111
چھین کر میری ہر خوشی مجھ سے
خوش نہیں پھر بھی زندگی مجھ سے
رات دیوار میرے کمرے کی
شب ڈھلے یونہی آ لگی مجھ سے
دو گھڑی میں بھی سانس لوں کھل کر
دور ہو حبس_ آگہی مجھ سے
سب اسے اختیار دے دیے ہیں
خوش رہے میری بے بسی مجھ سے
اب ترے بعد وا کیے بانہیں
مل رہی ہے تری گلی مجھ سے
اے خدا اژدہام حسرت میں
کھو گیا ہے اک آدمی مجھ سے
بے محل آ کبھی مرے دل میں
بے ارادہ بھی مل کبھی مجھ سے
قہقہے یوں نہ بے تکلف ہو
آشنائی نہ واقفی مجھ سے
عمران ہاشمی
