103
تن
دل میں ہر آس کی تصویر بنا لیتے ہیں
اور اسے دل میں تڑپنے کی سزا دیتے ہیں
عید
میں تو خوشیوں کی مسرت کی خبر لاتی ہوں
ہاۓ کیوں لوگ مجھے سو کے گنوا دیتے ہیں
مزدور
عید کی چھٹّی ہی ملتی ہے کہ آرام کریں
تو چلو سو کے ذرا عید منا لیتے ہیں
اہلِ فلسطین
کیسے تسکین و مسرت ہو فلسطینی کو
لوگ مرتے ہیں وہ لاشوں کو اٹھا لیتے ہیں
ہم
ایک اک ظلم کی شاہد ہیں ہماری آنکھیں
پوسٹیں دیکھ کے انگلی سے ہٹا دیتے ہیں
یہودی
ہاۓ کیا لوگ ہیں مسلم جو ابھی تک ہیں چپ
خون سے جن کے یہودی بھی کما لیتے ہیں
حساس لوگ
لوگ سمجھے ہمیں بس پاگل و دیوانہ وقیع
چیخ میں ہم تو کئ درد چھپا دیتے ہیں
سید محمد وقیع
