28
دُنیا سے وابستہ ہوں
آدمی لیکن اچھّا ہوں
نیند پریشاں رہتی ہے
اور میں جاگتا رہتا ہوں
کچھ اپنا اَحوال کھُلے
روز کسی سے ملتا ہوں
شاید کچھ آ جائے یاد
پہروں سوچا کرتا ہوں
وہ میرا ہو جاتا ہے
جس رستے پر چلتا ہوں
کاشف حسین غائر
