خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابازاہد محمود زاہد کا شعری لحن
آپکا اردو بابااردو تحاریرتحقیق و تنقیدساحل سلہریمقالات و مضامین

زاہد محمود زاہد کا شعری لحن

از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2021
از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2021 0 تبصرے 105 مناظر
106

زاہد محمود زاہد کا شعری لحن

معاصر اُردو غزل کے نمایندہ شاعر زاہد محمود زاہد کا تعلق ملتان سے ہے،وہ عرصہ دراز سے لاہور میں مقیم ہے۔ نہایت ملنسار،وضع دار اور نفیس انسان ہے۔اپنے اشاعتی ادارے ”دھنک مطبوعات“ سے عمدہ اور معیاری کتابوں کی اشاعت کر رہا ہے۔زاہد نے اوائل عمری ہی میں شعر کہنا شروع کر دیا اس کا اولین شعری مجموعہ”بعض اوقات“ بیسویں اور اکیسویں صدی کے سنگم ۰۰۰۲ء میں منصہئ شہود پر آیا۔اس کا دوسرامجموعہ”رم جھم“ (بچوں کا ادب) ۱۰۰۲ء میں شایع ہوا۔ تیسرا مجموعہ”پیار لازم ہے“ ۲۰۰۲ء میں اشاعت پذیر ہوا۔پھر ۳۱ برس کی خاموش مشق سخن کے بعد ان کا چوتھا شعری مجموعہ”محنت کرتے جا ؤبچو“ (بچوں کا ادب) ۵۱۰۲ء میں اور نعتیہ مجموعہ”پیارے محمدﷺ“ ۶۱۰۲ء میں شایع ہوا اور اب ان کی کہنہ مشقی اور جدید شعری لحن کا منہ بولتا ثبوت ”نقش“ بھی شایع ہو گیا ہے۔
معاصر اردو غزل کے منظر نامے کاطائرانہ جائزہ لیں تو زاہد محمود زاہد کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنا چراغ سخن نوکلاسیکی اور جدیدیت سے جلایا ہے۔ اس کی شاعری میں روح ِ عصر اور زندگی کے بدلتے ہوئے روپ دکھائی دیتے ہیں اور کہیں کہیں خودکلامی اور سرگوشی کی کیفیت بھی ملتی ہے:
اپنے بارے میں اتنا جانتا ہوں
خود سے شکوے ہیں بے شمار مجھے
_________
روبرو آئنہ ہے، خود کو ذرا غور سے دیکھو
زاہدؔ اس سمت روحِ یار بھی ہو سکتا ہے
_________
چل کہیں اور چلیں ہم زاہدؔ
شہر کا شہر نرالا ہوا ہے
زاہد محمودزاہد کی شاعری میں گہری سنجیدگی،اداسی،تنہائی،لاحاصلی کی فضا ہے جو اس کے بے حد حسی رویے اور سماجی بے حسی کی وجہ سے ہے۔ اس کے مصرعوں کی تراش،پختگی اور اسلوب شعر حیرت انگیز ہے۔ زاہد کی شاعری میں پھیلی ہوئی بے یقینی،خوف اور عدم توازن کے بارے میں ڈاکٹر اسحاق وردگ رقم طراز ہیں:
”معنویت کے تنا ظر میں دیکھیں تو ”نقش“ کی حسیات کی جڑیں فرد اور سماج کے رشتے کی ٹوٹ پھوٹ سے تخلیق ہوتی ہیں۔ معنویت کی یہ لہریں جدید حسیات کو نمایاں کرتی ہیں اور جنھیں زاہد محمود زاہد نے اپنی ذات کے دریچے سے دیکھا اور وجود کا حصہ بناتے ہوئے شعر کی صورت میں کاغذ پر اتار۔ سماج کی ٹوٹ پھوٹ،داخلی کشمکش،فرد کی حسیات پر سماجی بے حسی کی ضرب،یقین کا گمان اور گمان کا خوف میں بدلتا رویہ اور اس کے نتیجے میں نفسیاتی عدم توازن اور خود کشی کی سمت بڑھتی زندگی ”نقش“ کے نمایندہ شعری رجحانات ہیں۔ ”نقش“ میں محبت بھی خوف اور بے یقینی کے سائے میں جوان ہوتی دکھتی ہے۔“ (۱)
زاہد محمود زاہد کی شاعری میں ان کی اپنی ذات کی پیچیدگیاں اور احساس ِ عزت نفس زور پر ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ معاشرے کی بے حسی نے اس کے دل ودماغ پر گہری ضرب لگائی ہے۔ اس کی غزل میں تنہائی کا احساس شدید نوعیت کا ہے،اس نے بے یقینی،خوف،ناقدری، رائیگانی اور بے حسی کا ذکر جگہ جگہ اپنے اشعار میں کیا ہے۔یہ شعر دیکھیے:
بے حسی کی بھی کوئی حد ہے کہ میں بھی شہر کی
نفرتوں میں سو گیا حالاں کہ تب ایسا نہ تھا
سماج میں لوگوں کے رویوں سے زاہد کافی رنجیدہ ہے،وہ اپنے دوست احباب کی بے رخی، مطلب پرستی،بے حسی اور لاتعلقی کا نوحہ گر ہے۔ یہ شعر دیکھیے:
ایسا لگتا ہے کہ باہر سے تعلق ہی نہیں
ایسا لگتا ہے کہ اندر کا ہوا جاتا ہوں
زاہد نے کرب کو تخلیقی عمل سے گزار کر شعر کا وجود دیا ہے،یہ نمونہ دیکھیے:
جیسے نکلے ہیں اس زمین کے لوگ
ایسا دشمن تو آسماں نہیں تھا
__________
احساس زندگی کا جگا دینا چاہیے
بنیاد تک یہ شہر ہلا دینا چاہیے
زاہد محمود زاہد لوگوں کی بے حسی سے اتنا خائف اور عاجز ہے کہ وہ اس شہر کوبنیاد تک نیا بنانا چاہتا ہے تا کہ لوگوں میں زندگی کا احساس جگایا جا سکے ان کی بے حسی دور کر کے ان کے رویے بھی تبدیل کیے جا سکیں۔ لاہور جیسے شہر میں رہتے ہوئے بھی زاہد کے اندر کی تنہائی نہیں گئی، وہ جب تنہائی کی اذیت سے گزرتا ہے تو یوں کہتا ہے:
شہر لاہور کی تنہائی نے یوں گھیرا ہے
کوئی دیکھے بھی تو چپ چاپ گزر جاتا ہے
_________
میں تھا ترا خیال کہ تنہائی تھی میری
پھر رونے والا ساتھ مرے گھر میں کون تھا
_________
ختم ہوتے ہوئے سڑکوں پہ ٹریفک کے ہجوم
میری تنہائی کی لذت کو بڑھا دیتے ہیں
_________
بازو پھیلائے در بدر مجھ کو
ڈھونڈتا پھر رہا ہے گھر مجھ کو
___________
میں نے تصویر جب بھی بنوائی
ساتھ تنہائی بھی نظر آئی
زاہد محمود زاہد کی غزلوں میں گھر،کمرہ،آئینہ،خواب،خوف،سفر،آسمان،شہر جیسے استعارے اور علامتیں استعمال ہوئی ہیں۔ اس نے مضافات سے شہروں کی طرف نقل مکانی کا دکھ بیان کرتے ہوئے خوابوں کی رائیگانی کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس نے اپنی بے سکون زندگی کا الزام سماجی ناہمواری، عدم تحفظ،معاشی جبر اور دیگر سماجی رویوں کو دیا ہے۔ اس کے اشعار میں معاصر آدمی کے جذبات،احساسات اور خواب نگری کا انہدام افسانوی انداز میں ملتا ہے۔ زاہد کی غزل اس کے داخلی جذبات اور خارجی مشاہدات سے آمیز ہوئی ہے۔ اس نے غم ذات اور گردپیش کے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ زاہد کا باطن اس کے شعر میں نظر آتا ہے وہ اپنے سچے کھرے اور محبت بھرے جذبات کو شعر کا وجود عطا کر دیتا ہے۔وہ بٹوارے کو سخت ناپسند کرتا ہے کیوں کہ اس سے فاصلے جنم لیتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے محبت،ایثاراور امن وآشتی کا پیغام دیتا ہے۔ زاہد کا رنگ غزل دیکھیے:
ہونے لگتا ہوں میں قسمت سے مکمل جب بھی
بانٹ لیتے ہیں مرے یار برابر مجھ کو
___________
گھر میں اٹھتی ہوئی دیوار گرا دیتا ہوں
اپنا سامان اٹھاتا ہوں دعا دیتا
___________
اپنا حصہ تمھارے نام کیا
اب تو جھگڑے کو چھوڑ دو بھائی
___________
جنگ خوشبو کی عنایات سے ٹل سکتی ہے
آؤ میدان میں ہم پھول بچھا دیتے ہیں
زاہد محمودزاہد کی شاعری نئی ہے اس نے اپنی شاعری میں اپنا نقش اور اپنا رنگ رچایا ہے۔ اس بارے میں نذیر قیصر لکھتے ہیں:
”نقش کی شاعری پڑھتے ہوئے جو پہلی بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ زاہد محمود زاہد نئے شاعر ہیں۔ نئی شاعری نئی زندگی کی طرح بسر ہوتی ہے،زاہد محمود زاہد نے نئی شاعری کو بسر کیا ہے اور اس کے نقش ونگار میں جا بجا نئے رنگوں اور ورشنیوں سے دلکش بیل بوٹوں کا اضافہ بھی کیا ہے۔“(۲)
زاہد محمود زاہد کی غزلوں میں سلگتے پگھلتے اورسانس لیتے ہوئے نئے اشعار اور جدید شعری لحن ملاحظہ کیجیے:
کل تو ٹیلے پہ رات ڈھلتے ہوئے
حال کیا کیا نہ بانسری کا ہوا
______________
میں تو کیا یہ مرا کمرہ بھی تمھیں
دل کی ہر بات بتا سکتا ہے
___________
جال پانی میں پڑا رہنے دو
رات کو چاند بھی آ سکتا ہے
زاہد محمود زاہد کی شاعری ایک طرز زیست کا نام ہے،اس نے اپنی صداؤں کو شعری پیکر میں ڈھال کر اپنی ہنر کاری دکھائی ہے اور آسان،سادہ اور شائستہ طرز سخن اپنایا ہے۔اس نے تفہیم کا سفر اس قدر آسان بنا دیا ہے کہ عام قاری بھی الہامی کیفیت کا مزہ لینے لگتا ہے۔ زاہد کی سادگی لذت اور مسرت آمیز ہونے کے ساتھ معنوی و سعت رکھتی ہے:
وحشت ایسا غبار لاتی ہے
سانس لیتا ہوں جان جاتی ہے

میری چادر میں کتنے چھید سہی
نیند لیکن مزے کی آتی ہے
زاہد محمود زاہد نے اپنی شاعری میں نئے رنگ،تجربات اورمشاہدات انتہائی چابک دستی اور مہارت سے استعما ل کیے ہیں۔ وہ لفظوں کو مالا میں پرونے کے فن سے خوب واقف ہے، اس نے سادہ لفظوں میں بڑی خوب صورت باتیں کہی ہیں اور عہد حاضر کے سیاسی،سماجی اور تہذیبی مسائل کی عکاسی بھی کی ہے۔ زاہد محمود زاہد کے شعری مقام ومرتبے کا ذکر کرتے ہوئے اقبال راہی رقم طراز ہیں:
”زاہد محمودزاہد اپنے ہم عصروں میں سب سے نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ اس کی شاعری کا یہ عالم ہے کہ میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ زاہد محمودزاہد بعض جگہ اُن شاعروں سے بھی آگے کا سفر طے کر رہا ہے جن کی بنیاد PROپر ہے اور مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ اب اسے شاعری میں وہ ملکہ حاصل ہو گیا ہے جسے پانے کے لیے عمریں لگ جاتی ہیں۔۔۔۔اس کی شاعری میں کئی مقام ایسے آتے ہیں کہ قاری ایک عجیب کیفیت میں گم ہو جاتا ہے اور تخیل کی داد دیے بغیر نہیں رہتا۔“ (۳)
زاہد محمود زاہد کی شاعری میں سادگی وخلوص اور بے ساختہ پن اس قدر نمایاں ہے کہ اس کے شعروں کے مناظر، استعارے اور علامتیں بھی غیر شعوری لگتی ہیں۔ اس نے شاعری میں علائم ورموز لانے کی کوئی شعوری کاوش نہیں کی اور اس کے شعروں میں فلسفیانہ بصیرت بھی روایتی مباحث سے خالی ہے۔ اس نے چھوٹی بڑی بحروں میں اجلی اور نکھری ہوئی غزلیں کہی ہیں:

میں ہوں سورج، کسی مہتاب سے کھیل
جا کسی اور کے اعصاب سے کھیل

کھیل سکتا ہوں میں دوبارہ مگر
کھیل کو کھیل کے آداب سے کھیل

میں نہ کہتا تھا، مکافات سے ڈر
اب ذرا ہار کے گرداب سے کھیل

اِس کی تعبیر ہے تُو، دھیان رہے
کھیل اب کھیل مرے خواب سے کھیل
زاہد محمود زاہد کی غزلیں ذات وکائنات کے تمام رنگوں سے مزین اور لمحہئ موجود کی بازگشت ہیں۔ اس کا رواں اور تازہ مصرع منفرد تخلیقی وجود کی خبر دیتا ہے۔ محبت اور خوشبو کے اس شاعر نے اپنے شعروں میں چاہت اور اپنائیت کے رنگ بھرے ہیں۔ زاہدؔ روایتی موضوعات سے اجتناب کر کے جذبے کی شدت اور شعوری پختگی کے ساتھ جدید شعری تقاضے نبھاتا ہے۔ اس نے روایتی موضوعات بھی نئے انداز میں پیش کیے ہے۔ زاہدمحمود زاہد نے نئے شعری لحن سے اپنی پہچان بنا لی ہے۔
حوالہ جات:
۱۔اسحاق وردگ،ڈاکٹر،دیباچہ،نقش از زاہد محمود زاہد،(لاہور: دھنک مطبوعات،2019)،ص: ۲۱
۲۔نذیر قیصر،ایضاً،ص:۷۱
۳۔اقبال راہی،ایضاً،ص: ۲۲

ڈاکٹر ساحل سلہری

(۰۳مئی 2019،سیالکوٹ)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بڑھتی ہوئی قیمتوں کا المیہ
  • مسخرہ
  • دل تماشائی رہے اچھا ہے
  • مشرقی عشق اور شاطر شرفا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شہزاد نیرّ اور ”گرہ کھُلنے تک“ 
پچھلی پوسٹ
اُردو کی چند جدید طویل نظمیں

متعلقہ پوسٹس

ٹیکنالوجی کا داخلہ: کلاس روم کا نیا چہرہ

اکتوبر 16, 2025

نانا پلازہ کی نوکری

نومبر 17, 2020

عمران خان کی اپیل اور روس کی حمایت

اپریل 18, 2020

مرے لب پہ کوئی گلہ نہیں

جنوری 15, 2018

عورت اور لومڑی

نومبر 28, 2024

قلندر

جنوری 7, 2020

ابو جی کے نام

نومبر 7, 2020

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

نومبر 19, 2019

عاشق ہزار ہوں مگر

جون 24, 2025

دُنیا سے وابستہ ہوں

جون 13, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یہاں پہ کوئی نہیں ہے مرے

جولائی 8, 2020

سوکھے ہوئے پھول اور یہ گلدان...

فروری 5, 2020

اَب آ بھی جاؤ کہ شام...

فروری 26, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں