125
سخن جو خود سے کِیا تیرے رُو برو کرتے
اگر وہ چاند سرِ آسماں نظر آتا
چراغ ہم بھی کوئی نذرِ آب جُو کرتے
میانِ دشتِ یقین و گماں رہے ورنہ
سراب دیکھنے والے تو ہا ہُو کرتے
عجب مزاج تھا اپنا کہ گھر میں بیٹھے رہے
کچھ اَور سوچتے، کچھ اَور جستجو کرتے
وہ دل کا داغ تھا غائر سو دل کے ساتھ گیا
وہ کوئی زخم نہیں تھا کہ ہم رفو کرتے
کاشف حسین غائر
