خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباابھی ذوق پرواز باقی ہے!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ابھی ذوق پرواز باقی ہے!

از سائیٹ ایڈمن جون 17, 2022
از سائیٹ ایڈمن جون 17, 2022 0 تبصرے 79 مناظر
80

بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگیاں کسی کوہلو کے بیل کی طرح گزرتی جارہی ہیں یعنی گردشِ ایام ایک مخصوص گرداب کی زد میں ہے ۔ بقول شاعر کے ْرخ ہواءوں کا جدھر ہے ادھر کے ہم ہیں ٗ انسانوں کی کثیر تعداد اسی ڈھب پر زندگیاں بسرکرتے چلے جارہے ہیں ۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی بھوک سے بہت جلد پریشان ہوجاتے ہیں اور جلد از جلد سد باب کیلئے نکل پڑتے ہیں جسکی وجہ سے ہم کسی خاص مقصد پر یکسوئی کیساتھ کھڑے نہیں رہ پاتے ۔ دور جدید میں بات بھوک سے بہت آگے نکل گئی ہے یا پھر یوں سمجھ لیجئے کہ بھوک بہت ساری مختلف شکلیں بدل کر پھیل گئی ہے یعنی آسائشوں کی طلب پیٹ کی بھوک سے بہت آگے لے گئی ہے ۔ حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال نے بھوک کے جدید معنی اور اسکا اصل مقصد بہت پہلے ہی بھانپ لیا تھا ، وہ یہ جان گئے تھے کہ اس بھوک کو دشمنان ِ اسلام بطور ہتھیار استعمال کرنے کا بھرپور منصوبہ بنا چکے ہیں ، تب ہی آپ نے امت کو اور بلخصوص برِ صغیر کے مسلمانوں کودرجہ ذیل شعر کے توسط سے آگاہ کردیا تھا کہ

عصرِ حاضر ملک الموت ہے تیرا، جس نے قبض کی روح تیری دے کے تجھے فکر ِ معاش

کسی بھی تحریک کی بنیاد کوئی نظریہ ہوتا ہے اور نظریہ بھی وہ جو خالص ہواور مقصد حقیقی اور خالص ہو، گوکہ نظرئیے کا حقیقی اور خالص ہونا وقت ثابت کردیتا ہے ۔ ہم کتنی ہی ایسی تحریکوں کے گواہ ہیں جن کا آغاز تو ہوا لیکن انجام کے بغیر ہی دم دوڑ گئیں ۔ لیکن ہم ایسی بھی تحریکوں کے گواہ ہیں کہ جن کو زندہ ہو جاویدہ رکھنے کیلئے ہر روز خون دیا جاتا ہے اورانہیں زندہ رکھنے والے ہر لمحہ خون دینے کو تیار رہتے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ خون دینے والے کیلئے صنف کی کوئی شرط نہیں عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں رقم کیا گیا ہے کہ تحریک کے حصول کیلئے یکسوئی کا ہونا بہت ضروری ہے اور بھوک یکسوئی چھین لیتی ہے ۔ بھوک لوگوں کو تقسیم کردیتی ہے بدقسمتی ہے ہم مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان ہم مسلمانوں نے ہی پہنچایا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہم اپنی بھوک کو قابو نہیں رکھ پاتے ۔ ابھی ماہ مبارک رمضان سے گزر کر آرہے ہیں جو ہ میں اللہ کے حکم سے رک جانے کا درس دیتا ہے ۔ کھانے پینے سے اوربرے کاموں سے دور رکھنے میں روزہ ڈھال کا کام دیتا ہے یہ روزہ ہماری تربیت کیلئے ہم پر فرض کیا گیا ہے یعنی ایک ماہ کی تربیت سارے سال کیلئے ہوتی ہے اور اسی طرح سے پھر ایک ماہ کے روزے آجاتے ہیں ۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ رب العزت کی رضا کیلئے صرف ایک مہینہ کسی حد تک رک جاتے ہیں لیکن یہ عمل ہماری زندگیوں پر کم ہی خاطر خواہ اثر اندازہوتی ہے ۔

ایک طرف تاریخ کے مطالعے میں مسلمانوں کے سر فخر سے بلندہوجاتے ہیں جہاں حق و باطل کی جدوجہد کے عظیم مینار نصب ہیں اور ایسے ایسے کردار ہیں کہ جن کے کارنامے جسم میں جھرجھری لے آتے ہیں اور اگر ان تاریخی صفاحات کے سمندر میں غوطہ زن ہوکر مطالعہ کیا جائے تو میدان حرب کی دھول بھی اپنے جسم پر محسوس ہوتی ہے اور سورج کی تپش بھی جسم کو سینک پہنچانے لگتی ہے پھر تلواروں کی گھن گرج بھی خوب سنائی دیتی ہے اور اپنے اسلاف کیساتھ میدان حرب میں لڑنے کا شرف بھی میسر آجاتا ہے یہ اور بات ہے کہ امیر لشکر ہمیشہ آنکھوں سے اوجھل ہی رہتا ہے شائد اس میں بھی قدرت کی کوئی پردہ پوشی ہو ۔ دوسری طرف دیکھیں تو اپنے ہی لوگوں کے ایسے کردار بھی جوق در جوق ملتے ہیں جنہوں نے اپنی ہی صفوں میں شگاف ڈالے اور سمندرکی طرح بپھرے ہوئے لشکر کو شکست کے منہ میں دھکیل دیا ، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی مرہونِ منت ہماری تاریخ سیاہ ہوچکی ہے اور ہمارے کرداروں ہمیشہ کیلئے مشکوک قرار پاگئے ہیں ، ایسے لوگوں نے نا صرف ہمارے اسلاف کو نقصان پہنچایا بلکہ انکی بھوک آج تک انکے جسموں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور یہ ایسی بھوک ہے کہ جس کا کوئی اختتام دیکھائی نہیں دیتا ۔ وطن عزیز کو موجودہ درپیش مسائل انتہائی درجے کے خطرناک ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ سب سے پہلے تو موجودہ حکومت موروثی سیاست کی اعلی ترین مثال قائم کئے ہوئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکومتی ارکان ملک کا نظم و نسق چلانے نہیں بلکہ اپنے آباءو اجداد کی چھوڑی ہوئی وراثت کو سنبھالنے آئے ہوئے ہیں ۔ اگر یہ موجودہ حکومت عوام کی امنگوں کی ترجمانی کر رہی ہے تو پھر عوام سڑکوں پر کیوں نکل رہی ہے اور کیوں لا محالہ حکومتی ارکان ایسے بیانات دئیے جا رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ یہ بھوکوں کی حکومت ہے اور یہ اپنی بھوک مٹانے کیلئے بھیک مانگنے سے بھی گریز نہیں کرینگے ۔

پاکستان تحریک انصاف کا اب ایک ایسی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے جو ناصرف آپکو حب الوطنی کی طرف بلا رہی ہے بلکہ امت کو یکجاکرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے ۔ سماجی ابلاغ استعمال کرنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف بین الاقوامی سطح پر پاکستانی اور اسلامی پرچم بلند کرنے میں سب سے آگے نکل چکی ہے ۔ اب وہ وقت شروع ہونے والا ہے جب اسلامی عقائد پر قائم مذہبی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف کی حماءت کا باقاعدہ اعلان کرینگی اور عمران خان صاحب کے سچے ہونے کی گواہی دینگی ۔ کیونکہ مسلۃ قومی خودداری سے آگے بڑھ کر ملی خودداری کی جانب پیش قدمی شروع کر چکا ہے ۔ یہاں ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف اسلام کا مقدمہ لڑا جارہا ہے تو دوسری طرف حق خودارادیت کی جنگ بھی چھیڑی جا چکی ہے جس کی حماءت غیر مسلم کر رہے ہیں اور وہ اس بات کی توثیق کر رہے ہیں کہ کسی ملک کے معاملات میں خارجی عمل داری کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہوتی چاہے اسے کسی بھی نام سے رقم کیا جائے ۔ بہت ہی قلیل وقت میں ایک ایسے شخص نے جو سیاست کا طالب علم رہا لیکن اس نے پاکستانی طرز کی سیاست نہیں کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کے آخری شب جب اسے اسکی ایمانداری اور حب الوطنی کی وجہ سے اقتدار سے محروم کیا جارہا تھا ، ہر ایک اس چہرے سے نقاب ڈھلک گئے تھے جو فقط اپنی اپنی ذاتی انا کی خاطر اور سب سے بڑھ کر اپنی بھوک کے ہاتھوں مجبور ہوچکے تھے ۔ مورخین لکھ رہے ہیں کے یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے غلامی کا طوق اپنے ہاتھوں سے گلوں میں پہنا ہے اور انہیں ہاتھوں سے گدائی کا کشکول اٹھایا ہے ، تاریخ انہیں بھی بلکل ویسے ہی معاف نہیں کرے گی جیسے ان سے بیشتر کو نہیں کیا ہے اور یہ لوگ تاریخ کے سیاہ باب کا حصہ بن جائینگے ۔

ابھی تو عام انتخابات کا مطالبہ کیا جارہا ہے جس کیلئے تاخیری ہربے استعمال کئے جارہے ہیں ، کہیں ایسا نا ہوجائے کہ حکومت ِ وقت کا تختہ ہی پلٹ دیا جائے اور حکومت واپس بطور وزیراعظم عمران خان کے حوالے کردی جائے ۔ قدرت کچھ بھی کروانے پر بھرپور قادر ہے اور پاکستان تو ویسے بھی اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے جس کا قیام یقینا ایک عظیم مقصد ہے ۔ اقبال کے شاہین ہی تھے جن کی مرہونِ منت پاکستان کا وجود عمل میں آیا تھا ، اقبال کے شاہین ہیں جنہوں نے ہر برے وقت میں پاکستان کو اپنے پروں پر سنبھالے رکھا اور بس اتنا یاد دلانا چاہتے ہیں کہ شاہین کی ذوق پرواز آج بھی زندہ و جاویداں ہے ۔ یقین سے لکھا جاسکتا ہے کہ تحریک پاکستان کے قائدین آسمان سے تحریک بحالی پاکستان کی بھرپور حماءت کر رہے ہونگے اور رب کے حضور اس تحریک کے روح رواں کی کامیابی کیلئے دعا گو ہونگے ۔ واضح طورپر دیکھا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس کرنے کو کچھ بھی نہیں ہے سوائے اسکے کے اپنی رہی سہی ساکھ بچانے کیلئے انتخابات کرائیں یا پھر اقتدار واپس منتقل کردیں ، کہیں ایسا نا ہوکے راتوں رات وہ دیرینہ نظام نافذ العمل ہوجائے جسکے لئے کرہ ارض کو پاکستان جیسی نعمت سے اللہ پاک نے نوازا ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بُڈّھا کھوسٹ
  • چکن کا رشتہ
  • کلر بلائنڈ
  • سیب، طاقت اور قوت کا خزانہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
آپؐ کے نکاح میں پوشیدہ حکمتیں
پچھلی پوسٹ
کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟

متعلقہ پوسٹس

سوداگر

نومبر 7, 2020

محبت

نومبر 7, 2021

چائے چاہیے ؟؟

جولائی 25, 2022

کئی اسرار ہوتے ہیں

اکتوبر 12, 2025

ملے تھے دشت کئی قہقہہ لگاتے ہوئے

اکتوبر 16, 2025

بیمار شخص کا بھی بھلا کیا وجود ہے

اکتوبر 28, 2020

دنیا میں جینا میرا ابھی سے

مارچ 29, 2025

تلقارمس

جون 9, 2020

ذات کے بعد مکافات میں آ جاتے ہیں

فروری 2, 2020

پنڈ کی دعوت اور ککڑ کی شامت

مئی 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سودا

ستمبر 18, 2022

مجھے یہ بتاؤ زنداں یہاں

مئی 29, 2024

پریشانیاں اور آزمائش اور اس میں...

مارچ 25, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں