خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباموبائل کیمرہ اور بےحسی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمنزّہ سیّد

موبائل کیمرہ اور بےحسی

از سائیٹ ایڈمن جون 5, 2020
از سائیٹ ایڈمن جون 5, 2020 0 تبصرے 41 مناظر
42

موبائل کیمرہ اور بےحسی

دورِ جدید کی خوبصورت اور کار آمد ایجاد موبائل فون نے جہاں انسانی زندگی کو بیشمار سہولیات سے نوازا، وہیں ہمیں اخلاقی پستی اور بے حِسی کے عروج پر لے جانے میں بھی اہم کردار ادا کیاہے اور تصویر کشی کے ساتھ ساتھ سیلفی کا ایسا طوفانِ بدتمیزی برپا ہوا کہ جس نے انسانیت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ہم زندگی کے ہر لمحے کو موبائل کیمرہ میں قید کرنے کے شوق میں اپنے پرکھوں کی محبت ،خلوص اور ہمدردی بھری خوبصورت روایات کو یکسر بھول کر ایک ایسی شرمناک اور تکلیف دہ عادت یا مشغلے کا شکار ہو گئے کہ جس سے آگے صرف اور صرف اخلاقی اقدار و روایات کی موت نظر آتی ہے۔

آئیے! چند سال پیچھے چلتے ہیں کہ جب کسی مرتے ہوئے انسان، جانوریا چرند پرند کو پانی پلانے کی کوشش کی جاتی تھی۔تکلیف سے کراہنے والے کے ساتھ ہمدردی کی جاتی تھی۔خوفزدہ کو تسلی دی جاتی تھی،بیمار کو دلاسہ دیا جاتاتھا ،روتے ہوئے کو شفقت سے چُپ کروایا جاتا تھا۔۔برہنہ ہوتے ہوئے انسان کو بتایا جاتا تھا کہ آپ اپنے کپڑے ٹھیک کریں۔نیند کے دوران بے خبری میں برہنہ ہو جانے والے پر کپڑا ڈالا جاتا تھا۔مگر خیر ہو موبائل کی جس نے ہماری عقل ،انسانیت اور سماجی غیرت کو چھین کر ہمارے ضمیر کو بھی میٹھی نیند سلا دیا۔

اب صورتحال بالکل برعکس ہے ،مرتے ہوئے،روتے ہوئے،خوفزدہ،بیمار،تکلیف سے کراہتے ہوئے،بے خبری میں برہنہ ہوتے ہوئے۔سب کے سب ہی ”تصویر کشی” یا” وڈیوز”(کیمروں) کی زد میں ہیں اور ہم لوگ نہ صرف یہ کہ ان سب کی تصویر یا وڈیو بناتے ہیں بلکہ ان پر مزاحیہ جملے لکھ کر نیٹ پر وائرل کرنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ہمارا ضمیر اس قدر مردہ ہو چکا ہے کہ کوئی بھی یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ جس کی وڈیو یا تصویر بنا کر وائرل کی جا رہی ہے اس کے ارد گرد کے دوست،احباب، رشتے دار،محلے دار یا ملنے ملانے والے اپنے دل و دماغ میں اس کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے ۔ اُس کا کس طرح مذاق اُڑائیں گے، اُس پر کس کس طرح کے آوازے کسے جائیں گے اور پھر اس کے دل پر کیا گزرے گی۔۔ذرا سوچئے !کہاں گیا خوفِ خدا۔۔۔؟ اورکہاں گیا یہ احساس کہ خدانخواستہ کبھی ہم بھی اُن کی جگہ پر ہو سکتے ہیں۔بحیثیت مسلمان ہمیں انسانوں کی تعظیم و تکریم کا خیال رکھنا چاہئے لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے،ہمارا یہ مزاج بن چکا ہے کہ ہم دوسروں کا تماشہ بنا کر خوشی محسوس کرنے لگے ہیں۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حرکت ہمارے اندر کی حیوانیت ہے یا فرسٹریشن۔۔کہ جس کے باہر نکلنے پر ہم خود کو بہت بڑے فاتح تصور کرتے ہیں۔

معصوم بچوں ،عورتوں اور بزرگ شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور تشدد کے واقعات کی تصاویر اور وڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کا سلسلہ بھی روزبروز وسعت پا رہا ہے ،”یوٹیوب”پر چینل بنانے اور اس کے ذریعے ڈالر کمانے کا عارضہ میں تسلسل کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے ،اور ان چینلز پر بھی ایسی ایسی وڈیوز اَپ لوڈ کی جا رہی ہیں کہ جو انسانی سوچ و فکر کی پستی کی عکاس ہیں ،اخلاقی حدود و قیود سے آزاد سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ وڈیوز نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کر رہی ہیں۔اور اس کے اثرات آئندہ نسلوں کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں ۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ گھریلو خواتین بھی اپنے بچوں کو رُلا چڑا کر اُن کی گفتگو نیٹ پر پیش کرنے میں لگی ہیںاور سیلفی کے تو کیا ہی کہنے۔۔اس کے لئے منہ ٹیڑھا کر کے انگلیوں سے V کا نشان بنانے والے اللہ ہی جانے کون سا میدان فتح کرتے ہیں کہ جس کی خوشی میں” وکٹری ”کا نشان بنا کر کیمرے میں محفوظ کرتے ہیں۔سیلفی کے شوقین ایسے لوگوں کی اکثریت ایسی ہے کہ جنہیں کہیں بھی پبلک مقام پر اپنی سیلفی بنانے وقت احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کے خوبصورت چہرے کی بیک گراؤنڈ میں بہت سے بے خبر اجنبیوں کے ”ٹیڑھے میڑھے” چہرے بھی ان کے کیمرے میں محفوظ ہو رہے ہیں۔سلفی بنانے کا جنون بھی انتہاء کو پہنچ چکا ہے ،اور سلفیاں بناتے کتنے ہی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موت کی وادی میں اتر گئے ۔لیکن ہمیں اس کے باوجود اس بات کا احساس نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کس طرف جا رہے ہیں ۔

سوچنے کی بات یہ نہیں ہے کہ یہ سب اخلاق سے گری ہوئی حرکات یا گری ہو ئی ذہنیت ہمارے معاشرے میں کہاں سے آئی اور پھیل گئی بلکہ سوچنے کی بات ہے کہ آخر بے حِسی کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ۔۔؟کب تک ہم دوسروں کا تماشہ بنا کر عارضی خوشی محسوس کرتے رہیں گے ۔اور آخرکب تک ہم انسانیت کی تذلیل اور بے حرمتی میں ملوث رہیں گے ۔۔؟کب تک ہم اور ہمارے پیارے دوسروں کے موبائل کیمرہ کی زد سے بچے رہیں گے۔۔؟۔آئیے !سچے دل سے توبہ کریں اور یہ تماش بینی، یہ ٹھٹھہ مذاق چھوڑ کر اپنی مشرقی روایات کو مضبوطی سے تھام لیں تا کہ آنے والی نسلیں ہماری خوبصورت اور محبت بھری روایات سے آشنا ہو کر اپنے ارد گرد کے ماحول کے لئے کا رآمد انسان اور وطنِ عزیز کے لئے مفید شہری بن سکیں۔

منزہ سیّد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • منیر نیازی سے ایک ملاقات
  • دل کی دہلیز تلک خود کو رسائی دے گا
  • مجید کا ماضی
  • آخری سیلیوٹ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اس ملک کے رہبر ڈاکو ہیں
پچھلی پوسٹ
خواب کوئی پھر دکھائے زندگی

متعلقہ پوسٹس

ذیابیطس

مارچ 11, 2025

مایا تہذیب اور روحانی ورثہ

دسمبر 6, 2024

ملنے کے آرہے ہیں اب لوٹ کر زمانے

جنوری 28, 2020

شک کا بیج

جولائی 31, 2022

عباسی حکومت میں کتابوں اور کتب خانوں کی اہمیت

مارچ 9, 2026

کرونا لاک ڈاؤن کے دوران

مارچ 18, 2025

سٹیٹ بینک : شرحِ سود

اکتوبر 29, 2025

شدّت

نومبر 6, 2020

جو ضروری ہیں سارے کام کرو

دسمبر 26, 2024

اے حسن مغرور

مئی 23, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پانی کے آئینے میں قید دیوی

جنوری 16, 2025

دامِ محبت

جنوری 7, 2023

جنرل عاصم ملک

اکتوبر 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں