خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباقدرت سے قیمت تک
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزانور علی

قدرت سے قیمت تک

از انور علی مارچ 20, 2025
از انور علی مارچ 20, 2025 0 تبصرے 72 مناظر
73

آج کل ایک بات مجھے بہت پریشان کر رہی ہے۔ جب بھی میں کسی کے گھر جاتا ہوں اور سنتا ہوں کہ بچہ سیزیرین (C-section) کے ذریعے پیدا ہوا ہے، تو میرے ذہن میں یہ سوال اُبھرتا ہے: "یہ رجحان اتنا کیوں بڑھ گیا ہے؟ کیا واقعی ہر کیس میں سیزیرین ضروری ہوتی ہے، یا پھر ڈاکٹروں نے اسے ایک نیا کاروبار بنا لیا ہے؟”

میں نے اپنی زندگی میں وہ دور دیکھا ہے جب نارمل ڈلیوری ایک عام بات تھی۔ 90 کی دہائی میں، جب میں بچہ تھا، ہمارے گاؤں میں دائی ہوا کرتی تھیں، جو بہت ماہر تھیں۔ وہ بغیر کسی مہنگی دوا یا جدید مشینری کے، صرف اپنے تجربے اور ہاتھ کی صفائی سے بچوں کی پیدائش کروا دیتی تھیں۔
ہمارے خاندان اور پڑوس کے تمام بچے نارمل ڈلیوری کے ذریعے پیدا ہوئے۔ نہ اسپتال کے چکر لگتے تھے، نہ کوئی خوف کا ماحول ہوتا تھا، اور نہ ہی پیسوں کا لین دین۔ سب کچھ ایک فطری طریقے سے ہوتا تھا، جو تب سے چلا آ رہا ہے جب سے حضرت آدم علیہ السلام نے دنیا میں قدم رکھا تھا اور اسکي بعد انسان کي آني کا يي ايک واحد طريقا تها. اور ٢٠١٠ کي بہد سڀ الٽا هو گيا.
لیکن آج کا زمانہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اب تو جیسے بچہ ماں کے پیٹ میں آتے ہی ڈاکٹرز منصوبہ بنا لیتے ہیں کہ اس کا سیزیرین ہوگا۔ لگتا ہے جیسے آج کے ڈاکٹرز نے انسان کے پیدا ہونے کا طریقہ ہی بدل دیا ہے!
یہ رجحان کیوں بڑھا؟

ضروری نہیں کہ ہر صورت میں آپریشن کی ضرورت ہو، لیکن پھر بھی، آج کل ہر دوسری عورت کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں اس کے پیچھے کچھ خاص وجوہات ہیں:

1. ڈاکٹروں کا کاروبار:
سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اب یہ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ سیزیرین ایک مہنگا عمل ہے جس سے اسپتال کو زیادہ پیسے ملتے ہیں۔ نارمل ڈلیوری میں گھنٹوں لگ سکتے ہیں، لیکن آپریشن ڈاکٹر کے لیے آسان ہے – چند منٹوں میں کام ختم، اور آمدنی بھی زیادہ!
2. لوگوں کا خوف اور ڈاکٹروں کا مشورہ:
آج کے ڈاکٹرز نے لوگوں میں اتنا خوف بھر دیا ہے جیسے نارمل ڈلیوری زندگی کے لیے خطرہ ہو۔ پہلے مائیں اپنے جسم پر بھروسہ کرتی تھیں، آج لوگ صرف ڈاکٹر کی رائے پر یقین کرتے ہیں۔ ہر بار سننے کو ملتا ہے:
"رسک ہے، آپریشن کرنا پڑے گا۔”
3. آرام طلب زندگی:
پہلے کی عورتیں کھیتوں میں کام کرتی تھیں، پانی بھر کر لاتیں، اور گھر کے کام کاج کرتیں۔ اس سے ان کا جسم مضبوط ہوتا تھا اور ڈلیوری میں آسانی ہوتی تھی۔ آج کل کی آرام دہ زندگی اور جسمانی حرکت کی کمی نے نارمل ڈلیوری کو مشکل بنا دیا ہے۔
4. دائیوں کا خاتمہ:
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ دائیوں کا پیشہ اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے ہر گاؤں میں ایک دائی ہوتی تھی جو نہ صرف ماں کا خیال رکھتی تھی بلکہ اپنے تجربے، دعاؤں، اور حوصلے سے ماں کو ہمت بھی دیتی تھی۔ آج لوگوں کا بھروسہ صرف اسپتال پر ہے۔

فطری اور سیزیرین پیدائش کا فرق:

کچھ دہائیوں پہلے، جو بچے نارمل ڈلیوری سے پیدا ہوتے تھے، وہ زیادہ صحتمند ہوتے تھے۔ ان کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا تھا، کیونکہ ماں کے پیدائشی راستے سے گزرنے پر انہیں بہت سی قدرتی قوتیں ملتی تھیں۔ آج جو بچے آپریشن سے پیدا ہوتے ہیں، ان میں کچھ صحت کے مسائل زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں، جیسے سانس لینے میں دشواری، کمزور مدافعتی نظام، اور الرجی۔

علامہ اقبال کا پیغام:

اقبال کی شاعری انسان کو اپنی فطرت اور خودی پر بھروسہ کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ جیسے کہ وہ کہتے ہیں:

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے

یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ صرف عقل، علم، یا سائنس پر بھروسہ کافی نہیں ہے؛ انسان کو اپنی اندرونی روشنی اور فطرت پر بھی اعتماد کرنا چاہیے۔ ترقی کے نام پر جو راستہ ہم نے اختیار کیا ہے، وہ اکثر ہمیں گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔

سوچنے کا مقام:

اگر ماں کو صحیح طریقے سے تیار کیا جائے اور اس میں خود پر اعتماد پیدا کیا جائے، تو آج بھی بہت سی نارمل ڈلیوریاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن جب ڈاکٹر پہلے ہی کہہ دے کہ "آپریشن ہی بہتر ہے”، تو ماں اپنی ہمت اور خودی کھو بیٹھتی ہے۔
یہ سوچنے کی بات ہے:

کیا ہم نے قدرت پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے؟
یا پھر ہم نے اپنی آسانیوں کو ترجیح دے کر ایک نئے کاروبار کو جنم دیا ہے؟
اگر ہم واقعی اس مسئلے کو سمجھیں اور لوگوں کو آگاہ کریں، تو شاید ہم پھر سے اپنے بچوں کو اس فطری طریقے سے دنیا میں آتا دیکھ سکیں، جو ازل سے چلا آ رہا ہے۔

انور علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تُو زُلف زُلف تھی مگر کھلی نہیں
  • چائے پانی کو یہاں پر
  • روگ پلتا رہا
  • غلط کہتے ہو عورت ناچتی ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
انور علی

اگلی پوسٹ
اپنے وطن میں امن و اماں
پچھلی پوسٹ
غزہ کے بچوں کے نام

متعلقہ پوسٹس

الگ رکھ کے ادب آداب تیرے

دسمبر 31, 2021

بائی کے ماتم دار

جون 15, 2020

مزاج موسموں کے جھیلنے کی عادت ہے

اپریل 23, 2022

ایمیزون کی بازگشت

دسمبر 19, 2024

قدرتی ٹانک آم کے کرشمے

نومبر 2, 2021

پیاری ڈکار

دسمبر 30, 2019

کھول دو

اکتوبر 16, 2019

کیا جنگ ہی حل ہے؟

مارچ 2, 2026

شہزادی کے بہ منت الفاظ

اپریل 1, 2023

بزم فگار پر اک نظر

ستمبر 7, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بچوں میں اسکرین ٹائم کے اثرات

مارچ 4, 2026

کب تک تیری بات سنے گا...

مئی 21, 2020

سمندر کے نام دوسرا غنائیہ

مارچ 24, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں