100
ہے گرم ملکوں کا سورج ترے جلال کی گرد
غرور کاہکشاں ہے ترے جمال کی گرد
محبتوں کے خرابوں میں دھوپ کم نکلی
کبھی جدائی کے کہرے کبھی ملال کی گرد
کبھی تو گزرے ادھر سے بھی کاروان بہار
کبھی تو پہنچے یہاں بھی ترے خیال کی گرد
ہمارے بالوں پہ موسم ہے برف باری کا
ہمارے چہرے پہ اڑتی ہے ماہ و سال کی گرد
تمام عالم امکاں ہے اک خیال میں گم
نہ پا سکے گا زمانہ کبھی خیال کی گرد
خاطر غزنوی
