395
دیکھتا ہوں پھول اور کانٹے بہ ہر سو آج بھی
یاد کرتا ہوں تری خوشبو تری خو آج بھی
جانے کیوں جلتی سلگتی شام کے ایوان میں
پھیل جاتی ہے تری باتوں کی خوشبو آج بھی
زیست کے خستہ شکستہ گنبدوں میں گاہ گاہ
گونجتا ہے تیری آوازوں کا جادو آج بھی
زلف کب کی آتش ایام سے کمھلا گئی
زلف کا سایہ نہیں ڈھلتا سر مو آج بھی
تو نے پانے ہاتھ میں جس پر لکھا تھا میرا نام
وہ صنوبر لہلہاتا ہے لب جو آج بھی
وہ ترا پل بھر کو ملنا پھر بچھڑنے کے لئے
دل کی مٹھی میں ہے اس لمحے کا جگنو آج بھی
مدتیں گزریں مگر اے دوست تیرے نام پر
ڈول جاتی ہے مرے دل کی ترازو آج بھی
خورشید رضوی
