111
نچوڑو گے لہو کتنا کراچی والے تنہا ہیں
تڑپتے ہیں ترستے ہیں سسکتے ہیں یہ بجلی کو
بڑی مشکل سے چلتا ہے غریبی میں یہی پنکھا
اسے بھی چھین کر تم نے دِیا ان کا بجھایا ہے
کبھی پانی کبھی بجلی کبھی ہو گیس کی بندش
یتیمانِ کراچی روئیں تو کس چیز کو روئیں؟؟
کہاں رکھ دیں یہ اپنا سر کہ رنج و غم سنور جائیں
سدا مفلس سدا بے بس سدا تنہا سدا بے بس
مقدر کیا یہی ہوگا کراچی والوں کا اب سے؟؟
زرا سی کوششوں سے کر نہیں سکتے ہیں کیا ہم حل؟؟
قیامت برپا ہے ہم پر قیامت سے زرا پہلے!!
نجاتِ مشکلاں کیسے ہو ممکن خود سے اے لوگوں؟؟
مدد کرتا ہے کس کی کون خود غرضی کے دوراں میں؟؟
نہیں کوئی نہیں ہم کو مدد خود آپ کرنی ہے!
کریں گے دل سے کوشش ہم یہ شہرِ دل ہمارا ہے!
سید محمد وقیع
