خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباقدرت سے قیمت تک
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزانور علی

قدرت سے قیمت تک

از انور علی مارچ 20, 2025
از انور علی مارچ 20, 2025 0 تبصرے 91 مناظر
92

آج کل ایک بات مجھے بہت پریشان کر رہی ہے۔ جب بھی میں کسی کے گھر جاتا ہوں اور سنتا ہوں کہ بچہ سیزیرین (C-section) کے ذریعے پیدا ہوا ہے، تو میرے ذہن میں یہ سوال اُبھرتا ہے: "یہ رجحان اتنا کیوں بڑھ گیا ہے؟ کیا واقعی ہر کیس میں سیزیرین ضروری ہوتی ہے، یا پھر ڈاکٹروں نے اسے ایک نیا کاروبار بنا لیا ہے؟”

میں نے اپنی زندگی میں وہ دور دیکھا ہے جب نارمل ڈلیوری ایک عام بات تھی۔ 90 کی دہائی میں، جب میں بچہ تھا، ہمارے گاؤں میں دائی ہوا کرتی تھیں، جو بہت ماہر تھیں۔ وہ بغیر کسی مہنگی دوا یا جدید مشینری کے، صرف اپنے تجربے اور ہاتھ کی صفائی سے بچوں کی پیدائش کروا دیتی تھیں۔
ہمارے خاندان اور پڑوس کے تمام بچے نارمل ڈلیوری کے ذریعے پیدا ہوئے۔ نہ اسپتال کے چکر لگتے تھے، نہ کوئی خوف کا ماحول ہوتا تھا، اور نہ ہی پیسوں کا لین دین۔ سب کچھ ایک فطری طریقے سے ہوتا تھا، جو تب سے چلا آ رہا ہے جب سے حضرت آدم علیہ السلام نے دنیا میں قدم رکھا تھا اور اسکي بعد انسان کي آني کا يي ايک واحد طريقا تها. اور ٢٠١٠ کي بہد سڀ الٽا هو گيا.
لیکن آج کا زمانہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اب تو جیسے بچہ ماں کے پیٹ میں آتے ہی ڈاکٹرز منصوبہ بنا لیتے ہیں کہ اس کا سیزیرین ہوگا۔ لگتا ہے جیسے آج کے ڈاکٹرز نے انسان کے پیدا ہونے کا طریقہ ہی بدل دیا ہے!
یہ رجحان کیوں بڑھا؟

ضروری نہیں کہ ہر صورت میں آپریشن کی ضرورت ہو، لیکن پھر بھی، آج کل ہر دوسری عورت کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں اس کے پیچھے کچھ خاص وجوہات ہیں:

1. ڈاکٹروں کا کاروبار:
سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اب یہ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ سیزیرین ایک مہنگا عمل ہے جس سے اسپتال کو زیادہ پیسے ملتے ہیں۔ نارمل ڈلیوری میں گھنٹوں لگ سکتے ہیں، لیکن آپریشن ڈاکٹر کے لیے آسان ہے – چند منٹوں میں کام ختم، اور آمدنی بھی زیادہ!
2. لوگوں کا خوف اور ڈاکٹروں کا مشورہ:
آج کے ڈاکٹرز نے لوگوں میں اتنا خوف بھر دیا ہے جیسے نارمل ڈلیوری زندگی کے لیے خطرہ ہو۔ پہلے مائیں اپنے جسم پر بھروسہ کرتی تھیں، آج لوگ صرف ڈاکٹر کی رائے پر یقین کرتے ہیں۔ ہر بار سننے کو ملتا ہے:
"رسک ہے، آپریشن کرنا پڑے گا۔”
3. آرام طلب زندگی:
پہلے کی عورتیں کھیتوں میں کام کرتی تھیں، پانی بھر کر لاتیں، اور گھر کے کام کاج کرتیں۔ اس سے ان کا جسم مضبوط ہوتا تھا اور ڈلیوری میں آسانی ہوتی تھی۔ آج کل کی آرام دہ زندگی اور جسمانی حرکت کی کمی نے نارمل ڈلیوری کو مشکل بنا دیا ہے۔
4. دائیوں کا خاتمہ:
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ دائیوں کا پیشہ اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے ہر گاؤں میں ایک دائی ہوتی تھی جو نہ صرف ماں کا خیال رکھتی تھی بلکہ اپنے تجربے، دعاؤں، اور حوصلے سے ماں کو ہمت بھی دیتی تھی۔ آج لوگوں کا بھروسہ صرف اسپتال پر ہے۔

فطری اور سیزیرین پیدائش کا فرق:

کچھ دہائیوں پہلے، جو بچے نارمل ڈلیوری سے پیدا ہوتے تھے، وہ زیادہ صحتمند ہوتے تھے۔ ان کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا تھا، کیونکہ ماں کے پیدائشی راستے سے گزرنے پر انہیں بہت سی قدرتی قوتیں ملتی تھیں۔ آج جو بچے آپریشن سے پیدا ہوتے ہیں، ان میں کچھ صحت کے مسائل زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں، جیسے سانس لینے میں دشواری، کمزور مدافعتی نظام، اور الرجی۔

علامہ اقبال کا پیغام:

اقبال کی شاعری انسان کو اپنی فطرت اور خودی پر بھروسہ کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ جیسے کہ وہ کہتے ہیں:

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے

یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ صرف عقل، علم، یا سائنس پر بھروسہ کافی نہیں ہے؛ انسان کو اپنی اندرونی روشنی اور فطرت پر بھی اعتماد کرنا چاہیے۔ ترقی کے نام پر جو راستہ ہم نے اختیار کیا ہے، وہ اکثر ہمیں گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔

سوچنے کا مقام:

اگر ماں کو صحیح طریقے سے تیار کیا جائے اور اس میں خود پر اعتماد پیدا کیا جائے، تو آج بھی بہت سی نارمل ڈلیوریاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن جب ڈاکٹر پہلے ہی کہہ دے کہ "آپریشن ہی بہتر ہے”، تو ماں اپنی ہمت اور خودی کھو بیٹھتی ہے۔
یہ سوچنے کی بات ہے:

کیا ہم نے قدرت پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے؟
یا پھر ہم نے اپنی آسانیوں کو ترجیح دے کر ایک نئے کاروبار کو جنم دیا ہے؟
اگر ہم واقعی اس مسئلے کو سمجھیں اور لوگوں کو آگاہ کریں، تو شاید ہم پھر سے اپنے بچوں کو اس فطری طریقے سے دنیا میں آتا دیکھ سکیں، جو ازل سے چلا آ رہا ہے۔

انور علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مجھ کو دن رات سوچنے والا
  • خاموشی بھی موت ہوتی ہے
  • حضرت محمد ﷺ کی محبت
  • سیر عدم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
انور علی

اگلی پوسٹ
اپنے وطن میں امن و اماں
پچھلی پوسٹ
غزہ کے بچوں کے نام

متعلقہ پوسٹس

ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے

جنوری 23, 2020

گھر کی دیوار پہ کیوں لکھا

فروری 26, 2025

کھردری گرد کی کھال

جنوری 23, 2020

بیکار ہے سب شکوۂ حالات وغیرہ

نومبر 1, 2025

کلر بلائنڈ

فروری 17, 2020

محرم الحرام

جون 18, 2026

اتوار کا فائنل

ستمبر 26, 2025

کوئی بھی کام کاج ٹھیک نہیں

جنوری 12, 2025

قابل نہیں سمجھتے جنھیں

اکتوبر 12, 2025

کوئی تصویر کجا تیرے حوالوں کے لیے

جون 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرد ہوا سی کیوں ہے

اکتوبر 9, 2025

انڈا، سیاہی اور جوتا

ستمبر 6, 2025

جمہوریت یاانتقامی سیاست!!

فروری 26, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں