375
تری تصویر اٹھائی ہوئی ہے
روشنی خواب میں آئی ہوئی ہے
میں نے اس دشت کو چھانا ہوا ہے
میں نے یہ خاک اڑائی ہوئی ہے
دوست ہیں سارے زمانے والے
میں نے دشمن سے بنائی ہوئی ہے
تجھ سے امید وفاؤں کی مجھے
آگ پانی میں لگائی ہوئی ہے
راز کی بات بتاؤں میں تمہیں
بات یہ میں نے اڑائی ہوئی ہے
آج ثالث میں بنا ہوں اپنا
کل بڑی خود سے لڑائی ہوئی ہے
عشق میں نام کمایا ہوا ہے
میں نے بدنامی کمائی ہوئی ہے
یہ مرا اپنا تخیل ہے زبیرؔ
یہ غزل سب نے اٹھائی ہوئی ہے
زبیر قیصر
