خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباقوم کی توقعات کو قومی توقعات سمجھیں؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

قوم کی توقعات کو قومی توقعات سمجھیں؟

از سائیٹ ایڈمن نومبر 14, 2020
از سائیٹ ایڈمن نومبر 14, 2020 0 تبصرے 56 مناظر
57

قوم کی توقعات کو قومی توقعات سمجھیں؟

ہمیں اپنے آپ کو بے نقاب کرنے کیلئے زیادہ تر کسی ایسے نقاب پر ہاتھ ڈالنا پڑتایا نوچنا پڑتا ہے کہ جس کی بدولت دنیا میں ہماری کوئی پہچان بن جائے۔ یہ طریقہ واردات جدید دور کی ایجاد نہیں بلکہ ہمیشہ کا وطیرہ ہے بس فرق اتنا ہے پہلے وقتوں میں سماجی ابلاغ کے ذرائع حجام کی دکان، پان والے کا کھوکا یا پھر چائے کے ڈھابے ہوا کرتے تھے اور آج سماجی ابلاغ کے ایسے ذرائع ایجاد ہوچکے ہیں کہ لمحوں میں خبر کی تیاری کی خبر، دنیا کے دوسرے کونے میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔

عنوان بظاہر دوحصوں میں تقسیم دیکھائی دے رہا ہے جیسا کہ وقت رواں میں قوم دیکھائی دے رہی ہے، جی ہاں یوں تو قوم کے بے تحاشہ حصے ہوچکے ہیں۔بات کرتے ہیں بنیادی نظریات کی یعنی پاکستان کے وجود میں آنے والے نظریات کیونکہ جب تحریک پاکستان چل رہی تھی تو دو نظرئیے واضح تھے ایک کو ہم دوقومی نظرئیے سے جانتے ہیں اور دوسرا نظریہ تھا لاالہ اللہ۔ اللہ کی مدد سے نظریوں کی جیت ہوگئی اور پاکستان وجود میں آگیا اب یہ نظرئیے پاکستا ن کی آثاث ہیں۔ اب جب کے پاکستان اپنے زمینی وجود میں آچکا، تووہ کون سے نظرئیے طے پائے تھے کہ جن پر چل کر پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا(گوکہ یہ نظریہ ہی کافی تھا)۔ ہم یہ بھی بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ پاکستان کا پہلا آئین 1973 ء میں بنا یہ وہ اہم ترین دستاویز ہے جس کے بغیر ایک دن نہیں چلا جاسکتاتھا اور ہم نے اس اہم ترین کارہائے نمایاں کو سرانجام دینے میں تقریباً ایک نسل پروان چڑھادی (پاکستان دولخت بھی ہوچکا تھا یعنی آئینی طور پر دیکھا جائے تو ہم 1973ء میں آزاد ہوئے)یعنی چھبیس سال لگا دیئے، اب اس سے بڑا سانحہ جو ہوا وہ یہ تھا کہ نفاذ آئین کے سینتالیس سال گزر جانے کے بعد آج بھی یہ آئین نافذ نہیں ہوسکا ہے۔

اس بات کا اندازہ لگانا تاحال ناممکن ہے کہ حالات کی خرابی کے پیچھے درحقیقت کون ہوتا ہے، کون ہوتا ہے جو مجمع میں انتشار پھیلاتا ہے اور کسی ایسے انتہائی اقدام کی طرف اکساتا ہے جس کی وجہ سے املاک کیساتھ ساتھ انسانی جانوں کا بھی نقصان ہوجاتا ہے۔ یوں تو بہت آسانی سے رونماء ہونے والے حادثے یا واقع کی وجہ بیرونی ہاتھ قرار پاتاہے، یہ اور بات ہے کہ بیرونی ہاتھ اب تقریباً واضح ہوچکا ہے جو کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کا ہے۔ زیادہ پریشانی کی بات یہ ہوتی ہے کہ اس بیرونی منشور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جو الہ کار استعمال ہوتے ہیں انکی نشاندہی مشکل ترین کام ہے، لیکن ایسے کسی بھی ہاتھ کا فعل ہونا ہماری صفوں میں خلاء کا ہونا ہے ہمارے اندرونی انتشار کا ہونا ہے کیونکہ دشمن یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ہم ذاتی مفادات کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ یہاں مذکورہ بات کو بین الاقوامی سطح پر بھی دیکھ سکتے ہیں دنیا میں اسلامی ممالک کے درمیان اسلام کیلئے کوئی ایک نکاتی منشور نہیں ہے سب اپنے اپنے خطے پر مبنی معاشی حالات کی پیش نظر تعلقات بناتے اور بگاڑتے ہیں۔ ہم پاکستانیوں کی بد قسمتی ہے کہ ہم کسی بھی موقع پر سیاسی چالوں کہ بیانیوں سے اپنے آپ کو روک نہیں پاتے۔آسان لفظوں میں کہنا ہے کہ ہم جذباتی ہوجاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ کس کے ہم پر (بطور قوم) کتنے احسان ہیں۔ حال ہی میں حکومت کیخلاف جمع ہونے والی ملک کی نامی گرامی سیاسی جماعتوں نے سیاسی انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے ملک کے رکھوالوں اور سہی معنوں میں وطن کے بیٹوں کو جن الفاظ سے پکارا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے، لیکن جذبات کی رو میں بہنے والے بہتے چلے گئے اپنے محسنوں اور دشمنوں میں فرق بھول گئے۔ قوم کا رہنما ء ہونے کا دعوی اس وقت تک بیکار ہے جب تک آپ قوم کے درمیان نہیں ہیں۔

حکومت پہلے دن سے اپنے ایک نکاتی منشور پر کاربند ہے اور تقریباً حکومت کا حصہ بننے والے بھی اس ایک نکاتی یعنی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ہلکی یا پرزور آواز بننے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔اس بات سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ مہنگائی کسی کے قابو میں آنے کو تیار نہیں ہے یہاں ایک وضاحت کرتے چلیں کہ مہنگائی کی ایک بنیادی وجہ حکومت کا متعلقہ اداروں کو امداد (سبسڈی)دینے سے انکار بھی ہے حکومت کا موقف ہے کہ ملک کے قرضے اتاریں یا نا اہل اداروں کی امداد کریں۔اب وہ وقت دور نہیں دیکھائی دے رہا کہ جب اس بے تحاشہ مہنگائی کی وجوہات بھی عوام کے سامنے آنا شروع ہونے والی ہیں اور حکومت کی مخالفت میں نکلنے والے دراصل یہی لوگ ہیں۔ جیساکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب بذات خود ہر اول دستے کی طرح ان چوروں اور لٹیروں کے پیچھے ہیں اور وہ عزم جو انہوں نے تحریک انصاف بناتے ہوئے کیا کہ اپنی آخری سانس تک ملک و قوم کو ان چوروں اور لٹیروں سے نجات دلانے کی کوشش کرتا رہونگا،کے لئے کمر بستہ ہیں۔ کیا دیکھنے والے یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ وزیر اعظم نے اپنے سب سے عزیز ترین قریبی ساتھی جہانگیر ترین صاحب کیساتھ بھی وہی کیاجو انہیں کسی اور کیساتھ کرنا تھا۔

ملک و قوم خصوصاًگزشتہ دو دہائیوں سے انتہائی زبوں حالی کا شکار رہے ہیں، ادارے تنزلی کی گہرائی کو چھوتے دیکھائی دے رہے ہیں لیکن ملک کی باگ دوڑ چلانے والوں کے اثاثوں میں ہوشرباء اضافے ہوتے چلے گئے لیکن کسی کی مجال نہیں تھی کے کوئی اس بارے میں سوال تو کر لے (لیکن چوروں اور لٹیروں کی چیخ پکار بھی اس سے پہلے ایسی نہیں سنی ہوگی) اب جب سوال کیا جا رہا ہے تو اس دور کے سارے حکمران حکومت مخالف تحریکیں چلا رہے ہیں۔ آپ کو اجازت ہے کہ شخصی اختلاف کرلیں لیکن کیا نظریاتی اختلاف اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ملک و قوم کی دولت پر مزے کرنے والوں کا ساتھ دیں۔ یہ سوال ہر خاص و عام کیلئے ہے اور خصوصی طور پر انکے لئے جو تھوڑا بہت شعور کیساتھ پاکستان سے سچی محبت کرتے ہیں۔ یہ لوگ ان اداروں کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں کہ جن کی وجہ سے آج وطن عزیز بہت سارے ایسے بحرانوں سے بچا ہوا کہ جن کی منہ بولتی تصویریں ہمارے آس پاس کے ممالک ہیں۔ جہاں حکومت وقت کا ہر کارندہ اپنے اپنے اداروں کی درستگی میں مصروف ہے اور وہ اپنے رہنماء کو اپنے ادارے کی بہترین کارگزاری پیش کرنے کی ہر ممکن کوششوں میں مصروف ہے وہیں خان صاحب عالمی امن کیلئے،اسلام کی سربلندی کیلئے،مسلمانوں کے مساوی حقوق کیلئے اورہر قسم کے منفی نشر و اشاعت کی روک تھام کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

پاکستانی عوام کی توقعات کو آج تک کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی یہ ملک سے محبت کے جذبے سے سرشار قوم، ملک پر پڑنے والے ہر مشکل وقت میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہوئی لیکن کبھی بھی کوئی سیاستدان اس قوم کی توقعات پر پورانہیں اتر سکا باحالت مجبوری یا سیاسی رہنماؤں کی سازشوں سے اس قوم کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا گیا اور اپنے ذاتی مفادوں کے حصول کیلئے استعما ل کرنا شروع کردیا گیا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم ان توقعات سے بہت اچھی طرح سے واقف ہیں تب ہی تو ان توقعات کو قومی توقعات بنایا گیا ہے اور ان توقعات کی تکمیل کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنے کی کوششوں میں سرگرم عمل ہیں، آپ دیکھ لیں یہ وہ وزیر اعظم ہے جو اپنے ملک میں رہتے ہوئے ملک کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، عوام میں موجود رہنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کیونکہ خان صاحب جانتے ہیں کہ عوام کی توقعات ہی قومی تواقعات ہوتی ہیں۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کوئی تھا نہ ہے نہ ہوگا
  • خاموشی بھی موت ہوتی ہے
  • رشید حسرتؔ
  • زبان کے زخم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تحفظ ناموس رسالتؐ اور رعب مسلم
پچھلی پوسٹ
فرصت کہاں خطوط پڑھوں آج پیار سے

متعلقہ پوسٹس

کرفیو کا ایک سال

اگست 11, 2020

شب ہجراں 

فروری 16, 2020

کتبہ

دسمبر 6, 2019

فطرت کے توازن میں ایک مکمل وجود

مئی 13, 2025

کہانی لکھوں

مئی 11, 2024

اتحاد امت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا...

فروری 22, 2026

ایک باپ بکاؤ ہے

مارچ 29, 2020

کرونا کی وبا: کیا حکومتی اعداد و شمار صحیح ہیں؟

اپریل 6, 2020

ایک دن میں قید۔۔۔حضرت اقبالؒ

نومبر 12, 2021

گل بانو اور فائزہ کی دوستی

اپریل 1, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جو خوشبوؤں سے غلط فائدہ اٹھاتا...

نومبر 11, 2025

پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا...

نومبر 23, 2019

راجندر بیدی کے اسلوب

دسمبر 18, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں