خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابزم فگار پر اک نظر
آپکا اردو بابااردو تحاریرتحقیق و تنقید

بزم فگار پر اک نظر

از فرہاد احمد فگار ستمبر 7, 2023
از فرہاد احمد فگار ستمبر 7, 2023 0 تبصرے 50 مناظر
51

بہ قول فیض احمد فیض:
چشمِ نم جانِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشقِ پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو
خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو

میرے لیے یہ بات باعث صد افتخار ہے کہ میں صوبہ سندھ کے آخری ضلع تھرپارکر کے صحرا میں بیٹھ کر وادئ کشمیر کے محقق، نقاد، شاعر اور انشا پرداز پروفیسر فرہاد احمد فگار کے شاہ کار "بزم فگار” کا مطالعہ کر رہا ہوں۔یہ سب گلوبلائيزيشن کی مہربانی سے ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے میری فرہاد احمد فگار صاحب جیسی ہستی سے شناسائی ہوئی اور پاکستان کے ایک کونے میں بیٹھ کر دوسرے کونے سے فرہاد احمد فگار صاحب کی بزم میں حصہ لے رہا ہوں۔
فرہاد احمد فگار کی یہ تصنیف "بزم فگار” ادبی اور تحقیقی مضامین پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں بیس سے زائد مختلف موضوعات پر مضامین شامل ہیں۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس کی زبان سادہ اور سلیس، نکتہ بہ نکتہ تاریخی حوالوں سے بھرپور، دلائل میں پختگی اور اس کا اندازِ بیان ایک قسم کی مٹھاس سے بھرپور ہے. جس کی وجہ سے قاری کو کسی بھی قسم کی بوریت محسوس نہیں ہوتی۔ حالاں کہ تحقیق، تنقید اور تاریخ بہت ہی خشک سبجیکٹس ہیں۔ ہر کوئی شوق سے نہیں پڑھتا۔ لیکن یہ تخلیق کار یا فن کار کا کمال ہے کہ کسی خشک سبجیکٹ میں قاری کے لیے کشش کیسے پیدا کرے؟ جو ایک بار شروع کرنے کے بعد بیچ میں چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شیخ ایاز نے کیا خوب کہا:
شاعری ہے چند باذوق لوگوں کا سرمایہ
ہر بانس کی ٹہنی بانسری نہیں ہوتی!
فگار صاحب خود کالج میں پروفیسر ہیں ادب کے شعبے میں طلبہ کے مسائل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اس لیے یہ کتاب خاص طور پہ کالج اور یونی ورسٹی کے طلبہ اور کسی بھی قسم کی ادبی تحقیق اور تنقید میں کار آمد ثابت ہوگی۔ یہ کتاب اساتذہ، طلبہ اور دوسری ادبی شخصیات کو تحقیق اور تنقید کی دعوت دیتی ہے۔ فگار صاحب نے اس کتاب میں خشک موضوع کو خوب صورت بنانے کے لیے بڑے خوب صورت اشعار کا انتخاب کیا ہے جو پڑھنے میں تجسّس پیدا کرتے ہیں۔ سنت کبیر کہتے ہیں:

ﮔُﺭﻭ ﮔﻮﺑﻨﺪ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮭﮍﮮ، ﮐﺎ ﮐﮯ ﻻﮔﻮﮞ ﭘﺎﺋﮯ
ﺑﻠﮩﺎﺭﯼ ﮔُﺭﻭ ﺍٓﭘﻨﮯ، ﺟﺲ ﮔﻮﺑﻨﺪ ﺩﯾﻮ ﺑﺘﺎﺋﮯ

کتاب کا پہلا مضمون بہ عنوان "دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں” ہے۔اس مضمون میں فرماتے ہیں کہ، "ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق پر توجہ دی جائے، تحقیق ہی واحد ذریعہ ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق کرتا ہے.” آپ قاری کو اتساہ دیتا ہے اور غلطیوں سے سبق سیکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ، "میں بھی غلطی کر سکتا ہوں لیکن اپنی غلطی مان لینا بڑی بات ہے.”
کتاب میں ایک مضمون ادبی غلطی اور غلط فہمی سے انشا اللہ خان انشا کا ایک شعر اقبال کے نام لکھا گیا ہے۔اس کو ادبی اور تحقیقی دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ یہ شعر اقبال کا نہیں بلکہ انشا اللہ انشا کا ہے۔ اس کتاب میں وادی لیپا کا ایک مختصر سفرنامہ بھی شامل ہے۔ اس سفر نامےمیں تخلیق کار نے اپنے قلمی فن کا خوب کمال دکھایا ہے۔ یہ سفرنامچہ پڑھنے سے قاری کی بوریت بالکل ہی ختم ہو جاتی اور اک دم تازہ توانا ہو جاتا ہے۔ راستے کی خوب صورت منظر کشی پڑھتے وقت وہ سارا منظر آنکھوں کے آگے مور بن کر ناچنے لگتا ہے۔ منظر کشی کے ساتھ جو تشبیہات استعمال کی گئی ہیں وہ پڑھ کے زبان و دل ق واہ کرنے سے نہیں رکتا۔منظر کشی کی مثال دیکھیے کہ: "کسی نانگن کی مانند بل کھائی سڑک اوپر ہی اوپر چلی جاتی ہے.” کیا کمال کی تشبیہ دی ہے۔ سفر کو مزید جان دار بنانے کے لیے سفر کے دوران میں وہاں کی تاریخی جگہوں، وہاں کی نام ور شخصیات، ان پہاڑوں سے منسوب تاریخی قصے، وہاں ہوئے صنعتی اور ترقیاتی کام، عام لوگوں کی زندگی اور ان کے مسائل سے لے کر حکم رانوں کی عدم توجہ اور نا اہلی تک ہر چیز کی خوب صورت تصویر کھینچی ہے۔یہاں پر مجھے تخلیق کار کی جو عظمت نظر آئی وہ اس بات میں کہ آپ مکمل انسان پرست شخصیت کے مالک ہیں اور ہر کسی کے عقیدے کا احترام کرتے ہیں۔ مثلاً ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ: "اس وادی میں ایک کالج کی تعمیر کے دوران میں کچھ مورتیاں بھی ملیں، جن کو مذہبی تعصب کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے توڑ کر دیوار میں چُن دیا گیا۔” بہ قول خاموش غازی پوری:

عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں

شیخ کرتا تو ہے مسجد میں خدا کو سجدے
اس کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں

اگلا مضمون بہ عنوان "مشاہیر ادب اردو کے حقیقی نام” ایک کثیر جانب تحقیقات پر مشتمل ہے۔یہ مضمون اردو کے نام ور ادبا، شعرا، محققین، دانش وروں، افسانہ نگاروں، ڈرامانگاروں، ناول نگاروں کے ادبی ناموں یعنی تخلص اور ان کے اصلی ناموں پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسا تحقیقی مقالہ ہے جو شعبہ اردو کے ہر طالب علم اور استاد کے لیے کارآمد ہے۔اس مضمون میں کئی نام ور شخصیات کے اصلی نام، تھوڑا سا شجرہ، تولد اور رحلت کی تاریخ اور ان کی ادبی تصنیفات کا ذکر کیا گیا ہے۔
کچھ ادبی اصناف پر بھی مضمون ہیں اور اردو زبان میں بولے جانے والے الفاظ کے غلط استعمال پر بھی کمال کے مضامین ہیں۔مثال کے طور پر "تدوین اور تدوین متن کی روایت” ، "املا وہ تلفظ کی عمومی اغلاط” ، "غلط العوام الفاظ اور املا” ، "اردو کی خوش بو” اور "اردو ہے میرا نام”. جن میں بہت باریک بینی سے اردو صوتیات و صرفیات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہی دو تین مضامین تھے جنھوں نے میرے حواس کھول دیے اور میں نے یہ تبصرہ لکھنے لیے دوبارہ اس کتاب کا مطالعہ کیا.۔ مجھے معلوم ہوا کہ فگار صاحب اردو لفظوں کا تقدس اور حرمت رکھنا خوب جانتے ہیں. فرماتے ہیں کہ: "اردو کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں اکثر سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کبھی کسی کی غلطی سے اور کبھی اپنی غلطی سے۔” فگار صاحب کی اپنی زبان کے بارے میں بے تحاشا محبت دیکھ کر مجھے داغستان کی آوار زبان کا شاعر رسول حمزہ توف یاد آگیا۔رسول حمزہ توف نے لکھا ہے کہ: "ہمارے داغستان کی سب سے بڑی بد دعا یہ ہے کہ ہم کسی کو کہیں کہ آپ کے بچے اپنی زبان بھلا دیں۔” ہماری سندھی زبان کا ایک بڑا نام ہے شیخ ایاز جس نے اردو میں بھی خوب لکھا ہے اور سندھی کے بہت بڑے شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رسالے کا اردو زبان میں منظوم ترجمہ بھی کیا ہے۔ایاز صاحب کے ایک سندھی شعر کا مطلب ہے کہ: "آپ اگر اپنی زبان میں "اماں” پکاریں تو دنیا کی کسی بھی زبان میں وہ مٹھاس آپ کو نہیں ملے گی۔”
آتے ہیں بزم فگار کی طرف. تو ان کے علاوہ اردو کی مشہور مثنویوں پر بھی ایک کمال کا مضمون ہے۔ جو ایک عمدہ تحقیقی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ کتاب ہم کیوں پڑھیں!! ہم اپنی زندگی میں کئی کتابیں پڑھتے ہیں. ناول، افسانہ، شاعری، عشقیہ قصے وغيره وغيره. یہ سب ہم ذہنی عیاشی، ذہنی سکون اور اپنے آپ کو تازا توانا کرنے لیے پڑھتے ہیں لیکن کوئی تحقیق یا تنقید ہم اپنا ذہن ان لاک یعنی ذہن کھولنے کے ساتھ اور زیادہ تحقیق کے دروازے کھولنے کے لیے بھی پڑھتے ہیں۔اس لیے اپنی ادبی واقفیت بڑھانے کے لیے اور اپنے علم کو وسیع کرنے کے لیے یہ کتاب ضرور پڑھیں. آخر میں میں فیض احمد فیض کے اس شعر کے اجازت چاہوں گا۔

ہم خستہ تنوں سے محتسبو،
کیا مال منال کا پوچھتے ہو،
جو عمر سے ہم نے بھر پایا،
سب سامنے لائے دیتے ہیں

دامن میں ہے مشتِ خاکِ جگر،
ساغر میں ہے خونِ حسرتِ مے
لو ہم نے دامن جھاڑ دیا!
لو جام الٹائے دیتے ہیں!!

 

اشوک کمار خاموش

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رحمت بھرا مہینہ رمضان جا رہا ہے
  • زندگی کا دائرہ محدود ہے
  • زرداری صاحب کیخلاف مقدمہ
  • بارش
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فرہاد احمد فگار

اگلی پوسٹ
عبد العلیم صدیقی اور تیسری بساط
پچھلی پوسٹ
ماہ صفر المظفر کی اہمیت

متعلقہ پوسٹس

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

محسن خالد محسنٓ کی نظموں میں مغربیت کا تصور

اپریل 29, 2026

جب سوئے طیبہ تخیل کا سفَر ہوتا ہے

اکتوبر 25, 2025

پشیمان

مئی 20, 2020

سیڑھیوں والا پُل

مارچ 20, 2020

بچھڑ کہ تجھ سے کہاں تک

اپریل 24, 2022

ضلع اسلام آباد سے صوبہ اسلام آباد

دسمبر 6, 2025

میں سمجھا تھا ذرا سا مختلف ہے

مئی 15, 2020

شعر وشاعری کیا ہے

جون 26, 2021

منظور

مارچ 16, 2016

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاک – امریکہ تعلقات

ستمبر 24, 2025

نبیؐ کے عشق میں ایسا دِکھائی...

مارچ 4, 2020

دس مِنٹ بارش میں

جنوری 17, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں