434
کس چمن سے چلی ہے پروائی
سانس لیتے ہی آنکھ بھر آئی
ایک پیاسے کے نام سے منسوب
مشک، دریا، ترائی، سقّائی
تاب ہو تو دکھائی دیتا ہے
نوکِ نیزہ پہ حسنِ یکتائی
تب جو مقتل تھا اب وہ جنّت ہے
“اس کو کہتے ہیں عالم آرائی”
کیا اسے خوفِ یُورشِ لشکر
جس کو گھیرے ہوئے ہو تنہائی
عارف امام
