خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااخبارات کا زوال اور سوشل میڈیا کا اُبھار
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

اخبارات کا زوال اور سوشل میڈیا کا اُبھار

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2025 0 تبصرے 87 مناظر
88

میرا پہلا کالم 2010 میں شائع ہوا۔ اس زمانے میں اخبارات کی سماجی حیثیت بہت زیادہ تھی۔ جس فرد کا اخبار میں بیان / کالم شائع ہوتا یا تصویر لگتی، وہ خود کو خوش نصیب سمجھتا۔اسی طرح اخبارات کا پیمانہ بھی بہت سخت تھا۔ ہر کسی کی تحریر کو شائع کرنے کا اعزاز نہیں ملتا تھا۔ مدیر کے کمرے میں بیٹھا ایک محتاط قاری ہر لفظ کو پرکھتا اور اس کے بعد ہی صفحہ اشاعت تک رسائی ملتی۔ یہی سختی دراصل اخبار کو وقار بخشتی تھی اور قاری کو یقین دلاتی تھی کہ جو کچھ چھپ رہا ہے، وہ سوچ سمجھ کر شائع ہوا ہے۔

لیکن آج، محض پندرہ برس کے قلیل عرصے میں یہ منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے۔ اخبارات جنہیں رائے سازی، فکری قیادت اور خبر کی سب سے معتبر صورت سمجھا جاتا تھا، وہ رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا ہے جو ایک غیر مرئی سیلاب کی طرح ہر طرف پھیل گیا ہے۔ اب ہر شخص صحافی ہے، ہر قاری مصنف ہے اور ہر تصویر خبر کا روپ دھار سکتی ہے۔

اخبار کا سنہری دور

میری نسل نے اخبارات کا وہ زمانہ دیکھا ہے جب صبح کا آغاز اخبار کے ساتھ ہوتا تھا۔ چائے کے کپ کے ساتھ اخبار کا انتظار گھروں میں ایک معمول تھا۔ دکانوں پر اخبار بکتا، دفاتر میں میزوں پر سجتا اور گلی کوچوں میں بچے آواز لگاتے: "اخبار! اخبار!”۔ وہ محض خبروں کا ذخیرہ نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک عہد کی دستاویز ہوا کرتا تھا۔

کسی سیاسی لیڈر کا بیان اگر اخبار میں چھپ جائے تو مخالفین کے پاس اس کا جواب دینے کے سوا چارہ نہ رہتا۔ کسی کالم نگار کی تنقید حکمرانوں کے لیے لمحۂ فکریہ بن جاتی۔ اور اگر کسی مقامی استاد یا شاعر کی تصویر اخبار میں چھپ جاتی تو یہ پورے محلے کے لیے فخر کا باعث ہوتا۔

اخبارات کے سنہری دور میں خبر کی تصدیق کے کئی مراحل ہوتے۔ رپورٹر خبر لاتا، ایڈیٹر اس کی جانچ کرتا، سب ایڈیٹر سرخی بناتا، پروف ریڈر آخری نظر ڈالتا اور پھر جا کر قاری کے ہاتھوں تک رسائی ملتی۔ یہی وجہ تھی کہ اخبار پر اعتماد کیا جاتا۔

زوال کی ابتدا

لیکن پھر وقت نے رخ بدلا۔ انٹرنیٹ عام ہوا، موبائل فون سب کی دسترس میں آئے اور سوشل میڈیا نے دنیا کو جکڑ لیا۔ پہلے پہل اخبارات نے اسے ایک وقتی لہر سمجھا۔ مدیران کو گمان تھا کہ چند برسوں بعد یہ نیا شوق مدھم ہو جائے گا اور قارئین دوبارہ اخبار کی دنیا میں لوٹ آئیں گے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔

اخبارات کی سست رفتاری ان کے لیے سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔ خبر جو کل صبح اخبار میں چھپنے والی تھی، وہ آج شام ہی فیس بک یا ٹوئٹر پر وائرل ہو جاتی۔ قاری کو کل تک انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔ اخبارات کے صفحات سکڑتے گئے اور قارئین کے ہاتھوں میں موبائل کی اسکرینیں بڑھتی گئیں۔

سوشل میڈیا کا ابھار

سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اب خبر کے لیے سب ایڈیٹر یا ایڈیٹر کی چھان پھٹک کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ ایک عام شہری اگر کسی حادثے کا چشم دید گواہ ہے تو وہ ویڈیو بنا کر فوراً لاکھوں لوگوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ فوری پن سوشل میڈیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ طاقت معیار بھی فراہم کر پائی ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو بولنے کا حق تو دیا ہے، مگر اس حق کے ساتھ ذمہ داری کا شعور کم ہے۔ یوں افواہیں، جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا بھی اسی رفتار سے پھیلتے ہیں جس رفتار سے سچائی۔

اخبارات اور سوشل میڈیا کا تقابل

اخبارات اور سوشل میڈیا کا موازنہ ایک نسل اور نئی نسل کا فرق ہے۔ اخبار دھیمے لہجے میں بات کرتا ہے، دلائل دیتا ہے، پس منظر بیان کرتا ہے، اور پھر کسی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ سوشل میڈیا چیخنے چلانے والا نوجوان ہے جو فوری تاثر دیتا ہے اور اگلے لمحے نئی بات پر آگے بڑھ جاتا ہے۔

اخبار میں ایک خبر کی عمر کم از کم چوبیس گھنٹے ہوتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر خبر کی زندگی چند منٹ سے زیادہ نہیں۔ اخبار قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے، جب کہ سوشل میڈیا اسے لمحاتی جذبات میں بہا لے جاتا ہے۔

کالم نگاری کا بدلتا ہوا منظر

پہلے کالم نگار کا کالم ہفتے یا مہینے بھر تک زیر بحث رہتا تھا۔ قاری خط لکھتے، مدیر کے صفحے پر بحث ہوتی اور پھر آہستہ آہستہ رائے بنائی جاتی۔ آج کالم کی جگہ سوشل میڈیا پوسٹ نے لے لی ہے۔ چند لمحوں میں ہزاروں لائکس اور کمنٹس آ جاتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی وہ تحریر اگلی پوسٹوں کے ڈھیر تلے دب جاتی ہے۔

کالم نگاری کا وقار بھی اسی رفتار سے متاثر ہوا ہے۔ اب لوگ طویل تجزیے کے بجائے چھوٹے کلپ یا مختصر ویڈیو کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اخبار میں چھپنے والی تحریر کا وزن اور اثر آج بھی زیادہ ہے۔

مستقبل کی سمت

سوال یہ ہے کہ کیا اخبارات مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے؟ میرا خیال ہے نہیں۔ اخبار ایک روایت ہے، ایک دستاویز ہے اور ایک معتبر حوالہ ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اخبارات کو اپنی شکل اور حکمت عملی بدلنی پڑے گی۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنانا ہو گا، سوشل میڈیا کے ساتھ انضمام پیدا کرنا ہوگا اور اپنے قارئین کو وہ اعتماد دوبارہ دینا ہوگا جو کبھی اخبار کی پہچان تھا۔

ممکن ہے اخبار کا کاغذی وجود سکڑ جائے لیکن اس کی روح، یعنی معتبر خبر اور متوازن تجزیہ، ہمیشہ باقی رہے گی۔ یہی وہ چیز ہے جو سوشل میڈیا فراہم نہیں کر سکتا۔

حرفِ آخر

اخبارات کے زوال اور سوشل میڈیا کے ابھار کا یہ سفر دراصل وقت کی رفتار کا بیان ہے۔ ہم اس کو روک نہیں سکتے لیکن اسے بہتر سمت ضرور دے سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا کی تیز رفتاری کو معلومات کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کریں مگر ساتھ ہی اخبار کے وقار اور تصدیق کی روایت کو زندہ رکھیں۔

میری نظر میں اخبار اور سوشل میڈیا دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ایک روایت کی علامت ہے تو دوسرا تبدیلی کی۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم روایت اور تبدیلی کو ایک ساتھ ملا کر آگے بڑھیں۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اس نے ہم کو آج بلایا
  • کتنے سورج تراشے مگر
  • مجرم بنا دیا مرے حالات نے مجھے
  • کب مری حلقہِ وحشت سے رہائی ہوئی ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کچے مکانات، کچے وعدے
پچھلی پوسٹ
دھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا

متعلقہ پوسٹس

ہم غرِیبی کی رِدا تان کے

نومبر 11, 2025

عکسِ خاموشی

فروری 8, 2025

کبھی آباد تھا یہ شہرِ جاں بھی

جون 13, 2020

اوور کوٹ

دسمبر 6, 2019

گرمیاں

مئی 26, 2025

عید کی برکتیں اور محبت کا پیغام

مارچ 21, 2026

پانی کے آئینے میں قید دیوی

جنوری 16, 2025

کراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا!

جولائی 31, 2020

ہنستے ہنستے

دسمبر 4, 2019

راشد الخیری : حیات اور کارنامے

مئی 19, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا...

نومبر 23, 2019

غیب سے کوئی اشارہ بھی تو...

جنوری 13, 2020

سرحدِ فکر پر ایک بیمار ماں

جون 20, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں