110
در بدر ہو کے جو در سوچ لیا
ہم نے اب ترکِ سفر سوچ لیا
سوچ لے تو بھی کہاں رکنا ہے
یا سفر تابہ سحر سوچ لیا ؟
اب نہ وحشت کے ہیں آثار کہیں
کس طرح ہوگی بسر سوچ لیا
گر میسر ہیں تو سستا نہ سمجھ
پھر نہ آئیں گے اگر سوچ لیا
تجھ سے امّید کوئی کیا رکھے
جس نے انجام کا ڈر سوچ لیا
خدا نے کھولی اذیت کی دکاں
پھر چلانے کو بشر سوچ لیا
ناصر زملؔ
