خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا جنگ ہی حل ہے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

کیا جنگ ہی حل ہے؟

از سائیٹ ایڈمن مارچ 2, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 2, 2026 0 تبصرے 88 مناظر
89

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بے چینی اور اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ کویت میں امریکی F‑15 جنگی طیارے کے حادثے، اور ایران پر ٹرمپ کی عسکری کارروائی نے خطے میں موجود کشیدگی کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کے متعدد فوجی اہداف، میزائل اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور فضائی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں ایران میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جن میں اسکول اور شہری علاقے بھی شامل ہیں۔ اس تمام صورتحال نے خطے میں خوف، عدم اعتماد اور عالمی سطح پر سیاسی و معاشی عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے۔

گزشتہ برسوں پر نظر ڈالیں تو مشرق وسطیٰ مسلسل بحرانوں کا شکار رہا ہے۔ غزہ کی حالیہ لڑائی میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ یمن میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی نے لاکھوں افراد کو خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم کر دیا۔ شام میں جاری خانہ جنگی نے ایک پوری نسل کو پناہ گزین کیمپوں میں دھکیل دیا، جبکہ لیبیا میں سیاسی عدم استحکام نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔ ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ کا آغاز تو آسان ہوتا ہے، مگر اختتام انسانی المیے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

علاقائی تناؤ کی موجودہ صورت حال بھی تشویشناک ہے۔ ایران نے میزائل اور ڈرون سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور قطر نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو چوکس کر دیا ہے۔ ہر معمولی واقعہ بھی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ فضائی اور زمینی نقل و حرکت میں اضافہ، سرحدی نگرانی اور فوجی مشقیں خوف اور عدم اعتماد کو بڑھا رہی ہیں۔ یہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں سنجیدہ سفارت کاری اور ثالثی کردار سب سے زیادہ ضروری ہیں۔

جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام انسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ غزہ میں تباہ شدہ اسکول، یمن میں بھوکے بچے اور شام کے پناہ گزین کیمپ اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ طاقت کے اس کھیل میں انسانی زندگی کی قیمت سب سے کم ہوتی ہے۔ معیشتیں متاثر ہوتی ہیں، روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ ایک پوری نسل خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔ ایران اور خلیج میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس سے ایندھن، بجلی اور اشیائے ضروریہ مہنگے ہو جاتے ہیں اور عوامی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

دفاعی اخراجات کا بڑھتا ہوا حجم بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ خلیجی ممالک ہر سال اربوں ڈالر دفاعی بجٹ میں صرف کرتے ہیں۔ جدید طیارے، میزائل نظام اور دفاعی ٹیکنالوجی پر لگائی جانے والی سرمایہ کاری اگر تعلیم، صحت اور روزگار کے منصوبوں میں لگائی جاتی تو نوجوان نسل کے لیے مواقع پیدا ہوتے اور معاشرتی ترقی کا راستہ کھلتا۔ مگر جب وسائل کی یہ بڑی سرمایہ کاری اسلحے پر جاتی ہے تو نوجوانوں کے مواقع محدود رہتے ہیں اور سماجی ترقی سست پڑ جاتی ہے۔

عالمی طاقتوں کی پالیسی بھی زیر بحث ہے۔ بڑی ریاستیں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں اور انسانیت کی فلاح پر اثر انداز ہونے والے اقدامات کو اکثر نظر انداز کر دیتی ہیں۔ اسلحہ ایک منافع بخش صنعت ہے اور تنازعات اس کی طلب برقرار رکھتے ہیں۔ خطے کے مسائل صرف طاقت کے توازن سے حل نہیں ہو سکتے۔ عالمی سطح پر ثالثی، مذاکرات اور اقتصادی تعاون کے منصوبے ہی دیرپا امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔

مسلم دنیا کی قیادت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ فورمز فعال کیے جائیں۔ اقتصادی تعاون کے منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ ممالک کے مفادات امن سے جڑے ہوں۔ جب ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ تجارت اور ترقی کے منصوبوں میں جڑی ہوں تو جنگ کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، کیونکہ نقصان ہر طرف ہوتا ہے۔

پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی یہ سبق ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے توانائی کے نرخ بڑھتے ہیں، سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور عوامی سطح پر مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم علاقائی واقعات سے صرف خوف نہ کھائیں بلکہ اپنے سفارتی اور معاشی دفاعی نظام کو مضبوط کریں اور مستحکم معاشرتی بنیادیں قائم کریں۔

کویت میں پیش آنے والا حالیہ طیارہ حادثہ، ایران پر امریکی حملے، غزہ اور یمن کے جاری بحران، ایران اور خلیجی ممالک کے بڑھتے ہوئے تنازعات سب ہمیں ایک ہی سبق دیتے ہیں: طاقت کی دوڑ میں انسانیت ہمیشہ پس جاتی ہے۔ وقتی برتری شاید حاصل ہو جائے، مگر پائیدار امن صرف اعتماد، مکالمے اور انسان دوستی سے ممکن ہے۔

آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا جنگ واقعی مسائل کا حل ہے؟ یا ہم تاریخ کی وہی غلطی بار بار دہرا رہے ہیں؟ اگر آج انسانیت کو اولین ترجیح نہ دی گئی، تو آنے والی نسلیں ہم سے یہی پوچھیں گی: جب امن کا راستہ موجود تھا تو ہم نے تباہی کا راستہ کیوں اختیار کیا؟

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قلم اور صفحہ کی گفتگو
  • تلاش
  • کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟
  • یک طرفہ محبت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے
پچھلی پوسٹ
”غزل کروٹ بدلتی ہے” ایک تنقیدی جاج

متعلقہ پوسٹس

"کرونا” حقائق اور جھوٹ

مارچ 30, 2020

اکثر لوگ بھول جاتے ہیں

جنوری 5, 2025

صحت مند زندگی کے لیے مثبت سوچ

ستمبر 28, 2025

محبت کا ایک قطرہ

دسمبر 25, 2024

خاموش چیخیں اور بکھری ہوئی راہیں

مارچ 13, 2025

توپوں کی گھن گرج میں امن کی صدا

اکتوبر 12, 2025

اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں

جون 3, 2020

قومی یکجہتی اور اردو زبان

اگست 22, 2025

توبۃ النصوح – فصل دہم

اکتوبر 30, 2020

کبھی تعمیر ہوتی ہوں کبھی مسمار ہوتی ہوں

جنوری 12, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سلیم فائز

دسمبر 29, 2021

اپنی ہر اک ادا میں بہت...

اپریل 4, 2026

سرگزرِ عدم کی سرحد پر

دسمبر 25, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں