556
مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے
کبوتر کہہ رہے تھے ہم کہانی سن رہے تھے
میری گڑیا تیرے جگنو ہماری ماؤں کے غم
ہم اک دوجے سے بچپن کی کہانی سن رہے تھے
کبھی صحرا کے سینے پر بکھرتا ہے تو کیسے
سنہرے گیت گاتا ہے یہ پانی سن رہے تھے
گزرتی عمر کے ہر ایک لمحے کی زبانی
محبت رائیگانی رائیگانی سن رہے تھے
مزاج یار سے اتنی شناسائی غضب تھی
ہم اس کی گفتگو میں بے دھیانی سن رہے تھے
وفا کے شہر میں اک شام تھی خاموش بیٹھی
ہم اس میں بھی کمال خوش بیانی سن رہے تھے
دعائے آخری شب آسماں کو چھو رہی تھی
نوید روشنی اس کی زبانی سن رہے تھے
ہتھیلی پر رکھے پھولوں پہ جو آنسو گرے تھے
انہی سے کوئی اذن حکمرانی سن رہے تھے
