366
اس کی محفل میں گنگنا دینا
یوں سخن کو نئی ادا دینا
ہم فقیروں کا ظرف ہے صاحب
چوٹ کھانا مگر دعا دینا
تیکھے لہجے کی کاٹ کیا کہنے
پوچھنا حال اور جلا دینا
بھر چلے ہیں تمام زخم مرے
پھر سے تھوڑا سا مسکرا دینا
آنے والوں پہ پھول برسانا
جانے والوں کو راستہ دینا
اس سے کم پر یہ دل نہیں راضی
زخم دینا تو بے بہا دینا
