ہمیں پاؤ گے بھی یا نہیں۔ جاؤ، اللہ کی امان میں دیا۔ "

بلبن کی جدائی کے خیال سے بزرگوار ڈھے گئے۔ اب وہ اپنے دل کی بات کس سے کہیں گے ؟ کس کی شفا کے لیے دعا کو بے اختیار ہاتھ اٹھیں گے ؟ انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ قدرت کو اتنا سا آسرا، ایک جانور کی دُسراتھ تک منظور نہ ہو گی۔ جو خود کبھی تنہائی کے جان کو گھلا دینے والے کرب سے نہ گزرا ہو وہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اکیلا آدمی کیسی کیسی دسراتھ کا سہارا لیتا ہے۔ بے مثل انشائیوں کے مصنف چارلس لیمب نے ایک عمر کرب و تنہائی میں گزاری۔ پیر 12 مئی 1800 کو وہ کولرج کو اپنے خط میں لکھتا ہے ” گزشتہ جمعے کو ہیٹی ( ضعیف ملازمہ ) آٹھ دن کی علالت کے بعد چل بسی۔ اس کی میّت اس وقت کمرے میں میرے سامنے رکھی ہے۔ میری (چارلس لیمب کی بہن جسے دیوانگی کے دَورے پڑتے تھے ) اس صدمے کی تاب نہ لا سکی اور اس پر شدید دَورہ پڑا۔ لہٰذا اسے دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا۔ اب اس گھر میں، میں تنہا ہوں اور دسراہٹ کے لیے ہیٹی کی نعش کے سوا اور کوئی نہیں۔ کل میں اسے بھی دفن کر دوں گا تو بالکل ہی تنہا رہ جاؤں گا۔ پھر اس بلی کے اور کوئی نہ ہو گا جو مجھے یاد دلائے کہ ان آنکھوں نے کبھی اس گھر کو بھرا پُرا دیکھا تھا۔ کبھی اس میں بھی مجھ جیسے ذی روح رہتے تھے۔ "

مولانا دن بھر غیر حاضر رہے۔ دوسرے دن وہ بند بند اور کھنچے کھنچے سے نظر آئے۔ کئی سوال ہونٹوں پر لرز لرز کر رہ گئے۔ کسی کو ان سے پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی کہ بلبن کے گولی کہاں لگی۔ کہتے ہیں جانوروں کو موت کا premonition (پیش آگاہی ) ہو جاتا ہے۔ تو کیا جب وہ ویران پہاڑیوں میں لے جایا جا رہا تھا تو اس نے بھاگنے کی کوشش کی؟ اور کبھی آ کری لمحے میں معجزہ بھی تو ہو جایا کرتا ہے۔ وہ بہت جفا کش، سخت جان اور حوصلے والا تھا۔ دل نہیں مانتا کہ اس نے آسانی سے موت سے ہار مانی ہو گی:

Do not go gentle into that good night.

Rage, rage against the dying of the light

مشتاق احمد یوسفی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دورِ حاضر اور ایمانِ مسلم
  • عریاں احتجاج
  • زاہد محمود زاہد کا شعری لحن
  • بے حیائی پھیلانے میں میڈیاکا کردار
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
آہا آہا! برکھا آئی
پچھلی پوسٹ
جگرکےخوں سے ہی لےکے

متعلقہ پوسٹس

اردو زبان و ادب پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات

جون 9, 2021

پیا سا

جنوری 27, 2020

اصطلاح اور اصطلاحاتِ صوفیا کا تلمیحی جائزہ

اپریل 28, 2023

مٹی کی مونا لیزا

جنوری 15, 2020

کتے کی زبان

مئی 25, 2024

محبت کی ریت میں

دسمبر 6, 2024

یوم حساب

ستمبر 6, 2024

دلشاد نظمی کی نظم نگاری

مارچ 4, 2025

یوم پاکستان ایک نئی قرارداد کا منتظر!

مارچ 19, 2022

معاشرے میں نصیبو کا کردار

دسمبر 9, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چمک، شہرت اور تلخ حقیقت

فروری 22, 2026

تھالی کا بینگن

اکتوبر 25, 2019

اردو غزل کا سورج – سورج...

اپریل 24, 2011
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں