خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجشن آزادی اور شریعت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمحمد یوسف برکاتی

جشن آزادی اور شریعت

از محمد یوسف برکاتی اگست 9, 2024
از محمد یوسف برکاتی اگست 9, 2024 0 تبصرے 40 مناظر
41

میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں کو میرا آداب

پاکستان بننے سے لے کر اب تک ہر سال 14 اگست کو ہم اپنے ملک کی ازادی کا جشن مناتے ہیں جسے جشن ازادی کا نام دیا جاتا ہے اس سال یعنی 14 اگست 2024 کو ہم پاکستان کا 77 واں جشن ازادی منا رہے ہیں ہر سال اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی پورے ملک میں جشن ازادی کی تیاریاں بڑے زور و شور سے شروع ہو جاتی ہیں تمام سرکاری عمارتوں پر چراغاں ہوتا ہے پرچم لہرانے کی تقریب کا انتظام کیا جاتا ہے جو کہ عین 14 اگست کو فضا میں بلند کیا جاتا ہے قومی لیول پر ملک کے صدر کے سامنے چاروں افواج کے جوان سلامی پیش کرتے ہیں اور فضا میں اپنے کارنامے دکھا کر اپنی مہارت کا ثبوت دیتے ہیں اسکولوں میں بچوں کے درمیان مختلف قسم کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں جس میں جشن ازادی اور ازادی کے لیے ہمارے بزرگوں نے جو قربانیاں دی انہیں اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ بچوں کو یہ علم ہو کہ اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے بڑوں نے کیا کیا قربانیاں دی اور کتنی محنت کوشش اور تق و دو کے بعد ہمیں یہ ملک حاصل ہوا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جس طرح سے ہم اپنے ملک کی ازادی کا جشن مناتے ہیں کیا یہ طریقہ صحیح ہے ؟ یا حقیقت میں کیا شریعت میں یوم آزادی منانا جائز ہے ؟ کیا قران و حدیث سے یوم آزادی منانے کا کہیں ہمیں کوئی ثبوت ملتا ہے تو سب سے پہلے قران مجید میں ارشاد باری تعالی ہے سورہ ابراھیم آیت نمبر 7
ترجمعہ کنزالایمان ۔۔
” اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا "۔ خلاصہ :
مفسرین نے اس کا خلاصہ کچھ یوں کیا ہے کہ ہمیں وطن کا ملنا یعنی ملک کا حاصل ہونا خدا کی نعمت ہے اور اگر ہم نے اس نعمت کا اس رب الکائنات کے حضور شکر نہ کیا تو یہ نعمت ہمارے لیئے زحمت بن سکتی ہے اور اگر اس نعمت کا ہم نے شکر ادا کیا تو اس رب تعالی کا وعدہ ہے کہ وہ اور دے گا بس اس نعمت کا ہمیں اس رب کی بارگاہ میں اس کا احسان ماننا ہوگا اور شکر ادا کرنا ہوگا ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ملک کا یوم آزادی منانا یعنی خوشی منانا جائز ہے کیوں کہ اللہ تعالی نے ہمیں ایک آزاد ملک نعمت کے طور پر عطا کیا ایسی جگہ جہاں ہم آزادانہ طور پر اسلامی احکامات پر عمل کرکے اللہ تعالی کا شکر ادا کرسکیں یہ واقعی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا خوشی منانا بلکل جائز ہے بلکہ نعمت پر شکر ادا کرنے کا حکم خداوندی بھی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں لیکن شریعت کے حدود کی پامالی کرتے ہوئے کوئی بھی خوشی منانا بلکل ناجائز و حرام ہے عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ خوشی کے موقع پر ناچ گانے کی محافل سجائی جاتی ہیں جہاں مرد اور عورت ساتھ ڈانس کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں شراب نوشی بھی کی جاتی ہے ہوائی فائرنگ ، آتش بازی ، بے پردگی ، فحاشی اور نوجوان اپنی موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر سڑک پر اس طرح دوڑاتے ہیں جو ان کی جان کے لیئے بھی خطرہ ہوتی ہیں اور قانون کی خلاف ورزی بھی جبکہ خلاف شرع
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اس طرح کی خلاف شرع حرکت کرکے کوئی بھی خوشی ہو چاہے آزادی کی ہی خوشی کیوں نہ ہو ناجائز و حرام ہےملک کی آزادی کی خوشی میں اللہ تعالی کے احکامات کی نافرمانی کرکے ہم گویا اس رب ذوالجلال کا شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری کررہے ہیں جو سراسر گناہ عظیم ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جس ملک کی آزادی کے لیئے جن کے آبائواجداد نے اپنے مال اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کی قربانیاں دیں آج انہیں کے بچے اس نعمت کی ناشکری کرکے اپنے رب کو ناراض کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں یوم آزادی منانے کا سب سے اچھا اور اعلی طریقہ یہ ہے کہ ہم اس دن کو شکرانے نعمت کے طور پر منائیں یعنی ہم شکرانے کے نوافل اد کریں قران خوانی اور ذکر و نعت کی محافل منعقد کی جائیں دورود پڑھکر ان لوگوں کو ایثال ثواب کریں جنہوں نے ملک کی آزادی کے لیئے قربانیاں دی ایسے پروگرام ترتیب دیئے جائیں جو بلکل شریعت کے دائرے میں ہوں اپنی نئی نسل کو وطن سے محبت کرنے کا سلیقہ سکھائیں اچھا شہری بننے کی تربیت دی جائے اور نعمتوں کے شکرانے ادا کرنے کے اسلامی طور طریقوں سے انہیں آشناء کیا جائے ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں خوشی کا کوئی بھی موقع ہو چاہے خوشی وطن کی آزادی کی ہو یا گھر میں شادی بیاء کی دیکھا گیا ہے کہ ڈھول باجے اور گانوں کا کھلم کھلا استعمال ہوتا ہے آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ باجے کی آواز کو دنیا و آخرت کی ملعون آواز قرار دیا گیا گیا چنانچہ حدیث مبارکہ ہے کہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمعہ :
دو آوازیں دنیا وآخرت میں ملعون ہیں:خوشی کے وقت گانے بجانے کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز۔
اب آپ خود ہی اندازہ لگایئے کہ خوشی منانے کا ایسا طریقہ جو سراسر خلاف شرع ہو وہ خوشی کیا خوشی ہوسکتی ہے ؟
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اسی طرح سنن ابی دائود کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ
” گانا دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے ”
یعنی گانا سننا اور اس کا گانا دونوں خوشی کے وقت نعمت کی ناشکری میں آتے ہیں اور یہ بلکل ناجائز و حرام ہے یہ ہی مسئلہ ہے کہ ہم خوشی کے موقع پر ساری شرعی حدود کو پار کرکے شیطان کے بہکاوے میں آکر اس کی مرضی سے خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور نعمت خداوندی میں ہم ناشکری کرجاتے ہیں جو اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب بن جاتی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں یہ بات یاد رکھیئے کہ آزادی کا جشن یا خوشی کوئی مذہبی فریضہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک قومی تہوار ہے قومی جشن ہے یہ اللہ تبارک و تعالی کا احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں ایک ایسا ملک نعمت کے طور پر عطا کیا ہے جہاں ہم آزادی کے ساتھ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں گھوم پھر سکتے ہیں کھا پی سکتے ہیں اپنے رب تعالی کی عبادات کا فریضہ سر انجام دے سکتے ہیں اور شریعت پر چلنے کے لیئے اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیغمبروں اور محبوب بندوں کو ہماری رہنمائی کے لیئے بھیجا ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اس نعمت پر اللہ تبارک و تعالی کا شکر ادا کرکے آزادی کے دن کو منانے کی ضرورت ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں آزادی کی جدوجہد اور اس کے لیئے کوشاں رہنا انسان کا صدیوں سے مقصد رہا ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ہم وطن سے محبت کا دعوہ تو کرتے ہیں اس کی آزادی کا جشن بھی دھوم دھام سے مناتے ہیں لیکن اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک کو ہم کس طرف لیکر جارہے ہیں یہ سب لوگ واقف ہیں کیا ہم 77 سالوں میں اس ملک میں اسلام کا نظام نافذ کرسکے ہیں ؟ کیا اسلام کے نام پر آزاد ہونے اس ملک کو صحیح اسلامی ریاست بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں ؟ کیا اس ملک کی نئی نسل میں اکثریت ہمیں اسلام سے دور نظر نہیں آتے ؟ ہمیں سوچنا ہوگا سمجھنا ہوگا اور اس ملک کو ایک صحیح اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے میں اگر کوئی شخص یا جماعت سرگرم ہے تو اس کا ساتھ دینا ہوگا کیونکہ ہماری اصل کامیابی اور اصل آزادی اس ملک میں اسلامی اور شرعی نظام قائم کرکے اسے ایک اسلامی ریاست بنانے میں ہے اگر ہم واقعی ملک سے محبت کا دم بھرتے ہیں تو ہمیں چاہیئے کہ اس کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنا اپنا کردار بخوبی نبھانے کی کوشش کریں ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں جھوٹ ، رشوت ، سود ، دھوکے بازی ، ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی ، چوری ، ڈکیتی اور کرپشن جیسی وباء سے اگر بچ کر اس نعمت خداوندی کی ہم نے قدر کی اور اس رب تعالی کا شکر ادا کیا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا یہ ملک ترقی کی طرف گامزن ہوجائے اور حقیقی معنوں میں ہم ایک آزاد وطن میں آزادی کے ساتھ سانس لے سکیں ان شاء اللہ

ہمیشہ سر بلند رہے ہمارا یہ سبز ہلالی پرچم
ہماری عزت اور وقار ہمارا یہ سبز ہلالی پرچم

چاند تاروں سے جھلملاتا ہو ا لہراتا ہوا ہوائوں میں
امن و آشتی کا ہے اک گہوارہ یہ سبز ہلالی پرچم

بچے بوڑھے اور جوان اس کو اٹھائیں ہاتھوں میں
ایک ہی صف میں کردے کھڑا یہ سبز ہلالی پرچم

سارے ملکوں کے پرچم فضا میں جب لہراتے ہیں
ہوتا ہے الگ اور سب سے جدا یہ سبز ہلالی پرچم

اس پرچم سے ہم کو ملی اس دنیا میں اپنی پہچان
بڑی شان و شوکت عظمت والا یہ سبز ہلالی پرچم

جب بھی پاکستانی نے اس ملک کا نام کیا روشن
اس نے بھی اٹھایا ہاتھوں میں یہ سبز ہلالی پرچم

ہمیں فخر ہے اپنے پرچم پر اس کے چاند تاروں پر
یاروں یوں بنارہے افتخار اپنایہ سب ہلالی پرچم

سرنگوں نہ ہو کبھی ہے رب سے دعا یہ یوسف کی
بس چھوتا رہے آسماں کو صدا یہ سبز ہلالی پرچم

یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے
  • منزل الجھ گئی ہے یہاں راستے سمیت
  • کوئی جواز گناہ و ثواب بھی دیتا
  • بارِ خاک
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
محمد یوسف برکاتی

اگلی پوسٹ
بے صدا ہورہی ہیں آوازیں
پچھلی پوسٹ
خلیفہ سوئم امیر المومنین

متعلقہ پوسٹس

عاداتاً ہم تو وفا کرتے ہیں

دسمبر 12, 2021

اس کے بھی تو ہاتھ میں پیسہ

جون 1, 2024

جاوداں اشک فشانی لکھ کر

مئی 16, 2019

خوف طاری نہیں ہوتا

اکتوبر 12, 2025

بلونت سنگھ مجیٹھیا

جنوری 28, 2020

کوئی غم رہا نہیں

دسمبر 17, 2021

موجودہ صدی: نسل انسانی کے مٹ جانے کاخدشہ؟

دسمبر 10, 2021

راس آنے لگیں جفائیں تجھے

جولائی 31, 2022

سیلاب میں کسان رل گئے

اگست 30, 2025

فراوانی سے قلت کا سفر!

اکتوبر 14, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صحرائے بے نوا سے یہ آیا...

اکتوبر 26, 2025

اردو شاعری کے آغاز کا پس...

دسمبر 4, 2019

حاشیہ

دسمبر 18, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں