خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

دھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2025 0 تبصرے 69 مناظر
70

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
ہماری اس تحریر کا عنوان کسی شاعر کے اس شعر کا ایک مصرع ہے کہ

” عمر بھر غالب یہی بھول کرتا رہا
دھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا "

اس شعر میں غالب کانام نظر آرہا ہے لیکن زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ شعر غالب کا نہیں ہے بلکہ یہ سوشل میڈیا کی پیداوار ہے لیکن جس کسی کا بھی یہ شعر ہے اس نے بہت خوب لکھا ہے ۔میرے ناقص ذہن میں اس شعر کا مطلب یہ آتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد بسنے والے لوگوں کی اچھائیوں اور برائیوں کی طرف تو بڑی دلیری اور آگے بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں یعنی زرا زرا سی بات پر رشتے بدل دیتے ہیں دوست بدل دیتے ہیں محلہ بدل دیتے ہیں شہر بدل دیتے ہیں یہاں تک کہ ملک بھی بدل دیتے ہیں لیکن اپنی ذات کی طرف دھیان نہیں دیتے اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ زندگی میں آنے والے سارے مسائل کا حل اپنا آپ بدلنا ہے دیکھیئے اس کائنات کا جو خالق ہے اس نے اپنی قدرت اپنی طاقت اپنی واحد ہستی کے ہونے کا ثبوت ہمیں ہر جگہ دکھاتا ہے اور تھوڑے تھوڑے وقفہ پر وہ اپنے خدا ہونے کے دعوے کو ہم پر طوفانوں سیلابوں زلزلوں آگ کے پھیلائو اور چند ساعتوں میں سب کچھ ادھر کا ادھر کردینے کی جھلک میں ہمیں دکھاتا ہے کیونکہ رب العالمین کی قدرت ہمیشہ اپنے آپ کو منواتی رہی ہے کیا کوئی ہے جو اس کے حکم کے خلاف دم بھی مار سکے ہے کوئی جو اس کے حکم کے خلاف کوئی سوال اٹھا سکے کوئی نہیں ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے انہیں اچھالنے میں ہمیں مزہ آتا ہے دوسروں پر طعنہ زنی کرنے پر ہم خوش ہوتے ہیں دوسروں کو مذاق کا نشانہ بنا کر ہم فخر محسوس کرتے ہیں اور پھر بھی ہر وقت پریشانی کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں سوچا کہ آخر ہم پریشان کیوں ہیں ؟ کیونکہ ہم اپنا آپ بدلنے کے لیئے تیار نہیں ہیں خود کو بدلنے کی کوشش ہم کرتے ہی نہیں ہیں اور بعض لوگ یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ بھئی ہم خود کو کیسے بدلیں؟ تو دراصل ہمیں خود کو بدلنے کے لیئے اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا جب ہم اپنی سوچ کو بدلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہماری زندگی میں خودبخود تبدیلی انا شروع ہو جاتی ہے اب آپ دیکھیں کہ
یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ باغ میں پھول اْگانے کے لیے مالی کو کتنی محنت کرنی پڑتی ہے۔ مہکتا ہوا گلاب، مسکراتی ہوئی چمبیلی، قہقہے لگاتے ہوئے گیندے کے پھول، مختلف قسم کی خوشبو بکھیرتی کلیاں کسی کی روزانہ محنت، توجہ اور مشقت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ مگر اسی باغ میں آپ نے کبھی کسی مالی کو گھاس اْگاتے دیکھا ہے؟یقینا نہیں بلکہ جب گھاس خود بخود نکلتی ہے تومالی خود اْکھاڑ پھینکتا ہے۔ تاکہ باغ کی خوبصورتی برقرار رہے۔ پھول پودے محفوظ رہیں اور ان کی افزائش ہوتی رہے۔اگر مالی خود سے پیدا ہونے والے ان غیرمطلوب پودوں کو نہ اْکھاڑے تو باغ جنگل بن جائے گا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ ہی معاملہ انسان ذات کا بھی ہے کہ ہمیں اپنے اندر مثبت خیالات کو لانے اور انہیں ذہن میں بٹھانے کے لیئے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے جدوجہد کرنی پڑتی ہے جبکہ منفی خیالات کی بھرمار خودبخود ہوتی رہتی ہے برے خیالات آنے کا سلسلہ تیزی سے جاری رہتا ہے اور ان منفی خیالات کو روکنا آسان نہیں ایک تحقیق کے مطابق ہر انسان اپنے آپ سے روانہ کم و بیش پچاس ہزار سے زیادہ باتیں کرتا ہے اور نفسیاتی ماہرین کے مطابق ان میں 80 فیصد منفی ہوتی ہیں مثلاً مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا۔وہ لوگ مجھے پسند نہیں کرتے۔ مجھ سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ میں دوسروں کی طرح خوبصورت نہیں ہوں۔ میرا ذہن کمزور ہے۔میں مقرر نہیں بن سکتا۔ مجھ میں کوئی قابلیت نہیں ہے۔ میری قسمت ہی خراب ہے وغیرہ وغیرہ۔اوریہی منفی خیالات جب انسان پر حاوی ہو جاتے ہیں تو وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں شعر کے اس مصرعے کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ دوسروں کی بیشمار دولت کو اور ان کے عالیشان گھر کو دیکھ کر حسد کرنے کی بجائے ان کے لیئے دعائے برکت کرنی چاہئے احساس کمتری کا شکار ہوکر ایسے لوگوں پر الٹے سیدھے الزامات لگا کر انہیں رشوت خور یا دو نمبر کہہ کر واویلا کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے اس کی مرضی اور حکمت کے سبب اپنے لیئے دعا کرنا سیکھ لیں کیونکہ یہ سب رب العالمین کی تقسیم ہے اور اس میں اس کی حکمت پنہا ہے وہ کسی کو دےکر آزماتا ہے اور کسی نہ دے کر جبھی تو شاعر کہا کہ

کسی کو کم ملا تو کسی کو زیادہ یہ نظام قدرت ہے
رب کی حکمت کو اگر سمجھ لیا جائے تو کیا کہنے

جب ہم رب العزت کی ہر معاملے میں حکمت اور مرضی کو سمجھ لیں گے تو ہمیں اپنے اندر تبدیلی محسوس ہونا شروع ہو جائے گی اور مثبت سوچ کی طرف رجحان ہمارا بڑھتا جائے گا منفی خیالات جنم لینا کم جائیں گے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ان منفی خیالات کو ہی مثبت سوچ میں بدلنے کی ضرورت ہے دوسروں کی طرف کیچڑ اچھالنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنا آپ صاف رکھیں یعنی دھول چہرے پر ہو تو ہمیں آئینہ صاف کرنے کی بجائے اپنے چہرے سے دھول صاف کرنا ہوگی دوسروں کے عیبوں کو دیکھنے اور انہیں اچھالنے کی بجائے اپنی غلطیوں اپنی کوتاہیوں اور اپنی کمزوریوں کی طرف دیکھنا ہوگا انہیں دور کرنے کی کوشش کرنا ہوگی جب ہم اپنا آپ بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ہمیں ہر انسان اچھا لگنے لگے لگا اور یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لیئے ہمیں سب سے زیادہ اپنے ماحول کو بدلنے کی ضرورت ہے ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ اپنی نسبت قائم کرنا ہوگی جو مثبت سوچ کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں جو خود بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے اردگرد ایسے لوگ بھی ہیں بس انہیں ڈھونڈنے ان تک پہنچنے اور ان سے فیض حاصل کرنے ضرورت ہے اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید اور حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ بھی ہماری رہنمائی کے لیئے موجود ہیں اس کے علاوہ ہمارے فقہاء کی لکھی ہوئی بیشمار تصانیف ہمیں اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیئے ہر جگہ موجود ہیں یعنی راستے بہت ہیں ذرائع بہت ہیں بات صرف اپنے آپ کو بدلنے کی چاہ پر ہے اپنے آپ کو بدلنے کے لیئے سچی نیت کی ضرورت ہے کیونکہ کب تک چہرے پر جمی دھول کو صاف نہ کرنے کی بجائے ہم آئینہ صاف کرتے رہیں گے جب تک ہم ایسے ہی پریشان رہیں گے ہمارے دل و دماغ میں منفی خیالات کی بھرمار رہے گی اور ہم احساس کمتری کا شکار ہوکر دوسروں کے لیئے برا بھلا ہی سوچتے رہیں گے حسد اور کینہ پروری کا شکار رہیں اور نتیجہ صرف صفر ہی ہوگا لہذہ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنا آپ درست کریں اپنے چہرے پر لگی دھول کو صاف کرنے کی کوشش کریں نا کہ آئینہ صاف کرنے میں اپنے وقت کو ضائع کرتے رہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مختصر مضمون اور مختصر کوشش مگر جامع الفاظوں کے ذریعے میں نے یہ بات بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ زندگی بڑی مختصر ہے اور اللہ رب العزت کی بہت بڑی نعمت ہے اسے یوں فضولیات میں ضائع کرنے کی بجائے جس مقصد کے لیئے رب تعالیٰ نے ہمیں اس نعمت سے سرفراز فرمایا ہے اس کے تحت گزاریں تو ہماری یہ مختصر زندگی بہت اچھی طرح گزرے گی اور آخرت کی کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی بھی بہت اچھی گزرے گی ورنہ یوں تو ہر گزرنے والا دن ہماری دنیا میں رہنے کی مدت کو کم کرتا جارہا ہے اور یہ زندگی برف کی طرح پگھلتی جارہی ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں دنیاوی اور آخرت کی دونوں زندگیوں میں عافیت عطا کرے صرف اپنا محتاج رکھے کسی اور کی محتاجی سے آخری سانس تک بچاکر رکھے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے اپنی دعائوں میں یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا
  • یہی نہیں تھا کہ لوگ دشمن بنے ہوئے تھے
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»
  • کوششیں کر کے دل برا کیا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اخبارات کا زوال اور سوشل میڈیا کا اُبھار
پچھلی پوسٹ
قومی حکمت عملی کی کمی

متعلقہ پوسٹس

الوداع ماہ رمضاں

مارچ 30, 2025

ایسے جیسے اک مدت کے

دسمبر 26, 2024

بے جا آنسو نہ اب بہا چپ کر

مئی 14, 2024

خاموش عورت

فروری 2, 2020

میرے وطن کو کوئی دعا لگ نہیں رہی

اکتوبر 16, 2025

ہنرمند نسل کی تعمیر کیسے کی جائے؟

اکتوبر 13, 2025

دادی کی جوانی

اپریل 1, 2023

قرآن میں جنگ کے احکام

دسمبر 6, 2025

ابتدا میں دکھ ہیں

مئی 31, 2024

عہدِ وفا کی تفسیر

اکتوبر 23, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بے حسی کب ہے

جون 20, 2024

خالی بوتلیں خالی ڈبے

جنوری 12, 2020

ماہتابِ دلکشی

جنوری 10, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں