خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرشبدوں کے سنہری رتھ پر سوار شاہ زادی
اردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

شبدوں کے سنہری رتھ پر سوار شاہ زادی

نینا عادل پر اردو مضمون

از سائیٹ ایڈمن فروری 17, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 17, 2020 0 تبصرے 752 مناظر
753

نینا عادل
شبدوں کے سنہری رتھ پر سوار شاہ زادی
برس بیتے اس منظر کو دیکھتے، ایک شہزادی سنہری الفاظ کے رتھ پر سوار بڑی شان سے آنکھوں کے سامنے آتی ہے، گنگناتی ہے، چڑیوں کی طرح چہچہاتی ہے، دھاڑیں مار مار کر روتی ہے، اپنی آنکھیں ملتی، خوابوں کے پہناوے میں نجانے کس کی دھڑکنیں شمار کرتی ہے، سہمے سہمے شبد اپنے سینے سے لپٹا کر دن کا زہر پی کرNaina Aadil نیلی ہوتے ہوئےشفق کی سرخیوں کا غازہ اپنے گالوں پر ملتی ہےاور روشنی، سبزہ، حسن اور حیرت کو اپنی جاگیر بتاتی ہے؛ ظلمت، خزاں، وقت کی تیز دھوپ اور ایقان کو کوئی عفریت سمجھتی ہے، کہتی ہے کہ اسے تکمیل کی ضرورت ہے، کبھی اس تکمیل کی خاطر خود اپنے آپ میں ضم ہوتی ہے اور کبھی اپنے آپ سے جدا، اپنی سوچوں کے، اپنی سانسوں کے زیر و بم میں ایسا توازن لاتی ہے، اپنے پاؤں پر سجے گھنگھروؤں کو ایسا مشتعل کرتی ہے کہ اس کے سامنے آنے والے ہر نفس کی روح تک اس تھاپ پر دھڑکنے لگتی ہے، اپنے خوابوں کا گھونگھٹ اوڑھے اپنے رتھ میں سے جھانکتی ہے، اجالوں اور بہاروں سے گلہ کرتی ہے اور کسی معصوم سے بچے کی طرح نبضِ کائنات کو رقصاں رہنے کا حکم دے ڈالتی ہے۔

عجیب زمیں زاد ہے، جو کبھی خود سے، کبھی تتلیوں سے، کبھی قدرت کی خوبصورتیوں اور بد صورتیوں سے، کبھی بادلوں اور ہواؤں سے، کبھی ہواؤں کے چلنے سے بجتی ہوئی آہٹوں کی جلترنگ سے انہی سب کے الفاظ کی چادریں اوڑھے لکنت بھری آسمانی باتیں کرتی ہی چلی جاتی ہے۔

وہ معصومیت ہی کیا جس میں بناوٹ در آئے، وہ حسن ہی کیا جسے اپنی خوبصورتی کو ہر وقت احساس رہے، وہ فن ہی کیا جس میں بے ساختگی نہ مل سکے، اس شہزادی کے نغموں میں موجود جذبے اور ان کا اظہار اپنی خام صورت میں موجود ہے، جو کسی بھی فنکار کے فن کی سچائی کی پہلی شرط ہے۔ جو شاعر ایسے اشعار کہہ سکتی ہے کہ

ہے صحرا نوردی تو آسان مجنوں

اگر تجھ کو پڑ جائے گھر بار کرنا

سنو ! سانس لینے کو کرتا ہے جی اب

سنو کیا ابھی بھی اجازت نہیں ہے؟

کوزہ گر مری مٹی

بھربھری سے ہے! کیوں ہے؟

بوندوں کی چھیڑ چھاڑ سے، پانی کے کھیل سے

اک کھوکھلے حصار میں پتھر بدل گیا

تو ایسے اظہار کے لئے دل سے والہانہ طور پر واہ نہ نکلے تو اور کیا ہو؟

اسی طرح اس نظم میں ’’زومنگ ان‘‘ کا خوبصورت نمونہ ملاحظہ ہو

ایک پرانے بکسے میں

بوسیدہ کپڑوں کے نیچے

کاغذ کے پرزوں کے پیچھے

تعویزوں، تاگوں کے بھیتر

دھات کے میلے ڈبے میں

مٹتے ہوئے فوٹو کے اندر

سرخ سنہرے گوٹے کی

رنگین ستاروں والی جو

ریشم کی ساڑھی ہوتی ہے

ایک ابھاگن بڑھیا کو

وہ جان سے پیاری ہوتی ہے

نینا عادل کی وہ نظم، جس میں وہ پلومیریا کا ایک پھول ہونے کی خواہش کرتی ہے، کچھ یوں کرتی ہے

کاش میں پلومیریا ہوتی

جس کی تخلیق کا واحد مقصد

کائنات کے حسن میں اضافہ کرنا

مسرت باٹنا، فرحت اور تازگی بخشنا

اور ہوا کی ہتھیلی پر خوشبو کی نظم لکھ کر

رخصت ہو جانا ہوتا۔۔

یہ نظم پڑھتے ہوئے میں سوچ میں پڑ گیا؛ گو کہ ہم میں سے کچھ انسان زمینوں، پانیوں، فضاؤں اور ذہنوں کو کاٹنے والے سازشیوں کے قبیلے ہی سے تعلق رکھتے ہوں گے لیکن نینا! آپ تو اس قبیلے سے ہرگز نہیں ہو، آپ تو اس قبیلے سے ہو جس کا ایک قد آور فرد مال روڈ پر کٹنے والے درختوں کو دیکھ کر دھاڑیں مارتے ہوئے رو پڑا تھا، جو پھولوں کے بیل کی آواز بن کر نوحہ خواں ہوا تھا کہ کہ وہ بیل، یا وہ خود یا آپ کی طرح کے اس جیسے حساس دلوں والے روز روز کب آتے ہیں، جانے والوں سے بس ایک نگاہ کی بھیک سے زیادہ کیا مانگتے ہیں۔ نہیں نینا نہیں۔۔ آپ پلومیریا ہی نہیں، اس سے کہیں بڑھ کر ہو ۔ آپ تو اہلِ نظر کے اس قبیلے سے ہو جس کے لوگوں کو پسِ خوشبوئے گل بھی مرگِ گل کا منظر نظر آتا ہے۔

خوبصورت منظر کشی ہو کہ لطیف جذبات کا فنکارانہ اظہار، بہار کے حسن کا بیان ہو کہ خزاں کی مرگ آور واردات کا نوحہ، کسی ماں کے دل کی حالت کا بیان ہو کہ بازار سے گزرتے ایک انسان کی سرسری سوچ کی قلمبندی۔۔۔۔۔ نینا ہر کینوس میں منفرد رنگ بھرتے ہوئے ایک منجھے ہوئے آرٹسٹ کے طور پر سامنے آتی ہے، خوبصورت، پر اعتماد اور باوقار۔ آزاد نظم میں دریاؤں کی سی روانیوں کو برقرار رکھتی، نثری نظم میں خیال کو اپنی کامل شکل میں موثر تر طور پر قاری کی روح کی گہرائیوں تک پہنچاتی، اور غزل جیسی شاطر صنف کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی۔ نینا کو پڑھتے ہوئے یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس نوجوان سی الہڑ شاعرہ کے اندر ایک بہت بوڑھی روح موجود ہے جس کے شعور اور وجدان کے پیچھے صرف تخلیقی قوت ہی نہیں بلکہ ایک بہت صاحب ِ مطالعہ دانشور کی فکری بلوغت بھی موجود ہے۔

شعر و شاعری کے اس ربع صدی کے سفر میں کسی دوسرے شاعر کو پڑھتے ہوئے ایسا احساس بہت خال خال ہی ہوا کہ شاید یہ شاعر بھی وہ سب کچھ محسوس کرتا ہے جو میں کرتا ہوں، شاید یہ شاعر بھی کرب کے اسی نشے کا عادی ہے جس افیون کو پیتے پیتے میرا لڑکپن، جوانی اور اب باقی عمر بھی گزرنے کو ہے۔ نینا عادل انہی چند شعراء میں سے ہے جس کو پڑھتے ہوئے بارہا خیال آتا ہے کہ ارے ۔۔۔ یہ شعر تو مجھے کہنا تھا، یہ نظم تو میرے لاشعور میں پل رہی تھی ۔۔ یہ خیال تو میری ملکیت ہونا تھا ۔۔۔

مجھے شاعری میں موجود لایعنی تلازمات، ان دیکھی فارسی تراکیب یا بےہنگم سوچوں کا بےترتیب اظہار کبھی پسند نہیں رہا، میرے نزدیک شاعری وہی ہے جو قاری کی سوچ کو اس کے خول سے نکلنے پر مجبور کر دے، اس کے سوالات کے جوابات نہ دے بلکہ اسے صرف ایک سمت کی طرف گامزن کر دے، اس کے لئے کسی نئی جہت کے در وا کر دے، اسے سوچنے پر مجبور کر دے۔ جس شاعری کو پڑھتے ہوئے یہ احساس ہو کہ شاعر نے اس پر بہت محنت کی ہے، میرے نزدیک شاعری کہلانے کے یا پڑھنے کے قابل ہی نہیں۔ مجھے نینا کی کسی غزل یا کسی بھی نظم کو پڑھتے ہوئے ایسا احساس قریب سے چھو کر بھی نہیں گزرا، اس کے مصرعوں کا بےساختہ پن، اس کے خیالات کا والہانہ پن اور اس کے اظہار کی مضبوطی ان کئی چیزوں میں سے چند ایک ہیں جنہوں نے مجھے اس پر کچھ لکھنے پر مجبور کیا۔ میں اپنے آپ کو نقاد ہرگز نہیں سمجھتا، نینا کی شاعری پر منجھے ہوئے نقاد حضرات ضرور کام کریں گے، اس شاعرہ کو نظر انداز کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہو سکتا، میری ان چند سطور کو ایک حساس روح کا ایک اور حساس روح کے لئے خراج سمجھا جائے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

رتھ پر آتی اس شہزادی کی آمد کے اس منظر کو دیکھتے برس بیتے ، وہ جس والہانہ پن اور طمطراق سے سامنے آتی ہے اسی شان و شوکت سے نظروں کے سامنے اپنے چاہنے والوں کو کبھی پیاسا، کبھی خوش اور کبھی غمگین لیکن بہر طور سوچ میں غلطاں چھوڑ جاتی ہے۔

یاور ماجد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اللہ کی محبت کے رنگ
  • ایموجیز اور سیکسٹنگ
  • غلط فہمی کا نتیجہ
  • ممّی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میر واہ کی راتیں 
پچھلی پوسٹ
ہمیں اب کوچ کرنا ہے

متعلقہ پوسٹس

پسینہ

جنوری 24, 2020

سوبھاوِک تھا

جنوری 24, 2020

رئیس اعظم

فروری 15, 2023

ہالی ووڈ کا فریب – چوتھی قسط

جنوری 19, 2025

سکردو میں پونم

جون 15, 2025

دس مِنٹ بارش میں

جنوری 17, 2020

جھوٹن

دسمبر 28, 2019

خورشٹ

جنوری 31, 2020

بھارتی بے بسی کے نام – اقبالؒ کا پیغام!

جون 25, 2021

میں کون ہوں؟ مسلمان ہوں یا کیا ہوں؟

مارچ 23, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عمران خان کی اپیل اور روس...

اپریل 18, 2020

سفید گھوڑا

مئی 7, 2023

سلطان مظفر کا واقعہ نویس

جون 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں