خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااخبارات کا زوال اور سوشل میڈیا کا اُبھار
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

اخبارات کا زوال اور سوشل میڈیا کا اُبھار

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2025 0 تبصرے 66 مناظر
67

میرا پہلا کالم 2010 میں شائع ہوا۔ اس زمانے میں اخبارات کی سماجی حیثیت بہت زیادہ تھی۔ جس فرد کا اخبار میں بیان / کالم شائع ہوتا یا تصویر لگتی، وہ خود کو خوش نصیب سمجھتا۔اسی طرح اخبارات کا پیمانہ بھی بہت سخت تھا۔ ہر کسی کی تحریر کو شائع کرنے کا اعزاز نہیں ملتا تھا۔ مدیر کے کمرے میں بیٹھا ایک محتاط قاری ہر لفظ کو پرکھتا اور اس کے بعد ہی صفحہ اشاعت تک رسائی ملتی۔ یہی سختی دراصل اخبار کو وقار بخشتی تھی اور قاری کو یقین دلاتی تھی کہ جو کچھ چھپ رہا ہے، وہ سوچ سمجھ کر شائع ہوا ہے۔

لیکن آج، محض پندرہ برس کے قلیل عرصے میں یہ منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے۔ اخبارات جنہیں رائے سازی، فکری قیادت اور خبر کی سب سے معتبر صورت سمجھا جاتا تھا، وہ رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا ہے جو ایک غیر مرئی سیلاب کی طرح ہر طرف پھیل گیا ہے۔ اب ہر شخص صحافی ہے، ہر قاری مصنف ہے اور ہر تصویر خبر کا روپ دھار سکتی ہے۔

اخبار کا سنہری دور

میری نسل نے اخبارات کا وہ زمانہ دیکھا ہے جب صبح کا آغاز اخبار کے ساتھ ہوتا تھا۔ چائے کے کپ کے ساتھ اخبار کا انتظار گھروں میں ایک معمول تھا۔ دکانوں پر اخبار بکتا، دفاتر میں میزوں پر سجتا اور گلی کوچوں میں بچے آواز لگاتے: "اخبار! اخبار!”۔ وہ محض خبروں کا ذخیرہ نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک عہد کی دستاویز ہوا کرتا تھا۔

کسی سیاسی لیڈر کا بیان اگر اخبار میں چھپ جائے تو مخالفین کے پاس اس کا جواب دینے کے سوا چارہ نہ رہتا۔ کسی کالم نگار کی تنقید حکمرانوں کے لیے لمحۂ فکریہ بن جاتی۔ اور اگر کسی مقامی استاد یا شاعر کی تصویر اخبار میں چھپ جاتی تو یہ پورے محلے کے لیے فخر کا باعث ہوتا۔

اخبارات کے سنہری دور میں خبر کی تصدیق کے کئی مراحل ہوتے۔ رپورٹر خبر لاتا، ایڈیٹر اس کی جانچ کرتا، سب ایڈیٹر سرخی بناتا، پروف ریڈر آخری نظر ڈالتا اور پھر جا کر قاری کے ہاتھوں تک رسائی ملتی۔ یہی وجہ تھی کہ اخبار پر اعتماد کیا جاتا۔

زوال کی ابتدا

لیکن پھر وقت نے رخ بدلا۔ انٹرنیٹ عام ہوا، موبائل فون سب کی دسترس میں آئے اور سوشل میڈیا نے دنیا کو جکڑ لیا۔ پہلے پہل اخبارات نے اسے ایک وقتی لہر سمجھا۔ مدیران کو گمان تھا کہ چند برسوں بعد یہ نیا شوق مدھم ہو جائے گا اور قارئین دوبارہ اخبار کی دنیا میں لوٹ آئیں گے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔

اخبارات کی سست رفتاری ان کے لیے سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔ خبر جو کل صبح اخبار میں چھپنے والی تھی، وہ آج شام ہی فیس بک یا ٹوئٹر پر وائرل ہو جاتی۔ قاری کو کل تک انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔ اخبارات کے صفحات سکڑتے گئے اور قارئین کے ہاتھوں میں موبائل کی اسکرینیں بڑھتی گئیں۔

سوشل میڈیا کا ابھار

سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اب خبر کے لیے سب ایڈیٹر یا ایڈیٹر کی چھان پھٹک کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ ایک عام شہری اگر کسی حادثے کا چشم دید گواہ ہے تو وہ ویڈیو بنا کر فوراً لاکھوں لوگوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ فوری پن سوشل میڈیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ طاقت معیار بھی فراہم کر پائی ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو بولنے کا حق تو دیا ہے، مگر اس حق کے ساتھ ذمہ داری کا شعور کم ہے۔ یوں افواہیں، جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا بھی اسی رفتار سے پھیلتے ہیں جس رفتار سے سچائی۔

اخبارات اور سوشل میڈیا کا تقابل

اخبارات اور سوشل میڈیا کا موازنہ ایک نسل اور نئی نسل کا فرق ہے۔ اخبار دھیمے لہجے میں بات کرتا ہے، دلائل دیتا ہے، پس منظر بیان کرتا ہے، اور پھر کسی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ سوشل میڈیا چیخنے چلانے والا نوجوان ہے جو فوری تاثر دیتا ہے اور اگلے لمحے نئی بات پر آگے بڑھ جاتا ہے۔

اخبار میں ایک خبر کی عمر کم از کم چوبیس گھنٹے ہوتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر خبر کی زندگی چند منٹ سے زیادہ نہیں۔ اخبار قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے، جب کہ سوشل میڈیا اسے لمحاتی جذبات میں بہا لے جاتا ہے۔

کالم نگاری کا بدلتا ہوا منظر

پہلے کالم نگار کا کالم ہفتے یا مہینے بھر تک زیر بحث رہتا تھا۔ قاری خط لکھتے، مدیر کے صفحے پر بحث ہوتی اور پھر آہستہ آہستہ رائے بنائی جاتی۔ آج کالم کی جگہ سوشل میڈیا پوسٹ نے لے لی ہے۔ چند لمحوں میں ہزاروں لائکس اور کمنٹس آ جاتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی وہ تحریر اگلی پوسٹوں کے ڈھیر تلے دب جاتی ہے۔

کالم نگاری کا وقار بھی اسی رفتار سے متاثر ہوا ہے۔ اب لوگ طویل تجزیے کے بجائے چھوٹے کلپ یا مختصر ویڈیو کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اخبار میں چھپنے والی تحریر کا وزن اور اثر آج بھی زیادہ ہے۔

مستقبل کی سمت

سوال یہ ہے کہ کیا اخبارات مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے؟ میرا خیال ہے نہیں۔ اخبار ایک روایت ہے، ایک دستاویز ہے اور ایک معتبر حوالہ ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اخبارات کو اپنی شکل اور حکمت عملی بدلنی پڑے گی۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنانا ہو گا، سوشل میڈیا کے ساتھ انضمام پیدا کرنا ہوگا اور اپنے قارئین کو وہ اعتماد دوبارہ دینا ہوگا جو کبھی اخبار کی پہچان تھا۔

ممکن ہے اخبار کا کاغذی وجود سکڑ جائے لیکن اس کی روح، یعنی معتبر خبر اور متوازن تجزیہ، ہمیشہ باقی رہے گی۔ یہی وہ چیز ہے جو سوشل میڈیا فراہم نہیں کر سکتا۔

حرفِ آخر

اخبارات کے زوال اور سوشل میڈیا کے ابھار کا یہ سفر دراصل وقت کی رفتار کا بیان ہے۔ ہم اس کو روک نہیں سکتے لیکن اسے بہتر سمت ضرور دے سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا کی تیز رفتاری کو معلومات کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کریں مگر ساتھ ہی اخبار کے وقار اور تصدیق کی روایت کو زندہ رکھیں۔

میری نظر میں اخبار اور سوشل میڈیا دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ایک روایت کی علامت ہے تو دوسرا تبدیلی کی۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم روایت اور تبدیلی کو ایک ساتھ ملا کر آگے بڑھیں۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سفر نامہ بھارت – دوسری قسط
  • صدر ٹرمپ کا بھارت کو ایک اور سرپرائز
  • کب کہا کم، بہت زیادہ ہے
  • کیا مصنوعی ذہانت انسان کی آخری ایجاد ہو سکتی ہے؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کچے مکانات، کچے وعدے
پچھلی پوسٹ
دھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا

متعلقہ پوسٹس

یہ کیسی خطا ہوئی

دسمبر 25, 2024

دوستی میں حِساب کی باتیں ؟

دسمبر 12, 2021

بھنور میں جتنے سہارے کھڑے دکھائی دیے

مارچ 28, 2022

آنکھوں کو موندے بیٹھے ہیں طائر مزاج ہم

مئی 14, 2020

دکھوں میں سرپرستی آپ نے کی

نومبر 17, 2025

کروناوائرس: سوالات سے ٹکراتے سوالات

اپریل 15, 2020

ہزاروں راز پنہاں ہیں شعورِ خاک کے اندر

اپریل 21, 2020

نہ سنوائی، نہ تحفظ

اگست 15, 2025

سفر

دسمبر 13, 2021

چھین کر میری ہر خوشی مجھ سے

نومبر 1, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چلو اک کام کرتے ہیں

اپریل 7, 2020

پہاڑی کھیت میں!

مئی 20, 2020

ایک نظم جو لکھی نہیں جاسکتی

دسمبر 8, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں