103
جو لوگ رہنماؤں کے ہتھے چڑھے رہے
چھوٹی تھی ان سوچ مگر قد بڑے رہے
مجرم نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا
اس کے حمایتی تھے جو ضد پر اڑے رہے
اک رہنما نے وعدہ نبھایا نہیں کوئی
پھر بھی یہ لوگ اس کے ہی پیچھے کھڑے رہے
سچ جانتے تو سب ہیں کوئی بولتا نہیں
سو جھوٹ کے نگینے ہی سچ میں جڑے رہے
صد راہے پر نہیں کوئی منزل کا راستا
ایسی زمین ہم کو ملی تھی پڑے رہے
ہر چند کام وہ تو کسی کے نہ آ سکے
پھر بھی زبان خلق پہ کچے گھڑے رہے
آپس میں مل گئے ہیں کئی رہنما عدید
ان کے لیے دو بھائی لڑے تھے لڑے رہے
سید عدید
