113
سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے
یہ موج روز نئی داستان گھڑتی ہے
لگے رہیں گے کہاں تک سکوت کے خیمے
وہ شور ہے کہ طناب صدا اکھڑتی ہے
سلگ رہا ہے کسی سبز آگ میں وہ شجر
جو ٹہنیوں کو ہلاؤں تو راکھ جھڑتی ہے
لپکتے ہیں انہی شانوں کو ڈھونڈتے دھاگے
پڑے پڑے ہی کہیں کوئی شال ادھڑتی ہے
بہت گھنا ہی سہی نخل خواب کا سایہ
مگر یہ دھوپ جو چاروں طرف سے پڑتی ہے
یہ باغ دل ہے یہیں اک اداس شہزادی
گلاب توڑتی ہے تتلیاں پکڑتی ہے
سعید شارق
