خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا جنگ ہی حل ہے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

کیا جنگ ہی حل ہے؟

از سائیٹ ایڈمن مارچ 2, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 2, 2026 0 تبصرے 58 مناظر
59

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بے چینی اور اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ کویت میں امریکی F‑15 جنگی طیارے کے حادثے، اور ایران پر ٹرمپ کی عسکری کارروائی نے خطے میں موجود کشیدگی کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کے متعدد فوجی اہداف، میزائل اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور فضائی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں ایران میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جن میں اسکول اور شہری علاقے بھی شامل ہیں۔ اس تمام صورتحال نے خطے میں خوف، عدم اعتماد اور عالمی سطح پر سیاسی و معاشی عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے۔

گزشتہ برسوں پر نظر ڈالیں تو مشرق وسطیٰ مسلسل بحرانوں کا شکار رہا ہے۔ غزہ کی حالیہ لڑائی میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ یمن میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی نے لاکھوں افراد کو خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم کر دیا۔ شام میں جاری خانہ جنگی نے ایک پوری نسل کو پناہ گزین کیمپوں میں دھکیل دیا، جبکہ لیبیا میں سیاسی عدم استحکام نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔ ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ کا آغاز تو آسان ہوتا ہے، مگر اختتام انسانی المیے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

علاقائی تناؤ کی موجودہ صورت حال بھی تشویشناک ہے۔ ایران نے میزائل اور ڈرون سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور قطر نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو چوکس کر دیا ہے۔ ہر معمولی واقعہ بھی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ فضائی اور زمینی نقل و حرکت میں اضافہ، سرحدی نگرانی اور فوجی مشقیں خوف اور عدم اعتماد کو بڑھا رہی ہیں۔ یہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں سنجیدہ سفارت کاری اور ثالثی کردار سب سے زیادہ ضروری ہیں۔

جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام انسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ غزہ میں تباہ شدہ اسکول، یمن میں بھوکے بچے اور شام کے پناہ گزین کیمپ اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ طاقت کے اس کھیل میں انسانی زندگی کی قیمت سب سے کم ہوتی ہے۔ معیشتیں متاثر ہوتی ہیں، روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ ایک پوری نسل خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔ ایران اور خلیج میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس سے ایندھن، بجلی اور اشیائے ضروریہ مہنگے ہو جاتے ہیں اور عوامی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

دفاعی اخراجات کا بڑھتا ہوا حجم بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ خلیجی ممالک ہر سال اربوں ڈالر دفاعی بجٹ میں صرف کرتے ہیں۔ جدید طیارے، میزائل نظام اور دفاعی ٹیکنالوجی پر لگائی جانے والی سرمایہ کاری اگر تعلیم، صحت اور روزگار کے منصوبوں میں لگائی جاتی تو نوجوان نسل کے لیے مواقع پیدا ہوتے اور معاشرتی ترقی کا راستہ کھلتا۔ مگر جب وسائل کی یہ بڑی سرمایہ کاری اسلحے پر جاتی ہے تو نوجوانوں کے مواقع محدود رہتے ہیں اور سماجی ترقی سست پڑ جاتی ہے۔

عالمی طاقتوں کی پالیسی بھی زیر بحث ہے۔ بڑی ریاستیں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں اور انسانیت کی فلاح پر اثر انداز ہونے والے اقدامات کو اکثر نظر انداز کر دیتی ہیں۔ اسلحہ ایک منافع بخش صنعت ہے اور تنازعات اس کی طلب برقرار رکھتے ہیں۔ خطے کے مسائل صرف طاقت کے توازن سے حل نہیں ہو سکتے۔ عالمی سطح پر ثالثی، مذاکرات اور اقتصادی تعاون کے منصوبے ہی دیرپا امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔

مسلم دنیا کی قیادت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ فورمز فعال کیے جائیں۔ اقتصادی تعاون کے منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ ممالک کے مفادات امن سے جڑے ہوں۔ جب ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ تجارت اور ترقی کے منصوبوں میں جڑی ہوں تو جنگ کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، کیونکہ نقصان ہر طرف ہوتا ہے۔

پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی یہ سبق ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے توانائی کے نرخ بڑھتے ہیں، سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور عوامی سطح پر مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم علاقائی واقعات سے صرف خوف نہ کھائیں بلکہ اپنے سفارتی اور معاشی دفاعی نظام کو مضبوط کریں اور مستحکم معاشرتی بنیادیں قائم کریں۔

کویت میں پیش آنے والا حالیہ طیارہ حادثہ، ایران پر امریکی حملے، غزہ اور یمن کے جاری بحران، ایران اور خلیجی ممالک کے بڑھتے ہوئے تنازعات سب ہمیں ایک ہی سبق دیتے ہیں: طاقت کی دوڑ میں انسانیت ہمیشہ پس جاتی ہے۔ وقتی برتری شاید حاصل ہو جائے، مگر پائیدار امن صرف اعتماد، مکالمے اور انسان دوستی سے ممکن ہے۔

آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا جنگ واقعی مسائل کا حل ہے؟ یا ہم تاریخ کی وہی غلطی بار بار دہرا رہے ہیں؟ اگر آج انسانیت کو اولین ترجیح نہ دی گئی، تو آنے والی نسلیں ہم سے یہی پوچھیں گی: جب امن کا راستہ موجود تھا تو ہم نے تباہی کا راستہ کیوں اختیار کیا؟

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • والد – جنت کا دروازہ
  • خاموش چیخیں اور بکھری ہوئی راہیں
  • تسبیح فاطمہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا)
  • پاکستان کے لیے دو خوش خبریاں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے
پچھلی پوسٹ
”غزل کروٹ بدلتی ہے” ایک تنقیدی جاج

متعلقہ پوسٹس

ایک جسم، ایک سایہ، ایک چیخ

جون 13, 2025

چراغ تلے

دسمبر 16, 2019

اردو غزل کی روایت اور اقبال

مئی 27, 2024

انسانیت اور برداشت کا زوال

مارچ 8, 2026

اسرائیل اوردنیا کو لاحق خطرات؟

جون 20, 2025

اللہ دیکھ رہا ہے

جولائی 21, 2020

سوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں

نومبر 14, 2025

جشن آزادی اور شریعت

اگست 9, 2024

کوئی نظم بجاتا جا رہا تھا

جولائی 16, 2020

مونا لیزا

جنوری 5, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا...

مئی 8, 2026

آنے والے دور کی پیشن گوئیاں

فروری 17, 2026

دیجے نہ داد شوخ بیانی کو...

دسمبر 18, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں