خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکشمیر میں بھارتی استعماریت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاویس خالد

کشمیر میں بھارتی استعماریت

اویس خالد کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن فروری 6, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 6, 2020 0 تبصرے 526 مناظر
527

کشمیر میں بھارتی استعماریت
پیام سحر۔ پروفیسر اویس خالد

مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم و ستم کی داستان نا صرف دل دہلا دینے والی ہے بلکہ اقوام عالم کے بنائے گئے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی ہے۔بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی حدوں سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔بچے،بوڑھے،جوان،مرد و خواتین،غرض کوئی بھی بھارتی جارحیت و بربریت سے بچ نہیں پایا۔بچوں پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے کہ تصور کرتے ہی رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انسانیت شرمانے لگتی ہے۔جوانوں کو اغوا کر کے لاپتہ کر دیا جاتا ہے اور بعد ازاں بے دردی سے مسخ شدہ لاشیں توہین آمیز انداز میں پھینک دی جاتی ہیں جو بھارت کی فرعونیت اور چنگیزیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
خواتین کی عصمت دری کر کے اور انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر حوا کی بیٹی کی حرمت و تقدیس پامال کی جاتی ہے۔ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنا بھارتی فوج و پولیس کا پسندیدہ مشغلہ اور روزمرہ کا وطیرہ بن چکا ہے۔انسانی حقوق کی پامالی کی شاید ہی ایسی کوئی اور نظیر کہیں ملتی ہو۔ حال ہی میں جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بھارت کے ایک معروف لکھاری رام پنیانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ” بھارتی حکومت کواپنی جارحیت ترک کر کے یہ سوچنا چاہیے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں۔’ ‘جمہوریت کے سب سے بڑے "جھوٹے” دعویدار اور خود ساختہ علمبردار اور انسانی حقوق کی اہمیت پر مصنوعی راگ الاپنے والے کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کشمیری عوام کوان کے حق خود ارادیت،آزادی رائے اور بنیادی حقوق کی فراہمی سے محروم کرنا اور بالجبر اپنا تسلط قائم کرنا کہاں کا انصاف ہے۔جواہر لال نہرو نے ایک مرتبہ اپنی ایک تقریر میں کہا تھا۔” لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے سے بڑھ کر اور کیا اہم ہو سکتا ہے؟”یونیورسل پریاڈک ریویو کے ورکنگ گروپ کے تحت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کے تیرھویں اجلاس جو کہ 21 مئی2017 ء تا یکم جون 2012ء تک جاری رہا،میں واضح کیا گیا کہ انڈیا میں بھارتی ریاستوں اُڑیسا،مدھیا پردیش،چیتیس گڑھ،گجرات اور ہماچل پردیش میںKashmir مذہبی بنیادوں پر اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا نا صرف استحصال کیا جاتا ہے بلکہ مختلف موقعوں پرانسانیت سوز تشدد کے زریعے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔مذہبی آزادی کے موضوع پر پیش کی گئی اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹ میں بھی واشگاف الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں پر تشدد روا رکھا جاتا ہے۔ عالمی امن کمیٹی بھی اب اس حوالے سے با خبر ہے کہ بھارت فوجی طاقت کے زریعے کشمیریوں کے بنیادی حقوق کا استحصال کر رہا ہے۔حتیٰ کہ ان کے پاس بھارتی جارحیت کے بے شمار واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن کو کسی صورت بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ (AFSPA) کے سیکشن 7 میں واضح لکھا ہے کہ کسی کو بھی غیر قانونی طور پر کسی کے بنیادی حقوق کی پامالی کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔
یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے اقوام عالم میں بھارت کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔اس بات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کے ایک اجلاس منعقدہ ستمبر 2015ء میں آزاد جموں و کشمیر کے رہنماؤں نے کیا۔سید فیض نقشبندی جو (APHC) کے سینئر اہنما ہیں اور آزاد کشمیر کے امجد یوسف خان نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے بنائی گئی پالیسیاں بالکل غیر انسانی ہیں جو انہیں کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہیں۔یہی قوانین معصوم،نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم،ماورائے عدالت قتل،اغوا اور عصمت دری جیسے گھناؤنے کھیل کھیلنے کے لئے بھارت کو جواز مہیا کرتے ہیں۔کشمیری عوام جو کہ ایک طویل عرصے سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پر امن احتجاج کے زریعے دنیائے عالم کو بھارتی جارحیت اوراپنی آزادی کے حصول کی جدوجہد سے آگاہ کر رہے ہیں وہ کسی صورت بھی اپنی آزادی کی تگ و دو سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ بے گناہ کشمیریوں کے ساتھ بھارت کا ناروا سلوک اب کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہا۔جمہوری حقوق کی پیپلز یونین کی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں موجود کشمیری مسلمان ظلم و جبر اور عدم تحفظ کا شکار ہیں اور وہاں کی مقامی پولیس اوچھے ہتھکنڈوں سے انہیں ہراساں کرتی رہتی ہے۔بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا جاتا ہے اور رہائی کے عوض بھاری رقوم کا بطور رشوت تقاضا کیا جاتا ہے۔بھارتی پولیس نے افضل گرو کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بے بنیاد جھوٹے الزام میں گرفتار کیا اور بھارت کے شدت پسند حلقوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اسے پھانسی دے دی جو سراسر عدالتی قوانین اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھی۔ 9/11 کے بعد بھارت نے کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم میں مزید اضافہ کر دیااور ان کی تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دینے کے لئے بھونڈی کوششیں کیں۔ 9/11 کی آڑ میں بھارت کے ہاتھ کشمیری مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کا ایک سنہری موقع ہاتھ لگ گیا اور الٹا کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہدکو دہشت گردی سے تعبیر کرنے کے لئے منفی پروپیگنڈا کیا جانے لگا تاکہ اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ان کے دلوں میں کشمیر کے حوالے سے پیدا ہونے والی ہمدردی کو ختم کیا جا سکے۔
لیکن اس سب کے باوجود آج دنیا جان چکی ہے کہ کشمیر کی آزادی کے حصول کی جدوجہد کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ کشمیری عوام تو ایک عرصے سے خود بھارت کی دہشت گردی کا شکار ہیں اور بھارت کی انتہا پسندی،جارحیت اور استعماریت کے آگے ڈٹے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بھارتی مظالم کی فہرست کچھ یوں ہے کہ پچھلے چند سالوں میں مجموعی طور پر 93024افراد کو شہید کیا گیا۔6966افراد کو بھارتی فوج اور پولیس نے حبس بے جا میں رکھ کر جھوٹی تفتیش کرتے ہوئے شہید کیا۔117345افراد کو بے بنیادجھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے ہراساں کیا گیا۔105861افراد کو بے گھر کیا گیا۔ 107351بچے بھارتی مظالم کی وجہ سے یتیم ہوئے۔22728خواتین کے سہاگ اجڑے۔ 9920خواتین پر جنسی تشدد کیا گیا اور انہیں اجتماعی ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے زریعے بھارتی فوج نے انسانیت کی تذلیل میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ چائنہ ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق 2012ء کی نسبت 2013ء میں بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم میں 38% اضافہ ہوا۔AFSP،TADAاورPSAجیسے کالے قوانین کے زریعے بھارت نے انسانیت سوز جارحانہ (قابل مذمت) رویہ اپناتے ہوئے کشمیری مسلمانوں پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے اور ایسے ایسے مظالم ڈھائے کہ جن کی تفصیل میں جانے کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے اور مضبوط سے مضبوط اعصاب کا مالک شخص بھی لرز کر رہ جائے۔عالمی تنظیم برائے امن UNO،USسٹیٹڈ ڈیپارٹمنٹ اور بین الاقوامی تھنک ٹینک نے ہندوستان کی طرف سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور وہاں کے مسلمانو ں کے ساتھ بہیمانہ اور وحشیانہ سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک تجزیے کے مطابق بھارتی استعماریت سے تنگ آ کر پچھلے بیس سالوں میں کم و بیش 1700 افراد نے خود سوزی کی ہے۔کشمیر کے ہسپتالوں میں ایک لاکھ سے زائد مریض (جو بھارت کی بربریت کا نشانہ بنے)داخل ہیں اور مزید مریضوں کے لئے گنجائش نہیں ہے۔بھارتی فوج کے تشدد کے بعد اکثریت ذہنی مریض بن چکی ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں تفتیش کے دوران شہید کئے جانے اور بعد ازاں دفنائے جانے کے حوالے سے 2011ء کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر کے 5 اضلاع کے 38 قبرستانوں میں 2156افراد کو بغیر شناخت کے دفنا دیا گیا۔
کشمیر میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بڑی مضبوط ہے لیکن اسے مزید واضح اور مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ہر انٹرنیشنل فورم پر بڑی مضبوطی سے اپنا موقف پیش کرے اور انسانی حقوق کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی اور بھارتی جارحیت کے خلاف ایسا عالمی دباؤ تخلیق کرے جس سے بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ بہترین اور موثر پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے قیامت خیز تشدد اور بربریت کی طرف عالمی نگاہوں کی توجہ مبذول کروانے کے لئے مناسب حکمت عملی وضع کرے۔اس کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو بھی یکجہتی اور موانست کا ایسا پیغام دیتے رہنا چاہیے جس سے ان کے پایہ استقامت کو تقویت ملتی رہے اور حوصلہ افزائی کے اس تاثر سے ان کی تحریک آزادی میں جب جب ضرورت ہو،نئی روح پھونکی جا سکے۔بیرونِ ممالک میں رہنے والے کشمیری مسلمانوں کی طرف سے بھی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا قابل ستایش ہے۔لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کے تنازعہ پر اقوام عالم کی توجہ اس وقت تک مسلسل مبذول کرواتے رہنا چاہیے جب تک کہ کشمیریوں کو آزادی جیسی نعمت مل نہیں جاتی۔جو ان کا بنیادی حق بھی ہے۔ آج چونکہ میڈیا کا دور ہے لہذا سوشل،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے زریعے بھی ایسی حکمت عملی مرتب کی جانی چاہیے جس سے کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی آوازکو پوری دنیا تک پھیلایا جا سکے اور بھارت کا اصلی مکروہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
کشمیری مسلمان انڈیا اور پاکستان کے درمیان باہمی مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں مگر بھارتی بد نیتی کی وجہ سے ابھی تک انہیں ان مذاکرات کا با ضابطہ طور پر حصہ نہیں بنایا گیا جو سراسر ذیادتی ہے۔ویسے بھی بھارت اپنے کمزور موقف کی وجہ سے ہمیشہ مذاکرات کی میزسے بھاگتا رہا ہے۔بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی کو ترک کر کے کشمیری عوام کو ان کی مرضی کے مطابق آزادانہ زندگی گذارنے دے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی قراردادیں بھی جس کی انہیں مکمل اجازت دیتی ہیں۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نیا آغاز
  • بَھگَت نے پاٹ پڑھایا
  • کاش سمندر عشق
  • اتفاقیہ ملاقات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
غسل خانہ
پچھلی پوسٹ
محفل سلام و نعتﷺ

متعلقہ پوسٹس

میں کبھی دامِ محبت میں نہیں آیا ہوں

دسمبر 15, 2019

چراغوں کے نگر میں اے اجالو

نومبر 14, 2021

کچھ باتیں ضروی ہیں

ستمبر 12, 2025

اے مالک دو جہاں رحم فرما

اکتوبر 12, 2020

اک دیا سا جلا ہے کھڑکی میں

دسمبر 17, 2021

خواب سہانے بیچ رہی ہوں

اکتوبر 12, 2025

فطرت کے توازن میں ایک مکمل وجود

مئی 13, 2025

آخری جلسہ

نومبر 28, 2019

اے مری قوم کو اک خواب دکھانے والے

اپریل 23, 2020

دل اب اُس کو ہار رہا ہے

جنوری 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کب کسی کے حسنِ فتنہ گر...

جنوری 1, 2023

پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی...

ستمبر 24, 2021

عدالت عظمیٰ کا عوامی سہولت پورٹل

اکتوبر 25, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں