102
اتنا ہی بہت ہے کہ یہ بارود ہے مجھ میں
انگارہ نما شخص بھی موجود ہے مجھ میں
پوروں سے نکل آئی ہے اک برف کی ٹہنی
اے دوست یہی آتش نمرود ہے مجھ میں
ہر گیند کے پیچھے کوئی آتا ہے ہمیشہ
یہ کون سے بچے کی اچھل کود ہے مجھ میں
گالی نہیں اچھی تو تمہیں پیش کروں کیا
اک اور بھی جملہ سخن آلود ہے مجھ میں
میں دیکھتا رہتا ہوں کہ وہ کھڑکی ہے خالی
تا حال یہی رونق بے سود ہے مجھ میں
یوں ہی تو نہیں لوگ گزرتے مرے دل سے
لگتا ہے کوئی منزل مقصود ہے مجھ میں
عاطف کمال رانا
